Sunday, 31 May 2015

ایک سفر کی روداد

یہ پچھلے سال کی بات ہے - نومبر شروع ہو چکا تھا ، سردیاں بس آیا ہی چاہتی تھیں مگر ابھی اسلام آباد میں اپنا رنگ جمانا شروع نہیں کیا تھا - گھر سے آفس اور آفس سے گھر کی وہی عام روٹین چل رہی تھی کہ اچانک لاہور آفس سے بلاوا آ گیا - سفر سےہماری جان جاتی ہے مگر حکم حاکم مرگ مفاجات کے مصداق رخت سفر باندھتے ہی بنی - ٹکٹ کٹایا اور بس میں سوار ہو گئے - ہمارے ساتھ والی سیٹ پر ہمارا ہمسفر ایک اکیس بائیس سالہ نوجوان تھا - ہمیشہ سے عادت رہی ہے کہ جان پہچان نہ بھی ہو تو بات چیت میں پہل کرنے میں کبھی جھجھک محسوس نہیں کی آس پاس کے لوگوں کے خیالات کو جاننے کی کوشش ہوتی ہے کہ اسی سے پتا چلتا ہے کہ آپ کے آس پاس موجود لوگ کیا سوچ رہے ہیں اور ان کا مینٹل کیلیبر کیا ہے - کچھ دیر میں بس ٹرمنل سے نکل کر موٹروے پر سبک رفتاری سے رواں دواں ہو گئی تو خود ہی بات چیت کا آغاز کیا ، معلوم ہوا کہ لڑکا انجنیئرنگ سٹوڈنٹ تھا ، کسی انٹرویو کے سلسلے میں راولپنڈی آیا ہوا تھا اور مردان سے تعلق رکھنے والا پختون تھا - اسی اثنا میں بس ہوسٹس نے لنچ باکس ، پانی اور ہیڈ فونز مسافروں میں تقسیم کیے - خیر بات سے بات چل نکلی اور آ جا کر ہر پاکستانی کے  پسندیدہ موضوع یعنی سیاست تک آ پہنچی - محتاط انداز میں پوچھا کہ ووٹ کس جماعت کو دیا تھا - جواب میں ایک پوری تقریر ہماری منتظر تھی کہ لوٹ کے کھا گئے سب سیاستدان ملک کو، ہماری قوم اپنی حالت بدلنا ہی نہیں چاہتی - تبدیلی ناگزیر ہے اسی لیے تحریک انصاف کو ووٹ دیا اور تبدیلی کا ساتھ دیا - اب اس فرسودہ نظام کو بدلنا ہو گا یہاں غریبوں کا حق مارا جاتا ہے ، جہاں بے ایمانی ہے ، جہاں عوام سے جھوٹ بولا جاتا ہے - وہ کہتا رہا اور ہم سنتے رہے ایسی ہی باتیں کرتے کرتے بھیرہ آ گیا اور بس رک گئی - لڑکے نے ہم سے پوچھا کہ آپ بس میں ہی بیٹھیں گے یا باہرجایئں گے - ہمارے پاس لیپ ٹاپ تھا اور کوئی ایسی ضرورت بھی نہ تھی باہر جانے کی ، سو بول دیا کہ ہم سیٹ پر ہی ہیں - لڑکے نے اپنا لیپ ٹاپ ہمارے حوالے کیا اور بولا آپ میرے لیپ ٹاپ کا دھیان رکھیں میں ابھی آتا ہوں -

کچھ دیر بعد وہ واپس آ گیا - بیس منٹ بعد بس  دوبارہ چلی تو لڑکے نے ہوسٹس کو بلایا اور کہا کہ میرا ہیڈ فون کام نہیں کر رہا مجھے دوسرا ہیڈ فون دے دو ، ہوسٹس نے دوسرا ہیڈ فون لا دیا - کچھ دیر وہ گانے سنتا رہا اور میں بھی اخبار پڑھتا رہا - تھوڑی دیر بعد اس نے پھر سے سیاست پر بات شروع کر دی - اس بار پتا چلا کہ جناب تبدیلی رضاکار بھی ہیں ، ایم این اے علی محمد خان کے ووٹر تھے جناب - دوران گفتگو مجھ سے پوچھا کہ آپ نے کس کو ووٹ دیا تھا ، بتایا کہ ہم نے نواز شریف کو ووٹ دیا تھا - اس بات پر اس نے ہمیں ایسے حیرانی سے دیکھا جیسے ہم سے گناہ کبیرہ سرزد ہو گیا ہو- بولا ، بھائی آپ تو پڑھے لکھے لگتے ہیں ، کیسے ان چوروں اور لٹیروں کو ووٹ دے دیا آپ نے - ہم نے مسکرا کر بات ٹال دی - ہم نے مردان کا حال پوچھا کہ کوئی تبدیلی آئی نئی حکومت آنے کے بعد ، کہنے لگا کہ اتنی جلدی تو کچھ نہیں بدلتا مگر حالات اے این پی کے زمانے سے بہت بہتر ہیں اور یہ بات کافی حد تک ٹھیک بھی تھی کہ اتنی جلدی بدلاؤ آتا نہیں اور اے این پی حکومت سے واقعی حالات بہتر ہیں - اس کے بعد بات سیاست سے دوسری طرف چلی گئی - کچھ دیر بعد موٹروے کے اختتام کے سائن بورڈ نظر آنا شروع ہو گئے اور بس ہوسٹس نے ہیڈ فونز واپس جمع کرنے شروع کیے - جناب کے پاس اب دو ہیڈ فونز تھے ، ایک سفر کے شروع میں لیا تھا اور دوسرا بھیرہ سے بس چلتے ہی مانگا تھا - ہوسٹس کو ایک ہی ہیڈ فون واپس کیا اور دوسرا ہیڈ فون نظر بچا کر لیپ ٹاپ بیگ میں رکھ لیا - ہوسٹس نے سب مسافروں سے ہیڈ فوز جمع کرنے کے بعد گنتی کی ، ایک ہیڈ فون کم نکلنے پر اعلان کیا کہ کسی کے پاس ہیڈ فون رہ گیا ہو تو واپس کر دے - جناب منہ کھڑکی کی طرف بیٹھے رہے ، اور مجھ سے نظر ملانے سے گریز کیا - ہوسٹس نے بس کے دو چکر لگائے - ہر مسافر سے پوچھا ، جناب سے بھی پوچھا مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا - میں نے یہ دیکھتے ہوئے سوچ لیا تھا کہ اگر جناب نہ پکڑے گئے تو بس سے اترتے وقت ہوسٹس کو بتا دوں گا کہ ہیڈ فون اس لڑکے کے لیپ ٹاپ بیگ میں ہے - ہوسٹس ہیڈ فون نہ ڈھونڈ سکنے پر پریشان ہو گئی تھی - ڈرائیور سے مشورہ کیا اور پھر اعلان کر دیا کہ لاہور ٹرمنل پر گارڈ ہر مسافر کی تلاشی لے گا اور جس مسافر کے پاس سے ہیڈ فون نکلا اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا - یہ سنتے ہی میرے ہمسفر کی حالت غیر ہو گئی - اس نے میری طرف دیکھا تو میری دھیمی سی مسکراہٹ نے اسے تپا سا دیا - اس نے اپنا رخ دوسری طرف کر کے لیپ ٹاپ بیگ کھولا ، ہیڈ فون نکالا اور مجھے دکھا کر بولا ، اوہ ماڑا یہ تو میری سیٹ پر نیچے گر گیا تھا - ذرا ہوسٹس کو بلا کر واپس تو کر دو - میں نے مسکرا کر کہا کہ خود بلا لو اب تو مسئلہ بڑھ گیا ہے ، اب تو کاروائی ہو گی ٹرمنل پر پہنچ کر - وہ بولا ، بھائی آپ ہوسٹس کو بلا تو دو ، میں نے آواز دی ، ہوسٹس آئی تو جناب نے آنکھیں ملائے بنا ہیڈ فون پکڑا دئیے اور کہا کہ مجھے پتا نہیں چلا تھا ، سیٹ سے نیچے گر گئے تھے - ہوسٹس نے جن نظروں سے اسے دیکھا ، صاف پتا چلتا تھا کہ کہہ رہی ہے کہ جناب آپ الو کے پٹھے ہیں اور میں بے وقوف نہیں - اسی دوران لاہور ٹرمنل آ گیا - جناب سب سے پہلے بس سے اترنے والوں میں سے تھے مبادا کوئی قانونی کاروائی ہو جائے - میں نے بھی اپنا سامان اٹھایا اور ٹرمنل سے باہر منزل کی طرف روانہ ہو گیا -

رکشہ میں بیٹھے گھر کی طرف جاتے بس یہی سوچ آتی رہی کہ ہمارے پڑھے لکھے نوجوان کے اخلاقی زوال کا یہ عالم ہے کہ تین سو روپے کے ہیڈ فون کے پیچھے چوری جیسا قبیح فعل سرانجام دے ڈالا حالانکہ اگر ستر ہزار کا لیپ ٹاپ خریدنے کی سکت رکھ سکتے ہو تو بھائی تین سو روپے کا ہیڈ فون بھی خرید لیتے - ستم بالائے ستم یہ کہ اگر تبدیلی کے قافلے کے ہراول دستے کے میر کارواں تبدیلی رضاکار ہی ایسے ہوں گے تو تبدیلی کے قافلے کا منزل کا نشان کھو بیٹھنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں - تبدیلی کے پروانے  کی اس کاروائی سے ایک بات تو ثابت ہو گئی تبدیلی کا عمل انسان کے اپنے آپ کو بدلنے سے شروع ہوا کرتا  ہے نہ کہ تقریروں اور بھاشن دینے سے - مگر جب میر کاروان تبدیلی کی خود اپنی ہی باتوں اور عمل میں اس قدر تضاد ہو تو پیروکار کو کیا کہیں - 

Sunday, 17 May 2015

کیری آن ناصر

گرمیوں کے دن تھے - ڈیرہ غازی خان کی تپتی دوپہر ، سورج سوا نیزے پر تھا - کڑی دھوپ سے بےنیاز کالونی کے ایک کونے میں واقع کرکٹ گراؤنڈ پر دو ٹیمیں آپس میں گتھم گتھا تھیں - میزبان ٹیم کا پلہ بھاری نظر آتا تھا کہ پانچ وکٹیں گرنے کے باوجود ان کے جارح مزاج اوپنر ناصر میاں ابھی تک کریز پر موجود تھے - رن چیز ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا کہ سدا کے جلد باز ناصر میاں نے اچانک ہی آگے بڑھ کر شاٹ مارنے کی کوشش کی اور فیلڈر کو کیچ تھما بیٹھے - امپائر نے آؤٹ قرار دیا مگر ناصر میاں کریز چھوڑنے کو تیار نہ تھے - ان کا خیال تھا کہ بال کندھے سے اونچی تھی اور اسے نو بال قرار دیا جانا چاہیے - امپائر ہرچند کہ میزبان ٹیم کا ہی ایک کھلاڑی تھا مگر اتنی کھلی بے ایمانی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا - تھوڑا رولا ڈالنے کے بعد ناصر میاں جھکتے بکتے پویلین کی طرف روانہ ہوئے اور سارا ملبہ اپنی غلط شاٹ کی بجائے امپائر پر ڈال دیا کہ جنہوں نے انھیں نو بال پر آؤٹ قرار دیا - ناصر میاں کے آؤٹ ہونے کے بعد باقی بیٹسمین ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور میزبان ٹیم میچ ہار گئی - میچ کے بعد ناصر میاں نے خوب شور مچایا کہ یہ ہار انکی غلط شاٹ نہیں بلکہ امپائر کے غلط فیصلے کی وجہ سے مقدر بنی تھی ، مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے -

ناصر میاں کی خوبیاں کیا بیان کی جایئں ، بس یہ سمجھ لیں کہ خطاؤں سے مبرا ایک انسان تھے جناب - اپنی غلطی کبھی بھی تسلیم نہ کرنا انکا طرہ امتیاز تھا - اور اپنی کسی بھی ناکامی کا ملبہ دوسروں کے سر ڈالنے میں ید طولی رکھتے تھے - اک عجب سا پیرا نویا تھا ان کو ، ہر بندہ اپنے خلاف سازش کرتا ہوا نظر آتا تھا - جب کسی ٹیم کے ساتھ میچ نہیں ہوتا تھا اور شام کو آپس میں پریکٹس میچ کھیلا جاتا تھا تب بھی ناصر میاں کا عجیب ہی رویہ ہوا کرتا تھا - فلاں لڑکے کو اپنے ساتھ پریکٹس نہیں کرانی ، یہ دوسری ٹیم کا ہے اور ہمیں آؤٹ کرنے کے طریقے سیکھ رہا ہے - فلاں بندہ ہماری باتیں سب کر ہمارا گیم پلان سمجھ رہا ہے وغیرہ وغیرہ - الغرض یہ ذہنیت کھیل کے میدان تک محدود نہ تھی ، پڑھائی میں بھی حالات چنداں مختلف نہ تھے - محنتی ہونے کے باوجود کبھی ٹاپ تھری پوزیشنز پر نہ آ سکے ، وجوہات ہمیشہ مختلف ہوا کرتی تھیں ، کبھی قلم عین کمرہ امتحان میں دغا دے جاتا ، کبھی ایکسٹرا شیٹ ممتحن دیر سے دیتا اور وقت کی کمی کی وجہ سے پیپر پورا نہ کر پاتے - کبھی ٹاپ تھری پر آنے والوں نے نقل کر کے ناصر میاں کا حق مارا ہوتا اور کبھی شدید گرمی میں ہونے والے امتحان میں ان کے عین اوپر موجود پنکھا جواب دے جاتا اور پیپر کا ستیاناس ہو جاتا - الغرض پوری کائنات اس کوشش میں ہوتی کہ ناصر میاں کہیں ٹاپ تھری پوزیشنز میں سے ایک پر پراجمان نہ ہو جایئں - اب پوری کائنات ہی کسی کے خلاف متحرک ہو جائے تو ایک تنہا انسان کہاں تک مقابلہ کرے - بیچارے ناصر میاں کو پانچویں یا چھٹی پوزیشن پر ہی اکتفا کرنا پڑتا -
وقت گزرتا چلا گیا - کرکٹ اور دوسرے کھیل خواب و خیال ہو گئے - ایف ایس سی کے بعد سب دوست بھی یہاں وہاں بکھر گئے - کوئی ڈاکٹر بنا تو کوئی انجنیئر ، کسی نے اپنا بزنس شروع کیا تو کوئی سرکاری ملازمت اختیار کر گیا - کچھ عرصہ پہلے قبل ایک بچپن کے دوست سے ملاقات ہوئی تو ناصر میاں کا بھی ذکر آیا ، پتا چلا کہ جناب کے رویے میں بہت زیادہ مثبت تبدیلی آ گئی ہے - زمانے کے نشیب و فراز نے سمجھا دیا ہے کہ انسان کو ملتا وہی ہے جس کے لیے اپنے زور بازو سے کوشش کی جائے اور تن من دھن کی بازی لگائی جائے - ناصر میاں کو آگہی بی ایس سی کے دوران ملی اور وہیں سے ان کی کایا کلپ ہو گئی - ایم ایس سی پاکستان کی اچھی یونیورسٹی سے کرنے کے بعد جناب ایک سرکاری ادارے میں گریڈ سترہ کے افسر لگے - اب گریڈ اٹھارہ میں پروموٹ ہو چکے ہیں - زندگی آسان ہے اور راوی چین ہی چین لکھتا ہے -
ناصر میاں نے تو اپنا سبق سیکھ لیا اور خود ترسی و خود ترحمی کے احساس سے جان چھڑا لی - مگر آپ کو اپنے آس پاس بہت سے لوگ ایسے نظر آیئں گے جو خود ترحمی کے احساس سے نکلنا ہی نہیں چاہتے - اپنی زندگی میں ہونے والی ہرشکست ہر ناکامی کا ملبہ دوسرں پر ڈالنا اپنا فرض سمجھتے ہیں - کبھی یہ سمجھنا نہیں چاہتے کہ کبھی کبھار آپ کی سو فیصد کاوش بھی جیت کو پانے کے لیے کم پڑ جاتی ہے - ایسا کرنا اس لیے بھی آسان نظر آتا ہے کہ اس کے بعد اپنے آپ میں بہتری لانے کی کوئی کوشش نہیں کرنی پڑتی جو کہ ایک مشکل امر ہے - آپ کو جب بھی اپنے آس پاس کوئی ایسا شخص نظر آئے تو اس کے کندھے پر تھپکی دے کر وہی فقرہ بولیں جو ہم بچپن میں اپنے دوست ناصر کو بولا کرتے تھے ، "کیری آن ناصر" - شاید کسی دن وہ بھی اپنی اصلاح کر لے -

Monday, 11 May 2015

قصہ ایک پردیسی کا

یہ قصہ ایک عزیز نے سنایا - شاید بہت سے لوگوں کو محسوس ہو کہ یہ کہانی ان کی اپنی ہے - ہمارے معاشرے کا عام چلن یہی ہے جو اس قصے میں بیان کیا گیا -  ایک بیان کردہ قصہ دوستوں کی نظر کر رہا ہوں ۔۔۔ 

وہ ایک کھلنڈرا سا لڑکا تھا - متوسط گھرانے سے تعلق تھا - ایسا نہیں تھا کہ دولت کے انبار ہوں مگر زندگی سکون سے گزر رہی تھی ، بنیادی سہولیات سب مہیا تھیں - پڑھائی میں بس گزارے لائق ہی تھا - گرتے پڑتے گریجویٹ کیا - پاکستان میں نوکری سڑک پر پڑی تو ملتی نہیں ، انجنیئر اور ایم بی اے کی قدر نہیں ، ایک گریجویٹ کی دال کہاں گلتی - ایک دو جگہ چھوٹی موٹی نوکری کی مگر بات نہ بن سکی - تنگ آ کردیار غیر میں قسمت آزمائی کی ٹھانی - والدین کو ہمنوا بنایا اور برطانیہ کے لیے رخت سفر باندھ لیا - 

برطانیہ پہنچا تو پتا چلا کہ پیسے یہاں بھی درختوں پر نہیں لگتے ، جان مارنی پڑتی ہے پھر کہیں جا کر چار پیسے ہاتھ آتے ہیں - ہاں یہ ضرور ہے کہ کرنسی ریٹ میں تفاوت کی وجہ سے یہاں کا ایک پاؤنڈ پاکستان پہنچتے پہنچتے ایک سو چون روپوں میں تبدیل ہو جایا کرتا ہے - وائٹ کالر جاب ملنا آسان نہیں نہ ہی یہاں  پاکستانی ڈگری کی کوئی وقعت ہے - کچھ دھکے کھانے کے بعد ایک ڈیپارٹمنٹل اسٹور کے کیش کاؤنٹر پر نوکری مل ہی گئی - چھ ماہ یونہی گزرے - بیرون ملک جا کر نوٹ چھاپنے کے سہانے سپنے ایک ایک کر کے دم توڑ رہے تھے - برطانیہ میں رہن سہن کے اخراجات بھی کافی زیادہ تھے - یہاں کے اخراجات سے پیسے بچا کر پاکستان بھیجنا ایک مشکل مگر ضروری امر تھا - گھر بار ، بہن بھائیوں ، دوستو یاروں سے دور پردیس میں رہنا ایک جان لیوا تجربہ ثابت ہو رہا تھا - وہ ماں کے ہاتھ کے بنے کھانے ، وہ بہنوں کا ناز نخرے اٹھانا ، وہ دوستوں کی محفلیں سب خواب و خیال ہو چکی تھیں - زندگی میں کبھی ہل کر پانی نہ پیا تھا مگر یہاں تو کھانا بھی خود ہی بنانا پڑتا تھا کہ روز روز باہر کھانا کهانے کی عیاشی نہیں کی جا سکتی تھی - زندگی بس ایک دائرے میں گھوم رہی تھی، وہی لگے بندھے معمولات ، صبح کام پر جانا اور شام کو گھر آنا، پھر وہی ایک کمرہ جو ایک بنگالی ایک انڈین اور ایک پاکستانی کے ساتھ مل کر کرائے پر لیا گیا تھا - گوروں کا حقیقی دیس انگلش فلموں میں دکھائے گئے گوروں کے دیس سے بہت مختلف تھا - پیسہ مینہ کی طرح برس رہا ہوتا تو شاید یہ سب گوارا بھی ہو جاتا مگر یہاں تو پیسے پاکستان بھیجنے کے بعد مہینہ عزت سے گزر جائے یہی بہت تھا -

ٹھیک چھ ماہ بعد پاکستان سے فون آیا ، بہن کی شادی سر پر تھی اور بہن کے سسرال والے باتوں باتوں میں جتا چکے تھے کہ لڑکی کا بھائی تو برطانیہ میں ہوتا ہے ، مطلب فلاں فلاں اور فلاں چیز تو لڑکی ساتھ ہی لائے گی - باپ پریشان تھا اور بیٹے کو کہہ بیٹھا کہ لوگ باہر جاتے ہیں تو بریف کیس بھر بھر کر نوٹ بھیجتے ہیں ،تم بس یہی پچیس ہزار بھیج دیتے ہو ہر ماہ - آخر دل لگا کر وہاں کام کیوں نہیں کرتے تاکہ ہمیں بھی پاکستان میں سکھ کا سانس آئے - اور یہ بھی کہ نالائق بندہ نالائق ہی رہتا ہے چاہے پاکستان میں ہو یا برطانیہ میں - باپ نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا مگر بیٹا اس رات سو نہ پایا - پچھلے چھ ماہ کی ریاضت اور فون پر کہی باپ کی باتیں ذہن میں گڈ مڈ ہوتی رہیں -

اگلی صبح بھی سورج مشرق سے ہی نکلا تھا مگر اس کا جہان بدل چکا تھا - اب اسے بس پیسا کمانا تھا ، حلال حرام میں فرق کیے بنا - اس تفصیل میں جانا بیکار کہ پردیس میں  کیا کیا کام کیے اور کیا نہ کیے - مگر یہ ضرور تھا کہ بہن کی شادی دھوم دھام سے ہو گئی - اتنا جہیز دیا کہ سسرال والوں کے منہ بند ہو گئے - اس کے بعد تو چل سو چل ، جیسے شیر کے منہ کو انسانی خون لگ جائے تو پھر وہ آدم خور ہو جاتا ہے ، اسی طرح جب حرام کھانے کی عادت پڑ جائے تو حلال کی طرف دل مائل ہونا تقریباً ناممکن ہو جایا کرتا ہے - پہلے بھائی کی فرمائش آ گئی ون ٹو فائیو بائیک کی ، اس سے فراغت ہوئی تو چھوٹی بہن کو آئی فون سکس بھا گیا کہ کالج کی ایک دوست کے پاس بھی وہی فون تھا - یہ دو فرمائشیں نبیڑکر سانس لیا ہی تھا کہ کچھ ہی عرصے بعد ابا کو یاد آیا کہ کب تک خیبر گاڑی چلایئں گے ، اب اپ گریڈ کرنا چاہیے - قرعہ ٹویوٹا کے نام نکلا کہ شریکوں کے پاس بھی وہی گاڑی تھی - فرمائش مہنگی تھی سو ہاتھ بھی لمبا مارنا پڑا اور وقت بھی زیادہ لگا ، مگر جیسے تیسے کر کے یہ خواہش بھی پوری کر ہی دی - بس پہلی بار ہی ضمیر کو سلانا مشکل ہوا کرتا ہے ، اس کے بعد آسانی ہی آسانی ہے ، کبھی تنہائی میں ضمیر کچوکے لگائے بھی تو سب الزام گھر والوں پر ڈال کر خود بری الزمہ ہو جانا ایک آسان امر ہے -

برطانیہ آئے تین سال بیت چکے تھے ، گھر بار ، والدین  بہن بھائیوں اور دوستوں کی یاد ستا رہی تھی - سوچا کہ پاکستان کا چکر لگایا جائے - سرپرائز کے چکر میں پاکستان میں کسی کو خبر نہ کی کہ پاکستان آنے کا پلان ہے - جو اچانک گھر کے دروازے پر نمودار ہوا تو گھر والوں کے لیے خوش گوار سرپرائز سے زیادہ ایک ڈراؤنا خواب بن گیا کہ کہیں ڈی پورٹ ہو کر تو نہیں آ گیا واپس - سب سے پہلے ابّا نے پوچھا ، خیر سے آیا ہے نہ پتر - جب پتا چلا کہ چھٹی آیا ہے تو سب کی جان میں جان آئی - پہلا سوال جو ماں نے پوچھا وہ نہ حال احوال کا تھا نہ ہی وہاں گزارے شب و روز کے بارے میں - وہ سوال تھا کہ کتنی چھٹی آیا ہے پتر - الله خیر سے واپس لے کر جائے ابھی تو بہت خرچے سر پر ہیں - اس کو اک عجب سا احساس ہوا - وہ ولولہ وہ جوش و خروش جو دل میں لے کر برطانیہ سے چلا تھا کچھ ماند سا پڑ گیا - کچھ دیر غائب دماغی کی حالت میں گھر والوں کے ساتھ بیٹھا رہا پھر تھکن کا بہانہ بنا کر اپنے کمرے میں چلا آیا - لیٹے لیٹے ہی آنکھ لگ گئی - اٹھا تو شام ہو چکی تھی - باہر آیا تو چھوٹے بہن بھائی سامنے ہی بیٹھے تھے - ان کا سارا جوش و جذبہ صرف اس بات پر تھا کہ بڑا بھائی ان کے لیے کیا لایا ہے - سب خاندان والوں کے لیے لائے تحفے  انکے حوالے کیے مگر اپنے اندر کی گھٹن کچھ اور بڑھ گئی - وہ پرانے رشتے تو جیسے کہیں کھو ہی گئے تھے - بس ایک ہی رشتہ باقی رہ گیا تھا - پیسے کا رشتہ - اسے ایسا لگنے لگا انسانی رشتے غرض پر ٹکے ہوتے ہیں ۔ اسکا  کوئی ٹھکانہ نہ رہا ۔ نہ دنیا میں نہ ہی  آخرت میں - ایک کسک دل میں لیے وہ واپس چلا گیا - 

شاید اپنے اور خاندان کے بہتر مستقبل کی خاطر پردیسی ہو جانے والوں کا پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ بس ایک ہی رشتہ رہ جاتا ہے ، ضرورت کا رشتہ ، غرض کا رشتہ -