Monday, 20 March 2017

ہم شکل

گزشتہ روز آفس کے کولیگز کے ساتھ لنچ کا پروگرام بن گیا - جیسا کہ ایسے مواقع پر اکثر ہوا کرتا ہے کہ وینیو چننا ہی ایک مشکل امر بن جاتا ہے، خیر کافی سوچ بچار کے بعد قرعہ ایف ٹن مرکز کے نام نکلا - کھانا کھانے کے بعد ایک دوست کو سوڈا پینے کی طلب محسوس ہوئی - ایف ٹن مرکز میں کھانا چاہے جیسا بھی ملتا ہو ، سوڈا کافی اچھا مل جاتا ہے - سو ہم نے کار ایک سوڈا بیچنے والے کی دکان کے سامنے روکی اور سوڈا کا آرڈر دیا - اسی اثنا میں ایک ایک کر کے مختلف مانگنے والے کار کے گرد جمع ہونے لگے ، کسی کا کچھ عذر اور کسی کا کچھ - ایک دو کو ہم نے تھوڑے بہت پیسے دئیے اور کچھ کو پیار سے یا ڈانٹ کر بھگا دیا -

کچھ دیر بعد ہی سوڈے والے نے سوڈا کار میں سرو کر دیا ، ابھی ہم سوڈا پی ہی رہے تھے کہ مخصوص حلیے والے ایک عمر رسیدہ پیشہ ور بھکاری  نے ہماری کار کا شیشہ کھٹکھٹایا - میرے سینئر جو کہ کافی نرم دل کے مالک ہیں اور بہت جلدی کسی کی بھی کہانی سن کر متاثر ہو جاتے ہیں ، انہوں نے ان بھکاری صاحب کی بزرگی دیکھتے ہوئے شیشہ نیچے کیا اور ان کی بات سننے لگے -

آپ میں سے جو لوگ اکثر ایف ٹین مرکز جاتے رہتے ہیں ، وہ غالباً ان  مخصوص حلیے والے بھکاری صاحب سے واقف ہوں  گے - یہ جناب ایف ٹین مرکز میں عرصہ دراز سے براجمان ہیں اور شروع سے مانگنے کا ہی کام کرتے ہیں - ان کے بال اسی دشت کی سیاحی میں سفید ہوئے ہیں ، چہرے پر موجود جھریاں ان کی  اپنی فیلڈ میں تجربے کی گواہ ہیں - ایک ہی کہانی بیس سال سے سنا کر لوگوں سے پیسے وصول کر لینا ،ان کی تجربہ کاری کا ہی مظہر ہے - اچھے خاصے لوگ ان کی کئی بار کی سنی کہانی سن کر بھی پھر سے اعتبار کرتے ہیں اور پیسے پکڑا دیتے ہیں - شاید اس کی وجہ یہ بھی ٹھہری ہو کہ ہم میں سے اکثر جس بات پر یقین کرنا چاہتے ہیں ، اس پر اگر مگر چونکہ چنانچہ کیے بنا ہی یقین کرنے پر اپنے دل کو مجبور پاتے ہیں -

تمہید باندھتے باندھتے بات کہاں سے کہاں نکل گئی - خیر پیشہ ور بھکاری صاحب نے اپنا تعارف دلگیر لہجے میں کرایا اور گھر میں راشن نہ ہونے کی کہانی کو ہمارے سینئر کے گوش گزار کر دیا - ہمارے سینئر ٹھہرے  سادہ بندے ، کھٹ سے ایک سو کا نوٹ نکال کر ان کی نذر کیا - سرخ پتی اپنے ہاتھ میں دیکھ کر بھکاری صاحب وجد میں آ گئے ، دعاؤں کے ساتھ سینئر کو تولتے ہوئے مزید کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی ساتھ مذہب کا کارڈ بھی کھیل ڈالا - سینئر بھائی نے بھکاری صاحب کوپھیلتا دیکھ کر پیچھا چھڑوانے کی کوشش کی مگر اب تیر کمان سے نکل چکا تھا - بات صرف مانگنے سے آگے نکل کر یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ سب بھکاری ایک جیسے نہیں ہوتے ، مجھے یہاں سب جانتے ہیں ، اس لیے میں ہی سچا ہوں - اور وہ جو نیلا نوٹ بٹوے میں رکھا ہے ، وہ لیے بنا تو اب میں ٹلنے والا نہیں - مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق سینئر بھائی نے مزید ڈیڑھ سو روپے بھکاری صاحب کی خدمت میں پیش کیے اور جان چھوڑنے کی استدعا کی - ہمارا خیال تھا کہ اب تو جان چھٹ ہی جائے گی مگر حیرت انگیز طور پر بھکاری صاحب ابھی بھی ٹلنے کو تیار نہ تھے اور بار بار الله رسول کا حوالہ دے کر نیلے نوٹ کے حصول کے لیے سرگرداں تھے - اپنے سینئر کو اس دگرگوں صورتحال میں دیکھ کر میں نے ہی بھکاری صاحب کو شٹ اپ کال دینے کا سوچا - قصہ مختصر یہ کہ میں نے سینئر بھائی سے معاملات ٹیک اوور کیے اور تھوڑے بہت بول بلارے کے بعد بھکاری صاحب جھکتے بکتے اگلی کار کی طرف روانہ ہو گئے - انھیں جاتے دیکھ کر ہمارے سینئر نے سکھ کا سانس لیا اور ہمارا شکریہ ادا کیا - یوں ہم لوٹ کر واپس آفس آ گئے -

پیشہ ور بھکاری صاحب تو چلے گئے مگر مجھے جانے کیوں وہ جانے پہچانے سے محسوس ہو رہے تھے ، دماغ پر کافی زور ڈالنے کے بعد بھی یاد نہ آیا کہ ایسا کیوں محسوس ہو رہا ہے - خیر میں نے اس خیال کو دماغ سے جھٹک دیا اور اپنے معمولات میں مصروف ہو گیا - مگر آج صبح کے اخبار میں ایک پیشہ ور صحافی کا کالم پڑھ کر ذہن میں جیسے ایک جھماکہ ہوا اور تصویر واضح ہوتی چلی گئی - یہ ادراک ہوا کہ لازم نہیں کہ لوگ صرف ملتی جلتی شکلوں کی وجہ سے ہی ہم شکل محسوس ہوں ، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے منسلک بہت سے لوگ اپنی ایک سی خصلتوں سے بھی ایک دوسرے کی یاد دلایا کرتے ہیں -

Tuesday, 25 October 2016

لہو لہو انقلاب

پاکستان کے سوشل میڈیا پر شام کے جنگ زدہ علاقوں اور جنگ سے متاثرہ لوگوں کی حالت زار کو آشکار کرتی تصاویر کا ایک ڈھیر روزانہ شیئر کیا جاتا ہے - پھر حسب منشا اپنے اپنے ممدوح کی تعریف اور مخالف پر تبرا کیا جاتا ہے - مگر ایک بات جو ہر ایک بہت ہی آسانی کے ساتھ نظر انداز کر جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اس صورت حال میں سب سے زیادہ نقصان میں صرف اور صرف شام کی عام عوام ہے - اس بلا کی گرمی میں اپنے ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر سوشل میڈیائی محاذ گرمانا شاید دورحاضر کا سب سے آسان اور دلچسپ مشغلہ بن چکا ہے - خونی انقلاب کی بات کرنا ، نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر نئے سرے سے بہتر نظام کو نافذ کرنا ، آر یا پار ہو جانے کی باتیں کرنا ، جذباتی نعرے ، مسلح جدوجہد سے رومانویت کشید کرنا ، معاشرتی برائیوں کا رونا روتے روتے معاشرے کے باغی بننے کا عزم کرنا ، ریاستی اداروں کا باغی بن جانے کا نعرہ بلند کرنا ، یہ سب باتیں سوشل میڈیا پر عام لوگوں کو اپنی طرف بہت زیادہ کھینچتی ہیں - ایسی باتیں کہنے اور لکھنے سے آپ کی واہ واہ ہوتی ہے ، داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے جاتے ہیں ، آپ کی بہادری اور آہنی عزم کو سراہا بھی جاتا ہے - مگر ان باتوں کا سرور  کسی بھی نشہ آور شئے کے استعمال سے مختلف نہیں ہوتا ، کیونکہ جب نشہ اترتا ہے تو گرد و پیش کے حالات اور اپنی حالت زار کا اندازہ ہوتا ہے - یہی حال ایسی جذباتی باتوں پر عمل کرنے والوں کا بھی ہوتا ہے -

پچھلے ماہ ترکی جانا ہوا ، زیادہ دن قیام ترکی کے سیاحتی دارالحکومت استنبول میں رہا - استنبول کا یورپی حصہ تقریباً پورا سال دنیا بھر کے سیاحوں سے کھچا کھچ بھرا رہتا ہے - استنبول کے یورپی حصے میں ہی تقسیم اسکوائر ہے ، جس کے ارد گرد بےتحاشا ہوٹل ہیں اور یہیں استنبول کا شانزے لیزے استقلال سٹریٹ بھی ہے - میرا قیام بھی تقسیم اسکوائر کے پاس ہی تھا پہلے دن ہوٹل سے نکلتے ہی دو کم عمر بچوں سے واسطہ پڑا ، عمر یہی کوئی بارہ سے پندرہ سال کے درمیان ہو گی - دونوں بچے عربی میں بولتے ہوئے کچھ کہہ رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ اشارے بھی کر رہے تھے ، انکی زبان سمجھنا کچھ مشکل تھا مگر اشاروں کی زبان سے یہ سمجھنا چنداں مشکل نہ تھا کہ وہ کم عمر بھکاری تھے - جیسے ہی ان بچوں کو بھگتا کر تھوڑا آگے آیا تو ایک ترک بھاگتا ہوا میرے پاس آیا اور ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ بچے ترک نہیں ہیں بلکہ یہ شامی پناہ گزین ہیں جو کہ شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے ترکی میں آ گئے ہیں - یہ میرا شامی پناہ گزینوں سے پہلا انٹر ایکشن تھا - اسکے بعد تو جب بھی ہوٹل سے باہر نکلتے ، انھی بچوں اور کچھ شامی خواتین سے سامنا ہوتا - یہ بچے مین روڈز سے پرے ذیلی سڑکوں پر موجود ہوتے تھے اور سیاحوں سے ہی مانگتے تھے - لکھتے ہوئے قلم کانپتا ہے مگر ان گنہگار آنکھوں نے یہ بھی دیکھا کہ کئی جواں سال شامی لڑکیاں استنبول کی گلیوں میں اپنی عصمت چند یوروز کے عوض بیچنے پر مجبور ہو چکی ہیں - یہ سب دیکھ کر ایک لحظے کو دل کانپ گیا تھا کہ یا الہی ان بیچاروں کا کیا قصور تھا کہ یہ سزا ملی - نا زمین اپنی نا آسمان اپنا ، تن پر موجود کپڑوں کے علاوہ کچھ ملکیت  نہیں ، سر پر چھت نہیں، دو وقت کی روٹی کے لیے بھیک مانگنے اور عزت نیلام کرنے پر مجبور ہیں - اس لمحے میں اپنے سوشل میڈیائی انقلابی بہت یاد آئے ، جو ہر وقت خونی انقلاب کی باتیں کرتے ہیں ، ریاستی اداروں کو مفلوج کرنے کی باتیں کرتے ہیں - ایسی باتوں میں بہت رومانس ہے ، مگر یہ سب رومانس صرف باتوں تک ہی محدود ہوتا ہے ، جیسے ہی انقلاب کے ان نعروں پر عمل درآمد شروع کیا جائے ، نسلیں برباد ہو جاتی ہیں - شہر کے شہر تخت و تاراج ہو جاتے ہیں - بچے دوسرے ملکوں میں بھیک مانگتے اور عورتیں عصمت فروشی کرتی نظر آتی ہیں - افغانستان سے لے کر شام تک یہی ایک کہانی بار بار دوہرائی گئی ہے اور نجانے کتنی بار دوہرائی جائے گی -

میرا سوال ہمارے جذباتی انقلاب پسندوں سے صرف یہ ہے کہ کیا وہ انقلاب کی یہ قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں ؟ اور انقلاب بھی ایسا جو محض ایک سراب ہے ، جس کا کچھ  حاصل وصول نہیں - کیا ایسے شارٹ ٹرم خونی انقلاب کی ناکام کوشش جو حالات کو پہلے سے بھی کئی گنا خراب کر دے ، جو نسلیں برباد کر دے ، جو ملک کے ملک تاراج کر دے - کیا اس سے بہتر نہیں کہ خاموشی کے ساتھ موجودہ نظام میں رہتے ہوئے ذہن سازی کی جائے ، لوگوں کو تعلیم دی جائے - اس طریقے سے شاید نظام بدلتے ہوئے سو سال لگ جایئں مگر آپ کے بچے کسی ہمسایہ ملک میں بھیک نہیں مانگیں گے ، آپ کی عورتوں کو چوراہوں پر اپنی عزتیں نیلام نہیں کرنی پڑیں گی - کیا ایسا کچھوے کی رفتار سے آتا ہوا خاموش کامیاب انقلاب کسی خرگوش کی سی تیزی سے آتے ہوئے شور شرابے سے بھرپور ناکام انقلاب سے ہزار گنا بہتر نہیں ؟

Sunday, 10 July 2016

نامعلوم

شام ہونے کو ہے ، جیسے جیسے اندھیرا پھیلے گا ، لوگ اپنے گھروں سے نکل آئیں گے اور آس پاس والوں سے گپ شپ لگانا شروع کر دیں گے کہ یہی روز کا معمول ہے - روز شام کو گھر کی چوکھٹ پر آ براجمان ہوئے ، یا بہت ہو گیا تو کالونی میں تھوڑی بہت چہل قدمی کر لی، مگر صبح کی روشنی پھیلنے سے پہلے گھر میں واپس جانا لازم ہے کہ یہی کالونی کا اصول ہے جسے توڑنے کی کسی کو اجازت نہیں - کچھ گھروں کے مکینوں کو توکسی وقت بھی گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہے ، بلکہ یہاں کے پرانے مکین ان گھروں کے پاس بھی جانے سے ہمیں منع کرتے ہیں کہ یہ لوگ اچھے نہیں ہیں - ہماری کالونی بہت پرسکون اور سرسبز ہے ، کسی قسم کی کوئی بدنظمی نہیں ، کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ، شاید یہی وجہ ہے کہ ہماری کالونی میں گھروں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے - 

میں نے جب سے آنکھ کھولی ہے، اپنے آپ کو اسی کالونی میں اسی گھر میں پایا ہے - میرے گھر کا دروازہ دیکھ کر محسوس ہوتا ہےکہ بہت چھوٹا سا گھر ہے، مگر اندر داخل ہوں تو اُسکی وسعت کا صحیح معنوں میں اندازہ ہوتا ہے، گھٹن کا احساس تک نہیں ہے ، ہوادار اور روشن - غالباً اس کالونی کا اصول ہے کہ ایک گھر میں ایک ہی مکین رہ سکتا ہے ، تبھی کسی گھر میں ایک سے زائد لوگ  نہیں رہتے -  کالونی کے اصول کے تحت ہر گھر کے باہر نام کی تختی لگانا ضروری ہے ، تاکہ کسی کو گھر ڈھونڈنے میں تکلیف نہ ہو -

میرا نام عبد الجلیل ہے ، سچ بتاؤں تو مجھے اپنا نام نہیں معلوم تھا ، مگر جب سے ہوش سنبھالا ہے ، گھر کی دہلیز پر اسی نام کی تختی پائی ہے اور آس پاس کے لوگ بھی اسی نام سے پکارتے ہیں - ہر کچھ دن بعد کوئی نہ کوئی دن کی روشنی میں میرے گھر کی دہلیز پر آن کھڑا ہوتا ہے ،ان میں سے کچھ لوگوں کی ہلکی آواز میں رونے کی آواز بھی آتی ہے ، بار بار میرا نام لیتے ہیں ، میرے لیے دعا کرتے ہیں - اکثر اوقات مجھے ہنسی آ جاتی ہے کہ جتنی آسائش میں میری زندگی ہے ، اس کا باہر کھڑے لوگوں کو کیا پتا - دن کے وقت آنے والوں میں ایک بہت ضعیف سی آواز اکثر سنائی دیتی ہے جو لرزتے ہوئے بار بار میرے لیے دعا کرتی ہے - میرا بہت دل چاہتا ہے کہ اس آواز کے مالک سے ایک بار مل کر اسے بتا سکوں کہ میں کتنے آرام سے ہوں یہاں ، اور وہ میری اتنی فکر نہ کریں - بار بار سوچنے کے باوجود مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں ان لوگوں سے کبھی بھی ملا ہوں کہ نہیں - عجب بات ہے کہ وہ میرے لیے فکر کرتے رہتے ہیں جبکہ مجھے ان کا اتا پتا ہی معلوم نہیں - کبھی رات کے وقت میرے گھر ان میں سے کوئی آئے تو میں باہر نکل کر پوچھ ہی لوں ، مگر یہ سب دن کی روشنی میں آتے ہیں جب ہمیں گھر سے نکلنے کی اجازت ہی نہیں -

میرے دائیں طرف جنید کا گھر ہے ، بہت اچھا لڑکا ہے - ہر وقت ہنستا ہنساتا رہتا ہے - اس کو الله کا کلام بھی پورا زبانی یاد ہے ، کبھی کبھی وہ اتنی خوش الحانی سے تلاوت کرتا ہے کہ دل چاہتا ہے کہ بندہ سنتا ہی رہے - میرے بائیں طرف کا پلاٹ ابھی تک خالی ہے - پیچھے کی طرف شاہد نامی لڑکے کا گھر ہے ، وہ خاموش طبع ہے اس لیے اس سے زیادہ بات نہیں ہوتی - 

اس دن صبح سے ہی کھدائی اور تعمیر کی آوازیں آنا شروع ہو گئی تھیں ، اندازہ ہوا کہ شاید میرے بائیں طرف کا پلاٹ بھی آباد ہونے کو ہے - چلو اچھا ہے اب میرے دونوں طرف رونق ہو جائے گی ، میں نے سوچا - جانے نیا مکین کیسا ہو گا ، الله کرے خوش مزاج بندہ ہو، شام کا انتظار کرنا مشکل ہو رہا تھا - الله الله کر کے شام ہوئی ، میں گھر سے باہر آیا ، جنید مجھ سے بھی پہلے ہی باہر نکل کر بیٹھا ہوا تھا - نئے گھر کے باہر تختی لگ چکی تھی ، نام البتہ عجیب سا تھا ، "نامعلوم" - ہم بہت دیر انتظار کرتے رہے مگر نیا مکین باہر نہ آیا - رات گہری ہوئی تو اس کے گھر میں سے کراہنے کی آوازیں آنے لگیں ، جنید خوفزدہ ہو گیا اور بولا کہ کہیں یہ ویسے مکینوں جیسا تو نہیں جنھیں اپنے گھر سے باہر آنے کی اجازت ہی نہیں کالونی انتظامیہ کی جانب سے - سچ بولوں تو مجھے بھی ایسا ہی محسوس ہوا - ہم دونوں خوف کے مارے روشنی ہونے سے پہلے ہی اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے -

دن چڑھا اور گزر بھی گیا - شام آئی تو میرا گھر سے نکلنے کا دل ہی نہیں کر رہا تھا ، مگر پھر جی کڑا کر کے گھر سے نکل ہی آیا - باہر  نکلا تو نئے گھر کا مکین گھر کے دروازے کی چوکھٹ پر ہی بیٹھا تھا - اسے دیکھ کر دل کو ڈھارس بندھی کہ کم از کم یہ ان برے مکینوں میں سے تو نہیں جن کے گھروں کے پاس جانے سے ہمیں منع کیا جاتا ہے - میں نے اس سے بات شروع کی تو وہ بس خالی نظروں سے مجھے دیکھتا رہا ، میری کسی بات کا اس نے جواب ہی نہ دیا - بات چیت میں ناکامی کے بعد میں بھی خاموش ہو گیا - کافی دیر بیٹھے رہنے کے بعد وہ واپس اپنے گھر چلا گیا - میں جنید کے ساتھ بیٹھا رہا ، پھر روشنی ہونے سے کچھ دیر پہلے میں بھی اپنے گھر چلا گیا -

اگلی شام میں باہر نکلا اور اردگرد نظر دوڑائی تو بہت کم لوگ ابھی اپنے گھروں سے نکلے تھے - "نامعلوم" بھی ابھی تک باہر نہ نکلا تھا ، مجھے اس سے بات کرنے کا تجسس تھا اس لیے میں اس کے انتظار میں بیٹھ گیا - کچھ دیر گزری تو وہ بھی باہر آ گیا - میں نے اسے سلام کیا تو اس نے جواب دیا ، آج وہ کافی بہتر لگ رہا تھا - ہم دونوں کو باتیں کرتے دیکھ کر جنید بھی ہمارے پاس آ گیا - عجب بات یہ تھی کہ "نامعلوم" بار بار کسی کو یاد کر کے روتا تھا ، ہم نے اسے سمجھایا بھی کہ بھائی یہاں تو ہم سب اکیلے اکیلے ہی ہیں ، اور ہمارے جاننے والے بس ہمارے ہمسائے ہی ہیں - مگر وہ بار بار کسی "ماں" کا ذکر کر کے رونا شروع کر دیتا - مجھے اور جنید کو تو کچھ سمجھ نہ آ رہی تھی کہ رشتے کیا ہوتے ہیں اور "ماں " کون ہے ، مگر "نامعلوم" کو افسردہ دیکھ کر پوچھنے کی ہمت نہ ہوئی -

کافی عرصہ گزر گیا مگر "نامعلوم" کی کفیت میں کوئی تبدیلی نہ آئی - ایک شام ہم ساتھ بیٹھے ہوئے تھے تو میں نے "نامعلوم" سے پوچھا کہ دوست یہاں میں نے کسی ایسے بندے کو اداس نہیں دیکھا جسے گھر سے باہر آنے کی اجازت ہو ، گھر سے باہر نہ آ پانے والوں کی بات البتہ کچھ اور ہے ، آخر ماجرا کیا ہے - "نامعلوم " ٹھنڈی سانس لے کر گویا ہوا ، "اب مجھے یہاں کافی عرصہ گزر گیا ہے اور میں کالونی کے اصول و ضوابط بھی سمجھ گیا ہوں ، آپ لوگوں کی زندگی پر رشک آتا ہے - کاش میری زندگی بھی آپ جیسی ہوتی ، مگر ایسا ہے نہیں - آپ لوگوں کو یاد ہی نہیں کہ ہم سب کا ماضی بھی ہے جسے ہم پیچھے چھوڑ کر یہاں تک آئے ہیں - میرا بھی ماضی ہے جس کی یاد عذاب ہے - شاید اسی لیے یہاں اچھے لوگوں کی یاداشت سے ان کے ماضی کو مٹا دیا جاتا ہے تاکہ وہ ہر رشتے ہر یاد کو بھول کر بس اسی زندگی میں مشغول رہیں -جو لوگ برے ہوتے ہیں ، ان کا ماضی انھیں یاد رہتا ہے اور انھیں ان کے گھروں سے بھی نکلنے کی اجازت ہیں ہوتی - میرا قصہ کچھ یوں ہے کہ اپنی ماں کی اکلوتی اولاد تھا ، انتہائی بگڑا ہوا اور خودسر تھا - بلاوجہ کی ضد کرنا اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر ماں سے بدتمیزی کرنا روز کا معمول تھا - اس دن بھی میں ماں سے لڑا تھا اور غصے میں آ کر اپنا گھر اور شہر چھوڑ کر دوسرے شہر چلا گیا تھا - ریلوے سٹیشن سے نکل کر سڑک پار کرتے ہوئے ایک تیز رفتار گاڑی سے ٹکر ہو گئی - آنکھ کھلی تو خود کو یہاں اس کالونی میں اس گھر میں پایا - یہاں اتنا اندھیرا تھا کہ ڈر کے مارے میری جان نکل رہی تھی ، مجھے اپنی ماں کی شدید یاد آ رہی تھی ، میں ماں کے پاس واپس جانا چاہتا تھا ، اس سے معافی مانگنا چاہتا تھا مگر میں ہل ہی نہیں پا رہا تھا - پھر اچانک گھر کی دیواریں سمٹنا شروع ہو گئیں ، میری ہڈیاں کڑکنے لگیں ، درد کا وہ عالم تھا کہ بیان سے باہر ہے - اسی کفیت میں تھا کہ مجھے اچانک اپنی ماں کی آواز آئی ، "یا الله ، میرا بیٹا جہاں بھی ہے ، اسے اپنے حفظ و امان میں رکھنا ، میں اس سے راضی ہوں " - بس اسکے بعد میرے گھر کی دیواریں وسیع ہو گئیں ، گھر میں روشنی بھی ہو گئی اور مجھے شام کو گھر سے باہر جانے کی اجازت بھی مل گئی - سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے مگر دن رات یہی کسک ہوتی ہے کہ کاش کسی طرح ایک بار ماں کے پاس جا کر اس سے معافی مانگ لوں ، شاید اس طرح مجھے بھی یہاں کے باقی مکینوں کی طرح اپنا ماضی بھول جائے - مگر شاید یہی میری سزا ہے جو مجھے تا قیامت بھگتنی ہے- ستم تو یہ ہے کہ میری ماں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ میں کسی دوسرے شہر میں اس گھر میں رہتا ہوں، اگر اسے پتا ہوتا تو وہ میرے اس گھر کو دیکھنے تو ضرور آتی "- یہ سب سناتے سناتے "نامعلوم" سسکنے لگا - میں اور جنید اس کی کہانی میں محو ہو گئے تھے - ہم نے اپنی یاداشت کو ٹٹولا مگر ہمیں کسی ماضی ، کسی رشتے ، کسی ماں کی یاد کا شائبہ تک نہ ہوا - شاید یہی الله کا انعام تھا کہ اگر ہمارا کوئی ماضی تھا بھی سہی تو وہ ہماری یاداشت میں نہ تھا - روشنی ہونے کو تھی ، میں اور جنید "نامعلوم" کی کہانی پر افسوس کرتے ہوئے اپنے اپنیے گھروں کو چلے گئے -

بچپن سے بڑے بوڑھوں سے سنتے آئے ہیں کہ مغرب کے بعد اندھیرا پھیلتے ہی قبرستانوں میں روحیں چہل قدمی کرنے لگتی ہیں ، اس لیے اندھیرے میں وہاں جانا مناسب نہیں - الله جانے کتنا سچ ہے اور کتنا جھوٹ -  

Tuesday, 8 March 2016

مکالمہ

بہت ظلم ہوا ہے ، ان کا قصور نہیں تھا ، ان کو ورغلایا گیا تھا ، ان کی برین واشنگ کی گئی تھی - انہوں نے تو اپنی طرف سے ٹھیک قدم اٹھایا تھا ، ان کو برا مت کہو - برے صرف وہ ہیں جنہوں نے ان کے جذبات ابھار کر ان سے یہ کام کرا لیا - ان کی اپنی نیت تو پاک صاف تھی -

مگر دوست یہ بات کچھ پلے نہیں پڑھ رہی ، ایک جوان جہاں عاقل بالغ شخص کیسے بہکاوے میں آ گیا ؟ اور اگر کسی کی باتوں میں آ بھی گیا تھا تو ایسا انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے کچھ اپنی عقل سے  سوچنا تو چاہیے تھا نا -

یار جب بات عقیدے پر آ جاتی ہے تو بندہ ایسے ہی جذباتی ہو جاتا ہے ، ان کو تو بس یہی بتایا گیا تھا نا  کہ فلاں نے ایسی نیچ حرکت کی ہے - اب خون تو جوش مارتا ہے ایسی بات سن کر  - چلو انھیں عمر قید دے دیتی عدالت مگر پھانسی کی کیا تک بنتی تھی -

میرے دوست ، خودکش بمبار تیار کرنے  والے بھی ایسی ہی بات کرتے ہیں - خود کش حملے کرنے والوں کا بھی ایسے ہی برین واش کیا جاتا ہے - انھیں بھی یہی بتایا جاتا ہے کہ عقیدہ خطرے ہیں ہے ، فلاں اور فلاں عقیدے کے لیے خطرہ ہیں ، اس خطرے کو ختم کر دو - کیا آپ ان خودکش بمباروں کو بھی جذباتی کہیں گے ؟ کیا آپ خودکش بمباروں کے لیے بھی دل میں نرم گوشہ  رکھیں  گے ، کیا  انھیں بھی ایک موقع ملنا چاہیے کہ انکا عمل تو بس عقیدے کے لیے ہی تھا ، بس یہ کہ انھیں کسی نے غلط پٹی پڑھا دی -

کیا بات کر رہے ہو یار ، کہاں خود کش بمبار دہشتگرد ، کہاں ان کا عمل - دونوں میں کوئی مماثلث نہیں ، عجیب بات کرتے ہو آپ - کن جانوروں کو کس ہستی سے ملا رہے ہو - خودکش بمباروں کو تو جنازہ بھی نصیب نہیں ہوتا جبکہ یہاں تو پورا شہر امڈ آیا تھا جنازے پر -

دوست اگر اپنی دلیل بارے خود ہی سوچیں تو دونوں میں کوئی فرق نہیں ریاست کی نظر میں - دونوں ہی قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کر رہے تھے ، ریاست کی رٹ کو چیلنج کر رہے تھے  - دونوں کا انجام ایک سا ہی ہونا تھا کہ قانون تو سب کے لیے ایک سا ہے -

یہ قانون یہ عدالتیں یہ حکومت سب غلام ہیں - بہت زیادتی کی ہے انہوں نے ، اور اگر تم یہ بات سمجھنے سے قاصر ہو تو برائے مہربانی مجھے معاف کرو - میں اس بحث میں پڑ کر اپنی عاقبت نہیں خراب کرنا چاہتا - مجھے تو تم سے دوستی برقراررکھتے ہوئے بھی اپنا ایمان خطرے میں نظر آتا ہے - آئندہ مجھ سے بات مت کرنا - والسلام

Wednesday, 10 February 2016

خودکشی

دو ستمبر 2015

پاکستان کے سب اخبارات کے پہلے صفحے پر سرخی لگی کہ کراچی میں سولہ سالہ اسکول کے بچے نے اپنی پندرہ سالہ محبوبہ کو گولی مار کر خود بھی جان دے دی - وجہ یہ معلوم ہوئی کہ لڑکے کے گھر والے لڑکی سے اسکی شادی کرنے پر راضی نہ تھے سو لڑکا لڑکی کو بچھڑنے سے زیادہ آسان جان دینا محسوس ہوا - یہ  خبر پڑھ کر لوگوں نے مختلف تبصرے کیے - ایک تبصرہ یہ سنا کہ کیا زمانہ آ گیا ہے ، پہلے زمانے میں تو ایسا نہ ہوتا تھا - یہ تبصرہ سن کر ماضی کے کچھ تلخ واقعات یاد آ گئے کہ زمانہ شاید ازل سے ایسا ہی تھا اور ابد تک غالباً ایسا ہی رہے گا -

دو تلخ واقعات اور ان کی کوکھ سے جنم لیتے ان گنت سوالات - قریب پندرہ سال کا عرصہ بیت جانے کے بعد سوچتا ہوں کہ  قلم بند کر کے قارئین کی نظر کروں، شاید کوئی شافی جواب مل سکے - واقعات سے جڑے نام بوجوہ تبدیل کر دئیے ہیں کہ بہت سے کردار آج بھی حیات ہیں - 


********************************************

نام : جہانداد کھیتران
عمر : بیس سال (1981 - 2001)
پروفیشن : طالبعلم 

کھیتران صاحب سرکاری افسر تھے اور اپنے قبیلے کے سردار بھی - نوکری کی ضرورت چنداں نہیں تھی مگر اپنی تعلیم کو استعمال میں لانے کے متمنی تھے - کھیتران صاحب، نفیسہ بیگم اور تین بچے، یہی کل کائنات تھی اس خاندان کی - جہانداد بچوں میں سب سے چھوٹا تھا اور اسی بنا پر ماں کا لاڈلہ بھی تھا - جانتا تھا کہ ماں اسکی کوئی فرمائش ٹال نہیں سکتی، اسی لیے کئی بار ماں کی اس کمزوری کا فائدہ بھی اٹھاتا تھا - وقت گزرتا گیا اور جہانداد بیس سال کا ہو گیا، بات اب چھوٹی چھوٹی فرمائیشوں سے کچھ آگے بڑھ چکی تھی -

"امی مجھے ستارہ سے شادی کرنی ہے، آپ ابو سے کہیں نا" جہانداد تقریباً ایک ہفتے سے روزانہ ہی اپنی ماں کے کان کھا رہا تھا - ماں ہنس کر بات ٹال دیتی تھی - "بچہ ہے، ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے، شادی گڈے گڑیا کا کھیل تھوڑا ہی ہے جو ایسی باتوں پر کان دھرے جایئں" دل ہی دل میں ماں سوچتی - دن گذرتے گئے ماں کو اس معاملے پر بالکل بھی توجہ نہ دیتا دیکھ کر جہانداد کے لہجے میں تلخی آنا شروع ہو گئی - جہانداد کو زندگی میں پہلی بار اونچی آواز میں بات کرتے دیکھ کر ماں دہل گئی، بات ضد کی حدود سے آگے نکل چکی تھی - "اگر اس کے باپ کو پتا چل گیا تو قیامت ہی آ جائے گی"، ماں نے سوچا - دھانسو بیوروکریٹ اور اپنے قبیلے کے  سردار بھی، کھیتران صاحب کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی نگاہ سے والے مقولے پر عمل کرتے تھے -

ماں نے سمجھانے کی کوشش کی مگر جہانداد کے سر پر عشق کا بھوت سوار ہو چکا تھا - گھر میں جہانداد کا رویہ دن بدن روکھا ہوتا جا رہا تھا - ایک دن کھانے کی ٹیبل پر پورا خاندان ساتھ بیٹھا تھا تو باپ نے پوچھ ہی لیا - "جہانداد پتر، تو آج کل بہت اکھڑا اکھڑا رہتا ہے، سب خیر تو ہے نہ" - جہانداد نے فوراً ہی کہہ دیا کہ ماں سے پوچھ لیں ان کو سب پتا ہے - ماں تو مانو ایسے ہو گئی جیسے گونگے کا گڑ کھا لیا ہو - "ہاں بھئی نفیسہ، کیا مسئلہ ہے ہمارے پتر کا"، کھیتران صاحب نے بیوی سے پوچھا - "کچھ نہیں، بس ایسے ہی فضول ضد کر رہا ہے، میں سمجھا دوں گی"، ماں نے دھیمی آواز میں کہا - "امی یہ فضول ضد نہیں ہے، میں دو ماہ سے آپ سے کہہ رہا ہوں کہ میں ستارہ سے ہی شادی کروں گا"، جہانداد چلایا - جہانداد کی بات سن کر کھیتران صاحب ہنس پڑے، ان کی ہنسی سب کے لیے ہی ایک سرپرائز تھی - سب خاموش ہو کر کھیتران صاحب کی طرف دیکھنے لگے - سب کو اپنی طرف متوجہ پا کر کھیتران صاحب بولے، "میاں صاحب زادے پہلے زمین سے اگ تو لو، اس کے بعد عاشقی واشقی کے بارے میں سوچنا - اپنی پڑھائی پر توجہ دو، پہلے کچھ بن جاؤ پھر شادی کی بات ہو گی" - نفیسہ کو ایسا محسوس ہوا کہ طوفان ساحل کو چھو کر واپس چلا گیا ہے اور باپ نے شاید صورتحال کو ٹھیک سے ہینڈل کر لیا ہے، مگر یہ ان کی غلط فہمی تھی -

رات کو کھیتران صاحب نے نفیسہ کو کہا کہ بیٹے کے دماغ سے عشق کا خناس خود ہی نکال دو تو بہتر ورنہ جس طریقے سے میں نکالوں گا وہ شاید گھر میں کسی کو پسند نہ آئے - نفیسہ نے جہانداد کو بہت سمجھایا مگر وہ جو کہتے ہیں کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں کی دوا، کچھ ایسا ہی جہانداد کے ساتھ بھی ہوا - جہانداد کی تعلیم الگ متاثر ہو رہی تھی - گھر کی فضا میں بھی عجیب سی کشیدگی در آئی تھی - کھیتران صاحب جہانداد سے کلام کرنا قریب قریب چھوڑ چکے تھے - کچھ ماہ ایسے ہی گزرے اور پھر جہانداد نے اپنے والد کے ساتھ بھی اونچی آواز میں بات کرنا شروع کر دی - باپ نے اونچ نیچ سمجھائی ، قبیلے کے رسوم و رواج کا بتایا، یہ بھی سمجھایا کہ اس گھرانے کی لڑکی کا ہمارے گھر میں ایڈجسٹ ہونا بہت مشکل ہے، سب سے بڑھ کر جہانداد کی کم عمری اور نامکمل تعلیم - مگر جہانداد نے یہ سب باتیں اپنی ماں سے سن کر بھی کوئی اثر نہ لیا تھا، سو اپنی ضد پر اڑا رہا -

اتوار کا دن تھا، سب ناشتے کے لیے ٹیبل پر بیٹھے تھے - اچانک جہانداد نے سب کو مخاطب کر کے کہا، "اگر آپ لوگ میرا رشتہ لے کر ستارہ کے گھر نہ گئے تو میں نہر میں کود کر اپنی جان دے دوں گا" کھیتران صاحب نے غصے سے کہا، "میاں وہ لوگ ہی اور ہوتے ہیں جو جان دیتے ہیں، جا بیٹا شاباش کود جا نہر میں، اتنی ہمت ہی نہیں ہے تیرے میں، یہ گیدڑ بھبکیاں کسی اور کو دینا، میں باپ ہوں تیرا" - جہانداد غصے سے ناشتے کی ٹیبل سے اٹھا اور گھر سے باہر چلا گیا - بڑے بھائی نے پیچھے جانے کی کوشش کی تو کھیتران صاحب نے سختی سے منع کر دیا اور کہا، "جانے دو، خود ہی واپس آ جائے گا تھوڑی دیر تک -"

ایک گھنٹہ گزرا ہو گا کہ بھائی کا سیل فون بجا، سنا تو پریشان ہو گیا - جہانداد کے دوست کی کال تھی، اس نے بتایا کہ جہانداد نہر کے پل پر کھڑا ہے اور دوست کے کہنے کے باوجود بھی پیچھے نہیں ہٹ رہا - دوست نے کہا کہ "بھائی آپ اور انکل فوراً نہر پر آ جایئں، ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہو جائے" - بھائی نے فوراً کھیتران صاحب کو صورتحال سے آگاہ کیا اور دونوں باپ بیٹا سرپٹ کار چلاتے ہوئے  نہر کے پل کی طرف روانہ ہو گئے - وہاں پہنچے تو دیکھا کہ جہانداد پل کی ریلنگ پکڑے کھڑا تھا - باپ کو دیکھتے ہی جہانداد بولا، "ابو آپ نے کہا تھا نہ کہ وہ لوگ ہی اور ہوتے ہیں جو جان دیتے ہیں - آج میں آپ کو غلط ثابت کر دوں گا" - کھیتران صاحب کے رہے سہے اوسان بھی خطا ہو گئے، بولے "بیٹا تم ریلنگ سے اترو تو بیٹھ کر بات کرتے ہیں، مسئلے کا حل نکالتے ہیں" - جہانداد نے جواب دیا، "ابو اب بات کرنے کا وقت گیا، مجھے پتا ہے آپ کبھی نہیں مانیں گے - اب بس آپ مجھے یاد کر کے ساری زندگی رونا" - یہ کہہ کر جہانداد نے پل سے نہر کےعین درمیان چھلانگ لگا دی - کھیتران صاحب یہ دیکھ کر صدمے سے زمین پر گر گئے - جہانداد کے بھائی نے اسے بچانے کے لیے چھلانگ لگانے کی کوشش کی تو جہانداد کے دوست نے اسے بڑی مشکل سے روکا کہ وہ تیرنا نہیں جانتا تھا - تین دن بعد جہانداد کی لاش پل سے آٹھ کلومیٹر آگے ملی - ایک بیس سالہ لڑکا جس نے ابھی ٹھیک سے  دنیا بھی نہ دیکھی تھی ، اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی کا چراغ گل کر گیا -


********************************************

 نام : نیاز ٹوانہ 
عمر : اکتیس سال (1970 -2001)
پروفیشن : سرکاری ملازم 


"ابا ابا میں نے ایف ایس سی بہت اچھے نمبروں سے پاس کر لی"، نیاز چلاتا ہوا گھر میں داخل ہوا - "او نیازیا تجھے پتا بھی ہے کہ مجھے یہ کٹ مٹ سمجھ نہیں آتی، سیدھی طرح یہ بتا کہ کتنی جماعتیں پاس کر لیں تو نے"، باپ نے پوچھا - "ابا بارہ جماعتیں"، نیاز نے کہا - "چل پھر اتنی پڑھائی بہت ہے، اب میرے اور اپنے بھائیوں کے ساتھ زمین سنبھال"، باپ نے کہا - "ابّا میں آگے پڑھنا چاہتا ہوں، مجھے آگے پڑھنے دیں"، نیاز منمنایا - "پتر تو اتنا پڑھ لکھ کر کیا کرے گا، کرنی تو تو نے وائی بیجی ہی ہے، زیادہ پڑھ کر تو تو میرے ہاتھوں سے بھی نکل جائے گا، شہر جا کر نوکری ڈھونڈ لے گا، ایسی پڑھائی کا ہمیں کیا فائدہ"، ابا نے سنجیدگی سے کہا - "ابّا میں پڑھ لکھ کر جہاں بھی نوکری کروں گا، رہوں گا تو آپ کا فرماں بردار بیٹا ہی نا، آپ بس مجھے آگے پڑھنے دیں"، نیاز نے لاڈ سے کہا - "اچھا پتر تو پڑھ لے، میں ہی ہار مان لیتا ہوں"، ابا نے سر جھکاتے ہوئے کہا - شکریہ ابا کہتے ہوئے نیاز باپ سے لپٹ گیا -

وقت کا پہیہ گھومتا رہا، بی ایس سی کے بعد نیاز نےیونیورسٹی میں ایڈمشن لیا اور ایم ایس سی کیمسٹری میں گولڈ میڈل حاصل کیا - ایم ایس سی کرنے کے بعد مختلف سرکاری ملازمتوں کے لیے اپلائی کیا اور گاؤں واپس آ کر انٹرویو کال کا انتظار کرنے لگا - نیاز کے باپ کو آس پاس کے لوگ کہتے رہتے تھے کہ منڈا پڑھ لکھ کر ہاتھ سے نکل گیا ہے مگر نیاز کا باپ ہمیشہ یہی کہتا تھا کہ نیاز جتنا مرضی پڑھ لکھ جائے، رہے گا میرا فرماں بردار بیٹا ہی - مختلف اداروں میں انٹرویو دینے کے بعد نیاز کو ایک وفاقی ادارے میں نوکری مل گئی، نوکری بھی گریڈ سترہ کی - جب اس کا اپائنٹمنٹ لیٹر گھر آیا تو اسکی خوشی دیدنی تھی، البتہ اس کے ماں باپ پریشان ہو گئے - ماں تو بیٹے کے دور جانے پر افسردہ تھی مگر باپ اس وجہ سے پریشان تھا کہ نیاز اپنی عملی زندگی گاؤں سے دور شروع کرے گا تو دھیرے دھیرے گاؤں سے اسکا تعلق کمزور ہوتے ہوتے بالکل ٹوٹ جائے گا - باپ کو نیاز اپنے سب بچوں میں سب سے زیادہ پیارا تھا ، اس کا اس طرح گاؤں سے دور ہو جانا اور مستقبل میں گاؤں سے اسکا تعلق ٹوٹ جانے کا خیال ہی باپ کے لیے سوہان روح تھا - دل پر پتھر رکھ کر ماں باپ نے نیاز کو نوکری کرنے کی اجازت دے دی اور اس طرح نیاز شہر منتقل ہو گیا -

شہر نیاز کے لیے کوئی نئی جگہ نہ تھی، دوران تعلیم بھی نیاز شہر میں رہتا تھا - مگر مالی طور پر باپ پر انحصار کرتے ہوئے طالب علم کی حثیت سے شہر میں رہنے اور ملازمت کرتے ہوئے مالی خودمختاری کے ساتھ شہر میں رہنے میں زمین آسمان کا فرق تھا - اسے آفیسرز کالونی میں بیچلر آفیسرز ہوسٹل میں کمرہ بھی مل گیا - دوران تعلیم تواس نے سوائے پڑھائی کے کسی طرف دھیان نہ دیا تھا، مگر اب اس کے پاس شام کو آفس سے واپسی کے بعد وقت ہی وقت تھا، سو اس نے آفیسرز کلب جوائن کر لیا اور شام میں ٹیبل ٹینس اور بیڈ منٹن کھیلنا شروع کیا - ہوسٹل میں مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے آفیسرز نیاز کے ساتھ رہتے تھے، جن سے میل ملاپ کے بعد نیاز کا طرز زندگی تبدیل ہوتا جا رہا تھا -


شہر منتقل ہونے کے بعد نیاز جب پہلی بار چھٹی پر گاؤں آیا تو ماں باپ دونوں نے ہی کہا کہ نیاز تو بہت بدل گیا ہے - نیاز نے یہ بات ہنسی میں اڑا دی اور ماں باپ کو شہر اور نوکری کے قصے مزے لے لے کر سناتا رہا - چھٹی ختم ہونے پر نیاز تو واپس شہر چلا گیا مگر باپ کو گہری سوچ میں مبتلا کر گیا -


پانچ سال گزر گئے، وقت کے ساتھ ساتھ نیاز کا گاؤں آنا جانا کم ہو گیا - پہلے دو ماہ میں ایک بار گاؤں آیا کرتا تھا، مگر اب تو چھ چھ ماہ تک گاؤں کا رخ نہیں کرتا تھا - شہر کی زندگی میں جذب ہونے کے بعد گاؤں میں رہنا اسے مشکل لگتا تھا - نیاز کا باپ یہ سب دیکھ رہا تھا اسی لیے اس نے ایک بڑا فیصلہ کر لیا - اس بار نیاز گاؤں آیا تو باپ نے اسے شام کو پاس بیٹھا کر کہا "پتر تو تیس سال کا ہو گیا ہے، سوچتا ہوں تیری شادی کر دوں، تیرے چاچے کی لڑکی مجھے اور تیری ماں کو تیرے لیے پسند ہے - میں نے تیرے چاچے سے بات بھی کر لی ہے - بس اگلی بار جب تو آئے گا تو تیرے نام کی مندری لڑکی کو ڈال دیں گے" - نیاز کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اسکا کا باپ یہ بات چھیڑے گا - اس نے کہا "ابا کوثر تو بالکل انپڑھ ہے، وہ شہر میں میرے  ساتھ کیسے گزارا کرے گی، میرا اور اس کا مزاج بہت مختلف ہے، ہمارا شادی کے بعد نباہ ہونا بہت مشکل ہے" - ابا نے غصے سے کہا، "نیازیا پنڈ کے سب لوگ مجھے  کہتے تھے کہ پڑھ لکھ کر نیاز کا دماغ خراب ہو جائے گا اور وہ ایک دن تیرے سامنے کھڑا ہو جائے گا، میں نے ہمیشہ یہی کہا کہ میرا نیاز ایسا نہیں، وہ کبھی میرے سامنے چوں بھی نہیں کرے گا - مگر آج تو نے پنڈ کے لوگوں کو سچا اور مجھے جھوٹا ثابت کر دیا - جا چلا جا یہاں سے، اور مجھے شکل تبھی دکھانا جب تو اس شادی پر راضی ہو" - "ابا آپ میری بات تو سنیں، مجھے آپ کی مرضی سے شادی کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے ، مگر کم از کم لڑکی تو کوئی ایسی چنیں جو میرے ساتھ چل سکے" - "لڑکی میں نے چن لی ہے نیاز، اور تیرے چاچے کو زبان بھی دے دی ہے، اب میں اپنی زبان سے پھر نہیں سکتا - شادی تو تیری چاچے کے گھر ہی ہو گی"، نیاز کے باپ نے سختی سے کہا - "اچھا ابا مجھے سوچنے کا موقع دیں، میں آپ کو کچھ دن میں جواب دوں گا"، نیاز بولا - "نیاز پتر، ہاں کے علاوہ کوئی جواب قبول نہیں ہو گا"، باپ نے کہا، "تو شہر جا اور اچھی طرح سوچ سمجھ کر جواب دینا -"

"یار نیاز، جب سے تم گاؤں سے آئے ہو، کافی پریشان ہو، سب خیریت تو ہے نا،" آفس کی لنچ بریک میں نیاز کے کولیگ نے پوچھا - "بس یار سب ٹھیک ہی ہے، ایک گھریلو مسئلے میں پھنسا ہوں"، نیاز نے جواب دیا - "یار میں تمہارا دوست ہوں، مجھے بتاؤ شاید میں کوئی صلاح دے سکوں"، کولیگ بولا - "یار خالد، بات یہ ہے کہ گھر والے میری شادی کرنا چاہتے ہیں اور میں راضی نہیں" - "اوہو یار ایسا کیوں، کیا تمہیں کوئی اور لڑکی پسند ہے؟" خالد نے سوال کیا - "نہیں یار، بات کسی اور کو پسند کرنے کی نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ گاؤں کی جس لڑکی سے میرے گھر والے شادی کرنا چاہتے ہیں وہ بالکل انپڑھ ہے ، ہمارا گاؤں اتنا پسماندہ ہے کہ وہاں ابھی تک خواتین بھی دھوتی پہنتی ہیں ، ایسی لڑکی کیا میرے ساتھ شہر میں ایڈجسٹ ہو پائے گی ؟ کیا وہ میرے آفس کولیگز کی بیویوں کے ساتھ میل جول رکھ پائے گی ؟ بس یہی سوال مجھے اندر ہی اندر کھائے جا رہا ہے"، نیاز نے کہا - "اوہ، یہ تو بہت ہی گھمبیر مسئلہ ہے، واقعی تمہاری زندگی تو جہنم بن جائے گی، لائف پارٹنر کا ہم مزاج ہونا بہت ضروری ہے کامیاب شادی کے لیے، میرا خیال ہے کہ تم اپنے گھر والوں کو راضی کرنے کی کوشش کرو کہ وہ چاہے اپنی مرضی سے مگر کسی پڑھی لکھی لڑکی کے ساتھ تمہاری شادی کر دیں، اگر گھر والے تم سے پیار کرتے ہیں تو وہ تمہاری بات سمجھ لیں گے"، خالد بولا - لنچ بریک ختم ہونے پر بات آئی گئی ہو گئی مگر نیاز کا ذہن ان امکانات پر سوچنے لگا -

"ابا میں بہت سوچنے کے بعد اس فیصلے پر پہنچا ہوں کہ میں کوثر سے شادی نہیں کر سکتا"، چھٹی پر گاؤں آنے کے بعد نیاز نے اپنے باپ سے دو ٹوک لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا - "آپ اپنی مرضی سے میرے لیے لڑکی تلاش کریں، مجھے کوئی اعتراض نہیں، مگر لڑکی پڑھی لکھی ہونی چاہیے جو میری ذہنی سوچ سے مطابقت رکھتی ہو اور جسے شہر لے جاتے ہوئے مجھے کوئی شرمندگی نہ ہو، میں کسی گنوار انپڑھ لڑکی سے آپ کے کہنے پر شادی کر بھی لوں تو ساری زندگی نبھا نہ کر پاؤں گا، اس لیے بہتر ہے کہ میں کوثر سے شادی نہ ہی کروں، اس کے جوڑ کے بہت مل جایئں گے گاؤں میں ہی، آپ مجھے اپنی انا پر قربان مت کریں ابا"، نیاز نے التجا کی - "اوئے نیازیا، تو چاہتا ہے کہ میں اپنی زبان سے پھر جاؤں ، او بڈھے ویلے میرے سر اچ کھے پایئں گا تو، میں نے تیرے چاچے کو زبان دی ہے، اب تیری شادی یہیں ہو گی بس، سچ کہتے ہیں سیانے، تعلیم اولاد کو ماں باپ کا نافرمان بنا دیتی ہے، میری ہی مت ماری گئی تھی جو تجھے اتنا پڑھایا لکھایا - جا دفع ہو جا یہاں سے، نکل میرے گھر سے، اب واپس تبھی آنا جب تو اس شادی پر راضی ہو" - باپ نے یہ کہتے ہوئے نیاز کو گھر سے نکال کر دروازہ بند کر دیا - نیاز باہر کھڑا باپ کو آوازیں دیتا رہا مگر باپ نے دروازہ نہ کھولا، ماں نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی تو اسے بھی سختی سے منع کر دیا - نیاز بہت دیر تک دروازے پر کھڑا رہا اور پھر شہر واپس چلا گیا -

ہوسٹل واپس آ کر وہ پوری رات سوچتا رہا، کوئی راستہ سجھائی ہی نہ دیتا تھا ، ایک طرف باپ کی شفقت اور لاڈ پیار یاد آتے تھے، دوسری طرف اپنی نوکری اور شہری زندگی - کبھی خیال آتا کہ نوکری چھوڑ کر واپس گاؤں چلا جائے، جب گاؤں میں ہی رہے گا تو شاید اسکی کوثر سے ذہنی مطابقت ہو ہی جائے، مگر اگلے ہی لمحے اپنے روشن مستقبل اور شہری سہولتوں کا خیال آتا تو دماغ پھر سے بغاوت پر آمادہ نظر آتا -  سوچوں کے بھنور میں پھنسے اسے صبح ہو گئی اور آخر کار وہ ایک فیصلے پر پہنچ ہی گیا -

"کل نیاز کی چھٹی ختم ہو گئی تھی، وہ آج آفس نہیں آیا، کیا وہ گاؤں سے واپس نہیں آیا؟" خالد نے لنچ بریک میں دوسرے کولیگ سے پوچھا - "مجھے تو کوئی پتا نہیں، اسے دیکھا نہیں ہے ہوسٹل میں بھی"، کولیگ نے جواب دیا - "چلو شام کو ہوسٹل جا کر دیکھتے ہیں، شاید آج واپس آ گیا ہو"، خالد بولا - شام کو ہوسٹل میں خالد نے نیاز کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا تو کوئی جواب نہ ملا - البتہ ایک غیر مانوس سی بو کمرے سے آتی محسوس ہوئی جسے خالد نے زیادہ اہمیت نہ دی - اگلی صبح نیاز  کے ساتھ والے کمرے کے مکین نے ہوسٹل ایڈمنسٹریشن کو شکایت کی کہ نیاز کے کمرے سے شدید بدبو آ رہی ہے، ہوسٹل ایڈمن نے اضافی چابی سے دروازہ کھولا تو سامنے ہی کرسی پر نیاز کی لاش پڑی تھی، نیاز کی کنپٹی پر گولی کا نشان تھا، زمین پر ریوالور پڑا تھا - کمرے میں خون اور شدید بو پھیلی ہوئی تھی، محسوس ہوتا تھا کہ نیاز کو خود کشی کیے ایک دو دن سے زیادہ ہو چکے ہیں - سامنے ٹیبل پر نیاز کا لکھا ایک خط پڑا تھا جو کہ اس کے باپ کے نام تھا - خط کے مندرجات کچھ یوں تھے -


"ابا، میں نافرمان نہیں ہوں، بس یہ ہےکہ جو زندگی آپ میرے لیے منتخب کر رہے ہیں، اسے گزار پانے کا حوصلہ میں اپنے اندر نہیں پاتا - آپ کی نافرمانی کرنے یا آپ کا حکم ماننے سے زیادہ آسان میں اپنی جان دینے کو پاتا ہوں، سو جان دے رہا ہوں - آپ کا فرمانبردار بیٹا، نیاز -"


********************************************


ایسا کیوں ہوتا ہے کہ انسان سوچ کی اس نہج پر پہنچ جاتا ہے کہ اسے زندہ رہنے سے آسان اپنے ہاتھ سے اپنی جان لے لینا لگتا ہے - لوگ کہتے ہیں کہ خودکشی بزدل کرتے ہیں، مگر خود اپنی جان اپنے ہاتھوں لینا کسی بزدل انسان کے لیے ممکن نہیں - شاید اس سوال کا کوئی آسان جواب نہیں - شاید انسان اپنے رویوں میں تھوڑی لچک پیدا کریں اور دوسروں کی زندگیوں کے فیصلے خود کرنے کی بجائے جن کی زندگی ہے، انکی بات کو بھی اہمیت دیں تو بہتری آئے -  دوسری طرف اگر دوسروں کی مناسب اور مستحسن بات کو سمجھنے اور اختیار کرنے کی کوشش کی جائے تو بھی بات بن سکتی ہے - لیکن اگر سوچوں پر تالے لگے رہیں اور فیصلوں کے بوجھ تلے زندگی اتنی مشکل اور کٹھن  ہو جائے کہ دل و دماغ موت میں ہی عافیت ڈھونڈیں تو پھر خودکشی آسان آپشن لگتی ہے -

یہ سب کچھ لکھ ڈالنے کے باوجود میں یہ سوچ رہا ہوں کہ لوگ خودکشی کیوں کرتے ہیں ؟ آپ بھی سوچئے - 

Sunday, 8 November 2015

ڈاکٹر پتر

وہ پنجاب کے ایک دورافتادہ گاؤں کا رہنے والا تھا - پڑھائی کی طرف رجحان تھا سو گاؤں کے چھوٹے سے ٹاٹ اسکول بہت شوق سے تعلیم حاصل کرنے جایا کرتا تھا - باپ خود تو کسان تھا مگر بیٹے کا پڑھنے لکھنے کا شوق اسے بھی بھاتا تھا - شاید میری اگلی نسل پچھلی نسل سے آگے بڑھ جائے پڑھ لکھ کر ، دل ہی دل میں سوچتا اور بیٹے کی حوصلہ افزائی کرتا - وہ دس سال کا تھا جب اس کے چاچا کا گاؤں کے ایک معمولی جھگڑے میں سر پھٹ گیا - علاقے کا اکلوتا ہیلتھ یونٹ کسی بھی ڈاکٹر سے محروم تھا سو چاچا کو سر پر ٹانکے لگوانے تیس کلومیٹر دور بڑے قصبے کی ڈسپنسری لے جانا پڑا - اس واقعے نے اس کے دل پر گہرا اثر کیا اور اس نے دل ہی دل میں عہد کیا کہ وہ بڑا ہو کر ڈاکٹر بنے گا اور اپنے گاؤں کے ہیلتھ یونٹ میں ہی کام کرے گا -

وقت گزرتا گیا ، گاؤں کے اسکول سے پرائمری تک پڑھا، پھر اپنے گاؤں سے کچھ دور موجود بڑے گاؤں کے اسکول سے میٹرک کا امتحان بہت ہی اچھےنمبروں  سے پاس کیا- ایف ایس سی میں داخلے کے لیے موجود قریب ترین کالج بھی گاؤں سے تیس  کلو میٹر دور تھا اور اس کالج کا کوئی ہوسٹل بھی نہیں تھا - یہاں اس کے باپ نے اسکی مدد کی اور پیسے جوڑ کر اسے سائیکل دلا دی تاکہ روز کالج آ جا سکے - ایف ایس سی میں اس نے پری میڈیکل مضامین کا انتخاب کیا کہ اسے خود سے کیا گیا عہد خوب یاد تھا - دو سال روزانہ صبح اٹھ کر تیس کلو میٹر سائیکل چلا کر کالج جانا اور سہ پہر کو واپس آنا اتنا آسان نہ تھا اوراس پر مستزاد یہ کہ  میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے میرٹ بنانا بھی جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا - مگر اس کی لگن نے اسے تھکنے نہ دیا - دو سال بعد پہلے ایف ایس سی کا نتیجہ شاندار اور پھر انٹری ٹیسٹ بھی کلئیرکرتا ہوا وہ میڈیکل کالج میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو ہی گیا -

لاہور، اپنے آپ میں ایک الگ ہی دنیا ہے یہ شہر بھی - سچ کہتے ہیں کہ چھوٹے شہروں ، قصبوں اور دیہاتوں سے آنے والے اس شہر کی چکا چوند میں گم ہو کر واپسی کا راستہ بھول جاتے ہیں - سروسز انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز لاہور میں اس کا ایڈمشن ہوئے یہ دوسرا ہفتہ تھا - وہ ابھی اس نئے ماحول میں ایڈجسٹ نہ ہو پایا تھا - اتنے بڑے شہر میں وہ اپنے آپ کو اور اپنے گاؤں کو بہت ہی چھوٹا محسوس کرتا تھا - شروع کے کچھ ہفتے تو وہ ہوسٹل سے کالج اور کالج سے ہوسٹل کے علاوہ کہیں نہ جاتا کہ اسے اس شہر کی بھیڑ سے خوف آتا تھا - پھر آہستہ آہستہ وہ اس شہر اور اس کے ماحول کا عادی ہونے لگا - اس نے اپنے ارد گرد کا باریک بینی سے جائزہ لینا شروع کیا ، دوست یار بنانے شروع کیے ، باہر گھومنا پھرنا شروع کیا - کچھ ہی عرصے میں اس میں کافی تبدیلی آ گئی ، اس کا خود پر اعتماد بڑھ گیا اور وہ اپنی کلاس کے طالب علموں میں بھی نمایاں ہونے لگا - ایک دن وہ علی الصبح کالج کے ساتھ  ہی موجود ریس کورس پارک  میں صبح کی سیر کے لیے گیا ، واپسی پر دوسری طرف کے گیٹ سے نکلا تو عجب منظر دیکھا - قطار میں شاندار بنگلے تھے ، تقریباً ہر بنگلے کے باہر ڈرائیو وے پر کاریں کھڑی تھیں اور باوردی ڈرائیور حضرات تندہی سے کاریں دھونے میں مصروف تھے - یہ منظر اس کی نظر میں کھب سا گیا - کالج جا کر ایک دوست سے اس بارے پوچھا تو پتا چلا کہ وہ جی او آر ون ہے ، اعلیٰ سرکاری افسران کی کالونی ، پھر ٹیچر کلاس میں آ گیا اور بات ختم ہو گئی مگر اس کے دل میں کھدبد لگی رہی - میڈیکل کی پڑھائی اتنی آسان نہ تھی ، یہ بات اسے پہلے چھ ماہ میں ہی اچھے طریقے سے سمجھ آ چکی تھی - وہ بدل رہا تھا، اسکی سوچ بدل رہی تھی مگر شاید خود اسے بھی ابھی اس بات کا ادراک نہ تھا -

چار سال بیت گئے تھے - ایک اور سال کی پڑھائی ، ہاؤس جاب اور پھر وہ ڈاکٹر بن جاتا - مگر ان چار سالوں نے اسے بدل دیا تھا - شاید شہر میں رہ کر وہ بھی مادیت پسند ہو گیا تھا - اپنے سینئرز کا حال وہ دیکھ چکا تھا ، ہاؤس جاب کے بعد کیسے دھکے کھا رہے تھے ان میں سے اکثر - جن کے ماں باپ کے پاس پیسا تھا وہ باہر اسپیشلائیزیشن کے لیے جا رہے تھے ، کچھ مختلف سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں نوکریاں کر رہے تھے - جتنی محنت اور وقت ڈاکٹری پڑھتے ہوئے لگتا ہے ، اس کا عشر عشیر بھی نہیں ملتا نوکری کرتے وقت - یہ سب دیکھ کر وہ مخمصے میں پڑ چکا تھا - گاؤں کے ہیلتھ یونٹ کو آباد کرنے کا سوچتا تو دماغ تاویلیں دیتا کہ اس ہیلتھ یونٹ میں تو کوئی سرکاری ڈاکٹر ہی آ کر بیٹھے گا ، خدا جانے مجھے سرکاری نوکری ملے نہ ملے - اب بنا اپا ئینٹمنٹ کے خود سے جا کر تو ہیلتھ یونٹ میں نہیں بیٹھ سکتا نا ، یہ نامناسب بات ہو گی اور خلاف قانون بھی - وہ اپنے آپ کو مطمئن کر چکا تھا کہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد اس کا واپس گاؤں نہ جانا ایک درست اوربہتر فیصلہ ہے -

اب اگر میڈیکل پریکٹس نہیں کرنی ہاؤس جاب کے بعد تو پھر کیا کرنا ہے ، اس بارے میں وہ جب بھی سوچتا تو اس کے ذہن میں جی او آر ون کے بنگلے ، ڈرائیو وے میں کھڑی کاریں اور ان کاروں کو دھوتے باوردی ڈرائیور آ جاتے اور وہ مقابلے کے امتحان میں بیٹھنے کے بارے میں سوچنے لگتا جسے پاس کر کے وہ یہ سب حاصل کر سکتا تھا - اسے محسوس ہوتا کہ اس طرح اسے وہ لائف سٹائل مل سکتا ہے جوپچھلے تین سال سے اس کے ذہن میں ایسا کھبا ہے کہ اس کے علاوہ کچھ سجھائی ہی نہیں دیتا - بنگلہ ، نوکر ، ڈرائیور ، گاڑی اور افسری ، یہ موجیں اسے میڈیکل پروفیشن میں اگلے پندرہ سال بھی نہ ملنے والی تھیں -

ہاؤس جاب تمام ہو چکی تھی - وہ اپنے گھر والوں کو بھی اپنا ارادہ بتا چکا تھا کہ وہ مقابلے کے امتحان میں بیٹھنے جا رہا ہے - اس کے باپ نے اس سے کہا بھی کہ پتر گاؤں واپس آ جا ، ہم گاؤں والوں کو آج بھی علاج کرانے تیس کلومیٹر دور جانا پڑتا ہے ، مگر اس نے دلائل دے کر باپ کو خاموش کرا دیا - یہ پہاڑ سر کرنے کے بعد اس نے جان لگا کر مقابلے کے امتحان کی تیاری شروع کی - محنتی تو شروع سے ہی تھا ، کامیاب کیسے نہ ہوتا - پہلی ہی کوشش میں تحریری امتحان اور انٹرویو دونوں میں کامران ٹھہرا - میرٹ لسٹ کے مطابق اس کا نام انکم ٹیکس گروپ میں آیا تھا ، یہ فیلڈ اس کی سابقہ تعلیم سے متعلق نہ تھی مگر اسے یقین تھا کہ ایک سال کی ٹریننگ میں وہ نئے پروفیشن کے اسرار و رموز سے بخوبی واقف ہو جائے گا -

آج اس نے اسلام آباد میں اپنا آفس جوائن کرنا تھا - مارے خوشی کے اس کے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے - وہ اپنے خوابوں کی تکمیل کے پہلے زینے پر قدم رکھ چکا تھا - اپنے خیالوں میں گم آفس کے لیے نکلتے ہوئے وہ اپنا موبائل فون فلیٹ میں ہی بھول آیا - آفس میں پہلا دن لوگوں سے ملتے اور کام کو سمجھتے گزر گیا - شام پانچ پجے وہ فلیٹ واپس آیا اور موبائل فون اٹھایا تو دیکھا کہ گاؤں سے اس کے باپ کی دس سے زیادہ مسڈ کالز آ چکی ہیں - اس نے سوچا کہ باپ بھی آفس کے پہلے دن کا حال احوال پوچھنے کے لیے بیتاب ہو گا - فوراً باپ کو فون ملایا - کال ملتے ہی کہا کہ ابا بہت اچھا دن گزرا ، میں بہت خوش ہوں ، سوچتا ہوں بالکل صحیح فیصلہ کیا میڈیکل پروفیشن چھوڑ کر سی ایس ایس کرنے کا - باپ نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا ، پتر خوش بعد میں ہو لینا ، فوراً چھٹی لے کر گاؤں آ جا - اس نے حیرانی سے پوچھا وہ کیوں ابّا ؟ سب خیریت ہے نا - باپ نے کہا ، بس اتنا ہوا ہے کہ صبح تیرا چھوٹا بھائی ٹریکٹر کے نیچے آ کر شدید زخمی ہو گیا تھا ، گاؤں میں تو کوئی ڈاکٹر تھا نہیں جو ابتدائی طبی امداد بھی دے سکتا ، بڑے ہسپتال تک لے جاتے جاتے زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے راستے میں ہی مر گیا تیرا چھوٹا بھائی ، کل دوپہر میں جنازہ ہے ، تو بھی اپنے بھائی کے جنازے کو کندھا دینے آ جانا ڈاکٹر پتر -

Monday, 26 October 2015

زلزلہ

یکم اکتوبر 2015 

آج اس نے مشہور ملٹی نیشنل کمپنی میں مارکیٹنگ ہیڈ کی حثیت سے جوائننگ دی تھی - سات ہندسوں کو چھوتا ہوا ماہانہ پیکج ، شاندار کار ، بنگلہ اور نجانے کیا کیا -  شہر کی سب سے اونچی عمارت کے  ٹاپ فائیو فلورز پر اس بلڈنگ کا ہیڈ آفس تھا اور اسے کارنر آفس ملا تھا جس کی کھڑکی سے پورا شہر نظر آتا تھا - سب کہتے تھے کہ اس نے اتنی جلدی اپنے پروفیشنل کیریئر میں اتنا کچھ حاصل کر لیا ہے جس کی دوسرے صرف توقع ہی کر سکتے ہیں - پہلا دن کام اور ٹیم کو سمجھتے ہوئے گزر گیا - شام کو چھٹی سے پہلے وہ واش روم گیا تو واش بیسن کے پاس اس کا پاؤں پھسلتے پھسلتے بچا - سامنے ہی ایک جونیئر بھی کھڑا تھا ، اسے اتنی خفت محسوس ہوئی کہ فوراً جینیٹر کو بلایا اور شدید جھاڑ پلائی - جینیٹر نے کہا بھی کہ سر ابھی دو منٹ پہلے صاف کیا ہے ، کوئی صاحب شاید وضو کر کے گئے جو تھوڑا سا پانی گر گیا - مگر اس نے ایک نہ سنی اور جینیٹر کے لتے لیتا رہا - کہاں اتنا بڑا افسر اور کہاں ایک ادنیٰ خاکروب ، بیچارہ چپ چاپ سنتا رہا -


نو اکتوبر 2015 

اسے نئی جاب جوائن کیے ایک ہفتے سے زائد ہو چکا تھا - بہت ہی خوشگوار تبدیلی تھی ، ہر لحاظ سے پرفیکٹ سوئچ - مگر خدا جانے کیوں اسے اپنے فلور کے جینیٹر سے خدا واسطے کا بیر ہو گیا تھا - آتے جاتے جب بھی وہ جینیٹر نظر آتا تو اس کو کوئی سخت بات کہہ دیتا یا اس کے کسی نہ کسی کام میں نقص نکال کر اس کی عزت افزائی کر دیتا - بیچارہ جینیٹر جواب دینے کی پوزیشن میں ہی نہیں تھا ، بس سر جھکا کر سن لیا کرتا -


اکیس اکتوبر 2015 

آج تو حد ہی ہو گئی ، وہ تھوڑا تاخیر سے آفس پہنچا - اس کا  فلور آتے ہی جیسے ہی لفٹ کا دروازہ کھلا ، وہ تیزی سے لفٹ سے نکل کر بھاگا - جلدی میں سامنے موپ لگاتا جینیٹر نظر ہی نہ آیا اور ٹکر ہو گئی - ایک تو تاخیر ہو جانے کی جھنجھلاہٹ اس پر مستزاد یہ کہ اس کے ناپسندیدہ ترین فرد سے ٹکر ہو گئی - طیش میں آ کر اس نے جینیٹر کو تھپڑ رسید کر دیا - اندھے ہو کیا ، دیکھتے نہیں سامنے ، وہ چلایا ، میں تمہاری شکایت کروں گا ایڈمن افسر سے - اپنی نوکری بس ختم ہی سمجھو -


چھبیس اکتوبر 2015 

آج ااسے آفس میں کافی کام تھا ، اور دوپہر میں ایک پرانے دوست کے ساتھ  لنچ بھی - اس کی  پوری کوشش تھی کہ ایک بجے تک کام ختم کر لے تاکہ لنچ کے لیے تاخیر نہ ہو مگر پھر بھی کام ختم کرتے کرتے دو بج گئے - کام سے فارغ ہو کردو بج کر دو منٹ پر  وہ واش روم گیا - سامنے وہی جینیٹر صفائی کر رہا تھا ، اس کے منہ کا زاویہ بگڑ گیا - واش روم سے فراغت کے بعد وہ واش بیسن کے سامنے کھڑا ہاتھ دھو رہا تھا کہ اچانک اسے لگا کہ اسے چکر آ رہے ہیں - اس نے سر کو جھٹکا  مگر کچھ بہتری نہ آئی -  اچانک پیچھے کھڑا جینیٹر چلایا ، سر زلزلہ - تب اسے محسوس ہوا کہ اس کے پاؤں کے نیچے زمین لرز رہی ہے - اگلا جھٹکا اتنا شدید تھا کہ وہ کھڑا نہ رہ سکا - ایسا لگتا تھا کوئی شرارتی بچہ پلاسٹک سے بنی عمارت کو گرانے پر تلا ہوا ہے - اس نے کلمہ پڑھنے کی کوشش کی مگر اسے محسوس ہوا کہ چھت اس کے سر پر گر رہی ہے اور پھر اسے کوئی ہوش نہ رہا -

خدا جانے کب اسے ہوش آیا تو پورا جسم ٹوٹ رہا تھا ، سینے میں جیسے آگ لگی تھی ، اس کے آس پاس گھپ اندھیرا تھا - اس نے ٹٹول کر اپنے جسم کو محسوس کیا تو پتا چلا کہ ایک سریا اس کے سینے کے آر پار ہو چکا ہے اور وہ خون میں لت پت ہے - کوئی ہے ، وہ چلایا ، میری مدد کرو ، مجھے یہاں سے نکالو - اچانک اسے یاد آیا کہ اس کی جیب میں لائٹر ہے - اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر لائٹر نکالا ، دو بار کوشش کرنے پر لائٹر جل گیا - اس کے سر سے صرف دو فٹ اوپر ایک بہت بڑی سلیب بس اڑی ہوئی تھی - اچانک اسے اپنے پیچھے سے ایک مدھم سی آواز آئی ، وہ سمجھا کہ شاید بیرونی امداد آن پہنچی - اس نے مڑ کر پیچھے دیکھنے کی کوشش کی مگر سینے میں سریا گڑا ہونے کی وجہ سے مڑ نہ سکا - اچانک آواز واضح ہو گئی ، سر یہ آپ ہیں ؟ - اوہ  یہ تو وہی جینیٹر تھا - سر ہم ملبے تلے دب چکے ہیں ، پیرونی امداد ہم تک شاید نہ پہنچ پائے اور میں شدید زخمی بھی ہوں  - وہ جینیٹر کی آواز سن کر بڑی لجاہت سے بولا ، دعا کرو کہ ہم بچ جایئں - جینیٹر اس تکلیف کے عالم میں بھی ہنس دیا - اس نے اس ہنسی کی وجہ پوچھی تو جینیٹر بولا ، پتا نہیں ہم اس ملبے سے زندہ نکلیں یا مر کر ، مگر اوپر والے کے ایک ہی جھٹکے نے ایک اتنے بڑے افسر اور ایک خاکروب کو ایک برابر ضرور کر دیا ہے - آج مجھے اوپر والے کے انصاف پر یقین آ گیا - اس کا عذاب امیر اورغریب میں کوئی فرق نہیں کرتا -