Tuesday, 8 March 2016

مکالمہ

بہت ظلم ہوا ہے ، ان کا قصور نہیں تھا ، ان کو ورغلایا گیا تھا ، ان کی برین واشنگ کی گئی تھی - انہوں نے تو اپنی طرف سے ٹھیک قدم اٹھایا تھا ، ان کو برا مت کہو - برے صرف وہ ہیں جنہوں نے ان کے جذبات ابھار کر ان سے یہ کام کرا لیا - ان کی اپنی نیت تو پاک صاف تھی -

مگر دوست یہ بات کچھ پلے نہیں پڑھ رہی ، ایک جوان جہاں عاقل بالغ شخص کیسے بہکاوے میں آ گیا ؟ اور اگر کسی کی باتوں میں آ بھی گیا تھا تو ایسا انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے کچھ اپنی عقل سے  سوچنا تو چاہیے تھا نا -

یار جب بات عقیدے پر آ جاتی ہے تو بندہ ایسے ہی جذباتی ہو جاتا ہے ، ان کو تو بس یہی بتایا گیا تھا نا  کہ فلاں نے ایسی نیچ حرکت کی ہے - اب خون تو جوش مارتا ہے ایسی بات سن کر  - چلو انھیں عمر قید دے دیتی عدالت مگر پھانسی کی کیا تک بنتی تھی -

میرے دوست ، خودکش بمبار تیار کرنے  والے بھی ایسی ہی بات کرتے ہیں - خود کش حملے کرنے والوں کا بھی ایسے ہی برین واش کیا جاتا ہے - انھیں بھی یہی بتایا جاتا ہے کہ عقیدہ خطرے ہیں ہے ، فلاں اور فلاں عقیدے کے لیے خطرہ ہیں ، اس خطرے کو ختم کر دو - کیا آپ ان خودکش بمباروں کو بھی جذباتی کہیں گے ؟ کیا آپ خودکش بمباروں کے لیے بھی دل میں نرم گوشہ  رکھیں  گے ، کیا  انھیں بھی ایک موقع ملنا چاہیے کہ انکا عمل تو بس عقیدے کے لیے ہی تھا ، بس یہ کہ انھیں کسی نے غلط پٹی پڑھا دی -

کیا بات کر رہے ہو یار ، کہاں خود کش بمبار دہشتگرد ، کہاں ان کا عمل - دونوں میں کوئی مماثلث نہیں ، عجیب بات کرتے ہو آپ - کن جانوروں کو کس ہستی سے ملا رہے ہو - خودکش بمباروں کو تو جنازہ بھی نصیب نہیں ہوتا جبکہ یہاں تو پورا شہر امڈ آیا تھا جنازے پر -

دوست اگر اپنی دلیل بارے خود ہی سوچیں تو دونوں میں کوئی فرق نہیں ریاست کی نظر میں - دونوں ہی قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کر رہے تھے ، ریاست کی رٹ کو چیلنج کر رہے تھے  - دونوں کا انجام ایک سا ہی ہونا تھا کہ قانون تو سب کے لیے ایک سا ہے -

یہ قانون یہ عدالتیں یہ حکومت سب غلام ہیں - بہت زیادتی کی ہے انہوں نے ، اور اگر تم یہ بات سمجھنے سے قاصر ہو تو برائے مہربانی مجھے معاف کرو - میں اس بحث میں پڑ کر اپنی عاقبت نہیں خراب کرنا چاہتا - مجھے تو تم سے دوستی برقراررکھتے ہوئے بھی اپنا ایمان خطرے میں نظر آتا ہے - آئندہ مجھ سے بات مت کرنا - والسلام

No comments:

Post a Comment