Sunday, 8 November 2015

ڈاکٹر پتر

وہ پنجاب کے ایک دورافتادہ گاؤں کا رہنے والا تھا - پڑھائی کی طرف رجحان تھا سو گاؤں کے چھوٹے سے ٹاٹ اسکول بہت شوق سے تعلیم حاصل کرنے جایا کرتا تھا - باپ خود تو کسان تھا مگر بیٹے کا پڑھنے لکھنے کا شوق اسے بھی بھاتا تھا - شاید میری اگلی نسل پچھلی نسل سے آگے بڑھ جائے پڑھ لکھ کر ، دل ہی دل میں سوچتا اور بیٹے کی حوصلہ افزائی کرتا - وہ دس سال کا تھا جب اس کے چاچا کا گاؤں کے ایک معمولی جھگڑے میں سر پھٹ گیا - علاقے کا اکلوتا ہیلتھ یونٹ کسی بھی ڈاکٹر سے محروم تھا سو چاچا کو سر پر ٹانکے لگوانے تیس کلومیٹر دور بڑے قصبے کی ڈسپنسری لے جانا پڑا - اس واقعے نے اس کے دل پر گہرا اثر کیا اور اس نے دل ہی دل میں عہد کیا کہ وہ بڑا ہو کر ڈاکٹر بنے گا اور اپنے گاؤں کے ہیلتھ یونٹ میں ہی کام کرے گا -

وقت گزرتا گیا ، گاؤں کے اسکول سے پرائمری تک پڑھا، پھر اپنے گاؤں سے کچھ دور موجود بڑے گاؤں کے اسکول سے میٹرک کا امتحان بہت ہی اچھےنمبروں  سے پاس کیا- ایف ایس سی میں داخلے کے لیے موجود قریب ترین کالج بھی گاؤں سے تیس  کلو میٹر دور تھا اور اس کالج کا کوئی ہوسٹل بھی نہیں تھا - یہاں اس کے باپ نے اسکی مدد کی اور پیسے جوڑ کر اسے سائیکل دلا دی تاکہ روز کالج آ جا سکے - ایف ایس سی میں اس نے پری میڈیکل مضامین کا انتخاب کیا کہ اسے خود سے کیا گیا عہد خوب یاد تھا - دو سال روزانہ صبح اٹھ کر تیس کلو میٹر سائیکل چلا کر کالج جانا اور سہ پہر کو واپس آنا اتنا آسان نہ تھا اوراس پر مستزاد یہ کہ  میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے میرٹ بنانا بھی جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا - مگر اس کی لگن نے اسے تھکنے نہ دیا - دو سال بعد پہلے ایف ایس سی کا نتیجہ شاندار اور پھر انٹری ٹیسٹ بھی کلئیرکرتا ہوا وہ میڈیکل کالج میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو ہی گیا -

لاہور، اپنے آپ میں ایک الگ ہی دنیا ہے یہ شہر بھی - سچ کہتے ہیں کہ چھوٹے شہروں ، قصبوں اور دیہاتوں سے آنے والے اس شہر کی چکا چوند میں گم ہو کر واپسی کا راستہ بھول جاتے ہیں - سروسز انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز لاہور میں اس کا ایڈمشن ہوئے یہ دوسرا ہفتہ تھا - وہ ابھی اس نئے ماحول میں ایڈجسٹ نہ ہو پایا تھا - اتنے بڑے شہر میں وہ اپنے آپ کو اور اپنے گاؤں کو بہت ہی چھوٹا محسوس کرتا تھا - شروع کے کچھ ہفتے تو وہ ہوسٹل سے کالج اور کالج سے ہوسٹل کے علاوہ کہیں نہ جاتا کہ اسے اس شہر کی بھیڑ سے خوف آتا تھا - پھر آہستہ آہستہ وہ اس شہر اور اس کے ماحول کا عادی ہونے لگا - اس نے اپنے ارد گرد کا باریک بینی سے جائزہ لینا شروع کیا ، دوست یار بنانے شروع کیے ، باہر گھومنا پھرنا شروع کیا - کچھ ہی عرصے میں اس میں کافی تبدیلی آ گئی ، اس کا خود پر اعتماد بڑھ گیا اور وہ اپنی کلاس کے طالب علموں میں بھی نمایاں ہونے لگا - ایک دن وہ علی الصبح کالج کے ساتھ  ہی موجود ریس کورس پارک  میں صبح کی سیر کے لیے گیا ، واپسی پر دوسری طرف کے گیٹ سے نکلا تو عجب منظر دیکھا - قطار میں شاندار بنگلے تھے ، تقریباً ہر بنگلے کے باہر ڈرائیو وے پر کاریں کھڑی تھیں اور باوردی ڈرائیور حضرات تندہی سے کاریں دھونے میں مصروف تھے - یہ منظر اس کی نظر میں کھب سا گیا - کالج جا کر ایک دوست سے اس بارے پوچھا تو پتا چلا کہ وہ جی او آر ون ہے ، اعلیٰ سرکاری افسران کی کالونی ، پھر ٹیچر کلاس میں آ گیا اور بات ختم ہو گئی مگر اس کے دل میں کھدبد لگی رہی - میڈیکل کی پڑھائی اتنی آسان نہ تھی ، یہ بات اسے پہلے چھ ماہ میں ہی اچھے طریقے سے سمجھ آ چکی تھی - وہ بدل رہا تھا، اسکی سوچ بدل رہی تھی مگر شاید خود اسے بھی ابھی اس بات کا ادراک نہ تھا -

چار سال بیت گئے تھے - ایک اور سال کی پڑھائی ، ہاؤس جاب اور پھر وہ ڈاکٹر بن جاتا - مگر ان چار سالوں نے اسے بدل دیا تھا - شاید شہر میں رہ کر وہ بھی مادیت پسند ہو گیا تھا - اپنے سینئرز کا حال وہ دیکھ چکا تھا ، ہاؤس جاب کے بعد کیسے دھکے کھا رہے تھے ان میں سے اکثر - جن کے ماں باپ کے پاس پیسا تھا وہ باہر اسپیشلائیزیشن کے لیے جا رہے تھے ، کچھ مختلف سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں نوکریاں کر رہے تھے - جتنی محنت اور وقت ڈاکٹری پڑھتے ہوئے لگتا ہے ، اس کا عشر عشیر بھی نہیں ملتا نوکری کرتے وقت - یہ سب دیکھ کر وہ مخمصے میں پڑ چکا تھا - گاؤں کے ہیلتھ یونٹ کو آباد کرنے کا سوچتا تو دماغ تاویلیں دیتا کہ اس ہیلتھ یونٹ میں تو کوئی سرکاری ڈاکٹر ہی آ کر بیٹھے گا ، خدا جانے مجھے سرکاری نوکری ملے نہ ملے - اب بنا اپا ئینٹمنٹ کے خود سے جا کر تو ہیلتھ یونٹ میں نہیں بیٹھ سکتا نا ، یہ نامناسب بات ہو گی اور خلاف قانون بھی - وہ اپنے آپ کو مطمئن کر چکا تھا کہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد اس کا واپس گاؤں نہ جانا ایک درست اوربہتر فیصلہ ہے -

اب اگر میڈیکل پریکٹس نہیں کرنی ہاؤس جاب کے بعد تو پھر کیا کرنا ہے ، اس بارے میں وہ جب بھی سوچتا تو اس کے ذہن میں جی او آر ون کے بنگلے ، ڈرائیو وے میں کھڑی کاریں اور ان کاروں کو دھوتے باوردی ڈرائیور آ جاتے اور وہ مقابلے کے امتحان میں بیٹھنے کے بارے میں سوچنے لگتا جسے پاس کر کے وہ یہ سب حاصل کر سکتا تھا - اسے محسوس ہوتا کہ اس طرح اسے وہ لائف سٹائل مل سکتا ہے جوپچھلے تین سال سے اس کے ذہن میں ایسا کھبا ہے کہ اس کے علاوہ کچھ سجھائی ہی نہیں دیتا - بنگلہ ، نوکر ، ڈرائیور ، گاڑی اور افسری ، یہ موجیں اسے میڈیکل پروفیشن میں اگلے پندرہ سال بھی نہ ملنے والی تھیں -

ہاؤس جاب تمام ہو چکی تھی - وہ اپنے گھر والوں کو بھی اپنا ارادہ بتا چکا تھا کہ وہ مقابلے کے امتحان میں بیٹھنے جا رہا ہے - اس کے باپ نے اس سے کہا بھی کہ پتر گاؤں واپس آ جا ، ہم گاؤں والوں کو آج بھی علاج کرانے تیس کلومیٹر دور جانا پڑتا ہے ، مگر اس نے دلائل دے کر باپ کو خاموش کرا دیا - یہ پہاڑ سر کرنے کے بعد اس نے جان لگا کر مقابلے کے امتحان کی تیاری شروع کی - محنتی تو شروع سے ہی تھا ، کامیاب کیسے نہ ہوتا - پہلی ہی کوشش میں تحریری امتحان اور انٹرویو دونوں میں کامران ٹھہرا - میرٹ لسٹ کے مطابق اس کا نام انکم ٹیکس گروپ میں آیا تھا ، یہ فیلڈ اس کی سابقہ تعلیم سے متعلق نہ تھی مگر اسے یقین تھا کہ ایک سال کی ٹریننگ میں وہ نئے پروفیشن کے اسرار و رموز سے بخوبی واقف ہو جائے گا -

آج اس نے اسلام آباد میں اپنا آفس جوائن کرنا تھا - مارے خوشی کے اس کے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے - وہ اپنے خوابوں کی تکمیل کے پہلے زینے پر قدم رکھ چکا تھا - اپنے خیالوں میں گم آفس کے لیے نکلتے ہوئے وہ اپنا موبائل فون فلیٹ میں ہی بھول آیا - آفس میں پہلا دن لوگوں سے ملتے اور کام کو سمجھتے گزر گیا - شام پانچ پجے وہ فلیٹ واپس آیا اور موبائل فون اٹھایا تو دیکھا کہ گاؤں سے اس کے باپ کی دس سے زیادہ مسڈ کالز آ چکی ہیں - اس نے سوچا کہ باپ بھی آفس کے پہلے دن کا حال احوال پوچھنے کے لیے بیتاب ہو گا - فوراً باپ کو فون ملایا - کال ملتے ہی کہا کہ ابا بہت اچھا دن گزرا ، میں بہت خوش ہوں ، سوچتا ہوں بالکل صحیح فیصلہ کیا میڈیکل پروفیشن چھوڑ کر سی ایس ایس کرنے کا - باپ نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا ، پتر خوش بعد میں ہو لینا ، فوراً چھٹی لے کر گاؤں آ جا - اس نے حیرانی سے پوچھا وہ کیوں ابّا ؟ سب خیریت ہے نا - باپ نے کہا ، بس اتنا ہوا ہے کہ صبح تیرا چھوٹا بھائی ٹریکٹر کے نیچے آ کر شدید زخمی ہو گیا تھا ، گاؤں میں تو کوئی ڈاکٹر تھا نہیں جو ابتدائی طبی امداد بھی دے سکتا ، بڑے ہسپتال تک لے جاتے جاتے زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے راستے میں ہی مر گیا تیرا چھوٹا بھائی ، کل دوپہر میں جنازہ ہے ، تو بھی اپنے بھائی کے جنازے کو کندھا دینے آ جانا ڈاکٹر پتر -

Monday, 26 October 2015

زلزلہ

یکم اکتوبر 2015 

آج اس نے مشہور ملٹی نیشنل کمپنی میں مارکیٹنگ ہیڈ کی حثیت سے جوائننگ دی تھی - سات ہندسوں کو چھوتا ہوا ماہانہ پیکج ، شاندار کار ، بنگلہ اور نجانے کیا کیا -  شہر کی سب سے اونچی عمارت کے  ٹاپ فائیو فلورز پر اس بلڈنگ کا ہیڈ آفس تھا اور اسے کارنر آفس ملا تھا جس کی کھڑکی سے پورا شہر نظر آتا تھا - سب کہتے تھے کہ اس نے اتنی جلدی اپنے پروفیشنل کیریئر میں اتنا کچھ حاصل کر لیا ہے جس کی دوسرے صرف توقع ہی کر سکتے ہیں - پہلا دن کام اور ٹیم کو سمجھتے ہوئے گزر گیا - شام کو چھٹی سے پہلے وہ واش روم گیا تو واش بیسن کے پاس اس کا پاؤں پھسلتے پھسلتے بچا - سامنے ہی ایک جونیئر بھی کھڑا تھا ، اسے اتنی خفت محسوس ہوئی کہ فوراً جینیٹر کو بلایا اور شدید جھاڑ پلائی - جینیٹر نے کہا بھی کہ سر ابھی دو منٹ پہلے صاف کیا ہے ، کوئی صاحب شاید وضو کر کے گئے جو تھوڑا سا پانی گر گیا - مگر اس نے ایک نہ سنی اور جینیٹر کے لتے لیتا رہا - کہاں اتنا بڑا افسر اور کہاں ایک ادنیٰ خاکروب ، بیچارہ چپ چاپ سنتا رہا -


نو اکتوبر 2015 

اسے نئی جاب جوائن کیے ایک ہفتے سے زائد ہو چکا تھا - بہت ہی خوشگوار تبدیلی تھی ، ہر لحاظ سے پرفیکٹ سوئچ - مگر خدا جانے کیوں اسے اپنے فلور کے جینیٹر سے خدا واسطے کا بیر ہو گیا تھا - آتے جاتے جب بھی وہ جینیٹر نظر آتا تو اس کو کوئی سخت بات کہہ دیتا یا اس کے کسی نہ کسی کام میں نقص نکال کر اس کی عزت افزائی کر دیتا - بیچارہ جینیٹر جواب دینے کی پوزیشن میں ہی نہیں تھا ، بس سر جھکا کر سن لیا کرتا -


اکیس اکتوبر 2015 

آج تو حد ہی ہو گئی ، وہ تھوڑا تاخیر سے آفس پہنچا - اس کا  فلور آتے ہی جیسے ہی لفٹ کا دروازہ کھلا ، وہ تیزی سے لفٹ سے نکل کر بھاگا - جلدی میں سامنے موپ لگاتا جینیٹر نظر ہی نہ آیا اور ٹکر ہو گئی - ایک تو تاخیر ہو جانے کی جھنجھلاہٹ اس پر مستزاد یہ کہ اس کے ناپسندیدہ ترین فرد سے ٹکر ہو گئی - طیش میں آ کر اس نے جینیٹر کو تھپڑ رسید کر دیا - اندھے ہو کیا ، دیکھتے نہیں سامنے ، وہ چلایا ، میں تمہاری شکایت کروں گا ایڈمن افسر سے - اپنی نوکری بس ختم ہی سمجھو -


چھبیس اکتوبر 2015 

آج ااسے آفس میں کافی کام تھا ، اور دوپہر میں ایک پرانے دوست کے ساتھ  لنچ بھی - اس کی  پوری کوشش تھی کہ ایک بجے تک کام ختم کر لے تاکہ لنچ کے لیے تاخیر نہ ہو مگر پھر بھی کام ختم کرتے کرتے دو بج گئے - کام سے فارغ ہو کردو بج کر دو منٹ پر  وہ واش روم گیا - سامنے وہی جینیٹر صفائی کر رہا تھا ، اس کے منہ کا زاویہ بگڑ گیا - واش روم سے فراغت کے بعد وہ واش بیسن کے سامنے کھڑا ہاتھ دھو رہا تھا کہ اچانک اسے لگا کہ اسے چکر آ رہے ہیں - اس نے سر کو جھٹکا  مگر کچھ بہتری نہ آئی -  اچانک پیچھے کھڑا جینیٹر چلایا ، سر زلزلہ - تب اسے محسوس ہوا کہ اس کے پاؤں کے نیچے زمین لرز رہی ہے - اگلا جھٹکا اتنا شدید تھا کہ وہ کھڑا نہ رہ سکا - ایسا لگتا تھا کوئی شرارتی بچہ پلاسٹک سے بنی عمارت کو گرانے پر تلا ہوا ہے - اس نے کلمہ پڑھنے کی کوشش کی مگر اسے محسوس ہوا کہ چھت اس کے سر پر گر رہی ہے اور پھر اسے کوئی ہوش نہ رہا -

خدا جانے کب اسے ہوش آیا تو پورا جسم ٹوٹ رہا تھا ، سینے میں جیسے آگ لگی تھی ، اس کے آس پاس گھپ اندھیرا تھا - اس نے ٹٹول کر اپنے جسم کو محسوس کیا تو پتا چلا کہ ایک سریا اس کے سینے کے آر پار ہو چکا ہے اور وہ خون میں لت پت ہے - کوئی ہے ، وہ چلایا ، میری مدد کرو ، مجھے یہاں سے نکالو - اچانک اسے یاد آیا کہ اس کی جیب میں لائٹر ہے - اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر لائٹر نکالا ، دو بار کوشش کرنے پر لائٹر جل گیا - اس کے سر سے صرف دو فٹ اوپر ایک بہت بڑی سلیب بس اڑی ہوئی تھی - اچانک اسے اپنے پیچھے سے ایک مدھم سی آواز آئی ، وہ سمجھا کہ شاید بیرونی امداد آن پہنچی - اس نے مڑ کر پیچھے دیکھنے کی کوشش کی مگر سینے میں سریا گڑا ہونے کی وجہ سے مڑ نہ سکا - اچانک آواز واضح ہو گئی ، سر یہ آپ ہیں ؟ - اوہ  یہ تو وہی جینیٹر تھا - سر ہم ملبے تلے دب چکے ہیں ، پیرونی امداد ہم تک شاید نہ پہنچ پائے اور میں شدید زخمی بھی ہوں  - وہ جینیٹر کی آواز سن کر بڑی لجاہت سے بولا ، دعا کرو کہ ہم بچ جایئں - جینیٹر اس تکلیف کے عالم میں بھی ہنس دیا - اس نے اس ہنسی کی وجہ پوچھی تو جینیٹر بولا ، پتا نہیں ہم اس ملبے سے زندہ نکلیں یا مر کر ، مگر اوپر والے کے ایک ہی جھٹکے نے ایک اتنے بڑے افسر اور ایک خاکروب کو ایک برابر ضرور کر دیا ہے - آج مجھے اوپر والے کے انصاف پر یقین آ گیا - اس کا عذاب امیر اورغریب میں کوئی فرق نہیں کرتا -

Wednesday, 14 October 2015

لاش

آج اس کی رات کے گشت کی ڈیوٹی تھی ، اسے رات کی ڈیوٹی اچھی لگتی تھی کہ ایک دو مرغے بھی پھنس جاتے تو کھپ ڈالے بنا اچھا مال پانی بن جاتا تھا - اس نے یونیفارم پہنی ، آئینے میں اپنے آپ کو ایک نظر دیکھا اور گھر سے نکل کر تھانے کی طرف روانہ ہو گیا - تھانے آ کر حاضری لگوائی ، اسی اثنا میں  رات کی گشتی پارٹی کے باقی ساتھی بھی آ چکے تھے - رائفلز لیں اور پولیس موبائل میں بیٹھ کر علاقے کا راؤنڈ لینا شروع کیا -
پہلے ایک گھنٹے میں ایک بھی مرغا نہ پھنسا ، اسی لیے مزاج کچھ برہم ہو رہا تھا - تھانے کی حدود کے اختتام کے بالکل پاس اسے عین سڑک کے درمیان ایک گٹھری سی پڑی نظر آئی ، خدا جانے کون گرا گیا تھا - اس نے سپاہی کو گاڑی روکنے کا کہا تاکہ پاس جا کر دیکھ سکے کہ سڑک پر کیا پڑا ہوا ہے - گاڑی رکی ، وہ اترا اور گٹھری کے پاس چلا گیا - دھت تیرے کی ، وہ تو کوئی انسان پڑا تھا - اسے ایک نظر میں ہی اندازہ ہو گیا کہ یہ بندہ زندگی کی بازی ہار چکا ہے - خدا جانے کون مار کر پھینک گیا تھا - اس کا ذہن تیزی سے سوچنے لگا ، ابھی کل ہی تو ایس پی صاحب نے علاقے میں بڑھتے ہوئے جرائم پر تھانہ انچارج کی کلاس لی تھی - اب ایسے میں اگر ایک قتل اور رپورٹ ہو گیا خدا جانے ایس پی صاحب کتنا بے عزت کریں - سڑک کے اس پار دوسرے تھانے کی حدود شروع ہوتی تھیں - اس کے دماغ میں فوراً یہ خیال آیا کہ اگر یہ لاش گھسیٹ کر دوسرے تھانے کی حدود میں ڈال دی جائے تو اس تھانے کا عملہ اور ایس ایچ او جانے ، ہماری تو جان بخشی ہو جائے گی - ویسے بھی بندہ تو اب مر ہی چکا ہے ، واپس زندہ تو ہونے سے رہا - فٹافٹ اس نے موبائل میں موجود دوسرے سپاہیوں کو آواز دی کہ آ کر لاش کو سڑک کے پار منتقل کرنے میں مدد کریں - کھینچ کھانچ کر لاش کو سڑک کی دوسری طرف منتقل کر دیا گیا -
اس کارنامے کے بعد مطمئن ہو کر پھر سے گشت شروع کیا - اگلے دو گھنٹوں اوپر تلے ہی دو مرغے بھی پھنس گئے ، مال پانی ملنے کے بعد اسکا موڈ خوشگوار ہو چکا تھا - رات کے اس پہر آہستہ آہستہ چلتی پولیس موبائل کی کھلی کھڑکی سے آتی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے لوری کا سا اثر کر رہے تھے - اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں - اسی اثنا میں موبائل کا گزر پھر تھانے کی اختتامی حدود سے ہوا ، اسے محسوس ہوا  کہ وہ خواب میں پھر اس لاش کو اپنے تھانے کی حدود والی اسی سڑک پر پڑا دیکھ رہا ہے جہاں سے اٹھا کر اس نے دوسرے تھانے کی حدود میں منتقل کی تھی - اس نے زور زور سے آنکھیں ملیں مگر سامنے کا منظر نہ بدلا - موبائل رکوائی کہ پھر سے لاش کو دوسرے تھانے کی حدود میں ڈالا جائے - ابھی لاش دوسرے تھانے کی حدود میں ڈال کر فارغ ہی ہوئے تھے کہ دوسرے تھانے کی موبائل بھی موقع پر آ گئی - وہ سمجھ گیا کہ اب رنگے ہاتھوں پکڑا جا چکا ہے مگر وہ پولیس والا ہی کیا جو شرمندہ ہو جائے - دوسرے علاقے اے ایس آئی  کے سامنے بھی ڈھٹائی کے ساتھ یہی کہتا رہا کہ لاش تو آپ کے علاقے میں ہی تھی - آپ کے کسی سپاہی نے ہمارے علاقے میں ڈال دی تھی - کافی دیر تک بحث و تکرار چلتی رہی اور پھر فیصلہ یہی ہوا کہ دونوں تھانوں کی حدود کے درمیان جو "نو مینز لینڈ" ہے ، لاش کو وہاں چھوڑ دیا جائے - بعد میں دونوں تھانوں کے ایس ایچ او حضرات خود ہی معاملے سے نمٹ لیں گے - معاہدہ طے پانے کے بعد لاش کو دونوں تھانوں کی اختتامی حدود کے درمیان پھینک دیا گیا اور دونوں پولیس موبائلز اپنے اپنے راستے چلی گئیں -
صبح جب سڑک پر ٹریفک کی آمد و رفت شروع ہوئی تو لاش کو دیکھ پر لوگوں نے تھانے میں رپورٹ کی تو جواب ملا کہ یہ علاقہ ہمارے تھانے کی حدود میں نہیں ہے - دوسرے تھانے میں رپورٹ کی گئی تو بھی یہی جواب ملا کہ یہ علاقہ ہمارے تھانے کی حدود میں نہیں ہے - پورا دن لاش بے گوروکفن سڑک کنارے پڑی رہی مگر تھانے کی حدود بارے فیصلہ نہ ہو سکنے کی وجہ سے پولیس نے کسی قسم کی قانونی  کاروائی کا آغاز نہ کیا  - سورج ڈھل رہا تھا جب ایدھی والوں نے اس لاش کو اٹھایا ، غسل دیا اور کفن پہنا کر امانتاً دفن کر دیا - ایک دو دن علاقے کے لوگوں کو وہ لاش یاد رہی پھر سب بھول بھال کر اپنی زندگیوں میں مصروف ہو گئے کہ ایک گمنام لاش کو کون یاد رکھتا ہے -
کراچی شہر بھی ایک ایسی ہی خون میں لت پت مظلوم لاش ہے جس کی دادرسی کی ذمے داری نہ صوبائی حکومت لیتی ہے نہ ہی وفاقی حکومت - کہیں قوانین آڑے آتے  ہیں تو کہیں مصلحتیں، کہیں حدود و قیود کا خیال رکھنا پڑتا ہے تو کہیں سیاسی و مذہبی جذبات کا - اور تو اور کراچی کے شہری بھی شاید عادی ہو چکے ہیں اس سب کے - خدا جانے کبھی کراچی شہر کی زندگی میں کوئی ایدھی آئے گا بھی  جو اس کو تھوڑی سی راحت پہنچا سکے یا پھر کراچی بھی سدا نو مینز لینڈ ہی رہے گا -

Sunday, 20 September 2015

ماں

آج صبح آفس آتے ہوئے سگنل پر گاڑی روکی تو ایک درخت پر نظر پڑی - امتداد زمانہ نے درخت پر شکست و ریخت کے کے واضح نشانات چھوڑے تھے - درخت ایک ڈھلوان پر ایستادہ تھا، آس پاس کوئی اور درخت نہ تھا - آس پاس کی زمین کٹاؤ کا شکار ہو چکی تھی، کچھ زمین جو کٹاؤ کا شکار ہو کر رائیگاں نہ ہوئی تھی تو اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ درخت نے اس زمین کو اپنی جڑوں کے ساتھ جکڑ کر یکجا رکھا تھا -  درخت کو دیکھتے ہی جس خیال کی دماغ پر دستک دی  وہ ماں کا خیال تھا - ماں ایک ایسی ہی ہستی ہوتی ہے جو پورے کنبے کو یکجا رکھتی ہے - ماں کے بنا خاندان بھی ایسے ہی بکھر جایا کرتے ہیں جیسے درخت نہ ہونے کی وجہ سے زمین کٹاؤ کا شکار ہوتی ہے اور مٹی بکھر جاتی ہے - ماں آپ کے لیے ایک گھنا سایہ دار درخت ہے ، اس کی زندگی میں ہی اس کی قدر کر لیجئے - بعد میں بس یادیں  ہی رہ جاتی ہیں - 

Thursday, 18 June 2015

چوراہا

شہر کے بیچوں بیچ وہ چوراہا آمدورفت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا تھا -  لگ بھگ پورا دن گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں ، رکشوں کا تانتا بندھا رہتا - خاص بات یہ کہ چوراہا کونے پر واقع پرانی آبادی کو باقی شہر سے ملانے کا واحد راستہ تھا ، کیونکہ اس آبادی کو تین طرف سے ایک نالے نے گھیرا ہوا تھا - کہیں بھی جانے کے لیے آبادی کے باسیوں کو اسی چوراہے سے گزرنا ہوتا تھا -

مدثر اسی آبادی کا مکین تھا - ہونہار نوجوان جس کا تعلیمی ریکارڈ اس کی ذہانت کا منہ بولتا ثبوت تھا - بیوہ ماں اور چھوٹے بھائی کی امیدوں کا مرکز بس وہی تو تھا - ڈیڑھ سال تک جوتیاں چٹخانے کے بعد نوکری کی امید بندھی تھی ، ایک ملٹی نیشنل کمپنی کا تحریری امتحان اور ٹیکنیکل انٹرویو کلئیر کر چکا تھا - بس فائنل ایچ آر انٹرویو کال کا انتظار تھا - جسے کلئیر کرنا کچھ زیادہ مشکل نظر نہ آتا تھا کہ ایسے انٹرویو میں تو ظاہری رکھ رکھاؤ ، بول چال کا انداز اور وقت کی پابندی ہی زیادہ ضروری عوامل ہوا کرتے ہیں - مدثر کیمحنت کش ماں بھی اچھے دنوں کا ارمان دل میں لیے بیٹھی تھی جو کہ اب زیادہ دور نہ تھے -

سدرہ اور امین بھی اسی آبادی میں رہائش پذیر تھے - ان میاں بیوی کی آٹھ سالہ شادی شدہ زندگی میں اب تک ایک ہی کمی تھی کہ آنگن میں کوئی پھول نہ کھلا تھا - یہ کمی بھی اب دور ہونے کو تھی کہ ان کے ہاں پہلے بچے کی آمد آمد تھی - امین عجب سرشاری کی کفیت میں تھا ، اس کا بس نہیں چلتا تھا کہ سدرہ کو اپنی ہتھیلی کا چھالا بنا لے - اس نے پورا گھر کھلونوں اورآنے والے ننھے مہمان کے کپڑوں سے بھر دیا تھا - سدرہ بھی من ہی من میں جانے کیا سوچ سوچ کر زیرلب مسکراتی رہتی تھی - ڈاکٹر کی دی گئی  تاریخ کے مطابق ڈلیوری کا دن نزدیک ہی تھا  -

علی بھی اسی آبادی میں اپنے والدین کے ساتھ رہتا تھا - ایک ہونہار طالب علم  جس کا خواب نیورو سرجن بننا تھا - جانے کیوں اسے ڈاکٹرز ہمیشہ سے ہی فیسی نیٹ کرتے تھے - بلا کا پڑھاکو ، بچپن میں اسکول سے لے کر بورڈ کے امتحانات تک ہر جگہ کامیابی کے جھنڈے گاڑتا آیا تھا - فرسٹ ائیر میں تو اس نے بانوے فیصد نمبر لے کر سب کو حیران کر دیا تھا - اب سیکنڈ ائیر کے امتحانات سر پر تھے اور وہ سر توڑ کوشش میں تھا تاکہ ملک کے بہترین میڈیکل کالج کی میرٹ لسٹ میں اس کا نام آ جائے -

ثاقب صاحب بھی اسی آبادی میں رہتے تھے - سرکاری ملازم تھے - عمر یہی کوئی پچپن سال کے لگ بھگ تھی - گھر کے واحد کفیل تھے - پانچ سال سے عارضہ قلب میں مبتلا تھے مگر سرکاری طور پر علاج چل رہا تھا تو کسی کے زیر بار نہ تھے - ان کی سب سے بڑی پریشانی چار غیر شادی شدہ بیٹیوں کے فرض سے سبکدوش ہونا تھا ، یہی فکر انھیں اکثر بے چین رکھتی تھی -

رات گئےعلاقے میں مبینہ پولیس مقابلہ ہوا جس میں دو سگے بھائی مارے گئے - پولیس کا دعویٰ تھا کہ ڈاکو ایک گھر میں گھسنے کی کوشش کر رہے تھے ، گشت پر مامور پولیس موبائل نے موقع پر پہنچ کر للکارا تو بھاگ کھڑے ہوئے - بار بار کی وارننگ پر بھی نہ رکے تو پولیس نے فائر کھول دیا - اس فائرنگ کے نتیجے میں دو ڈاکو ہلاک ہوئے جبکہ دو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے - دوسری طرف پولیس کے ہاتھوں مارے جانے والے بھائیوں کے لواحقین کا کہنا تھا کہ ان بھائیوں کا ڈاکوؤں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا ، پولیس نے ذاتی دشمنی کی وجہ سے انہیں ڈکیتی میں ملوث کیا اور جعلی پولیس مقابلے میں مار دیا ہے -

پوسٹ مارٹم کے بعد جب دونوں بھائیوں کی لاشیں گھر آئیں تو ایک کہرام برپا ہو گیا - ماں کو غشی کے دورے پڑنے لگے ، باپ الگ غم کی شدت سے بے حال ہو رہا تھا - غم وغصے سے ابلتے ہوئے لواحقین نے پولیس کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا - علی الصبح دونوں بھائیوں کی میتوں کو چوراہے میں لایا گیا اور چوراہے کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا - پولیس اور حکومت وقت کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی گئی - کچھ لوگوں نے چوراہے سے گزرنے کی کوشش کی تو ان کو نہ گزرنے دیا گیا بلکہ لعن طعن بھی کی گئی کہ کیسے بے حس لوگ ہو، دو بے گناہ بھائی مر گئے مگر تمہیں صرف راستے سے گزرنے کی پڑی ہے - جن لوگوں نے زبردستی گزرنے کی کوشش کی انکی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا -

مدثر پوری رات مارے خوشی کے سو نہ سکا تھا - اسے ایچ آر انٹرویو کی کال آ گئی تھی ، صبح ساڑھے نو بجے اس کا انٹرویو تھا - اس کا خیال تھا کہ وہ نو بجے ہی آفس پہنچ جائے گا تاکہ کسی قسم کی دیر کا کوئی چانس ہی نہ رہے - وہ اپنا انٹرویو بالکل پرفیکٹ چاہتا تھا - اس نے رات کو ہی کپڑے تیار کر لیے تھے - صبح سات بجتے ہی  بستر سے اٹھا ، شاور لیا - ناشتہ کیا - تیار ہوا - ماں کی دعا لی اور بائیک پر سوار ہو کر گھر سے نکل آیا -

سدرہ کی طبیعت فجر کے وقت سے ہی کچھ گری گری تھی - پہلے تو اس نے زیادہ اہمیت نہ دی کہ ڈاکٹر کی دی گئی تاریخ کے مطابق ابھی ایک ہفتہ باقی تھا ، مگر کچھ دیر بعد اسے محسوس ہوا کہ وقت آ گیا ہے - اس نے فوراً ساتھ سوئے ہوئے امین کو اٹھایا اور صورتحال سے آگاہ کیا - امین فوراً ہی اسے ہسپتال لے جانے کی تیاری کرنے لگا - گاڑی میں سامان رکھا ، بیوی کو سہارا دے کر گاڑی میں بٹھایا اور گھر کا دروازہ کھولنے لگا -

صبح علی کا پہلا پیپر تھا - تیاری تو سب مکمل تھی مگر بورڈ کے امتحان کا اپنا ہی ایک رعب ہوا کرتا ہے - تھوڑی سی ٹینشن تو اسے ضرور تھی مگر یہ یقین بھی کہ اس کی تیاری بہترین ہے - اس کے میڈیکل کالج میں داخلے کا دارومدار انہی امتحانات پر تھا اور وہ کوئی پیپر تھوڑا سا بھی خراب ہو جانے کا رسک نہیں لے سکتا تھا - طے یہ پایا تھا کہ علی کے والد آفس جاتے ہوئے اسے امتحانی سینٹر چھوڑ دیں گے - صبح ہوئی تو علی بھی اپنے والد کے ساتھ امتحانی سینٹر جانے کے لیے گاڑی میں گھر سے روانہ ہوا -

ثاقب صاحب رات سے ہی کچھ بے چینی محسوس کر رہے تھے - ہوا کچھ یوں تھا کہ انکی بڑی بیٹی کو دیکھنے کچھ خواتین گھر آئی تھیں ، جو کہ لڑکی پسند نہ آنے پر منہ پر ہی انکار کر گئی تھیں - اس بات کو ثاقب صاحب نے بہت زیادہ محسوس کیا - پوری رات کروٹیں بدلتے رہے اور اندر ہی اندر کڑھتے رہے - صبح ناشتے کی میز پر آئے تو کافی نڈھال تھے - ناشتہ کرتے کرتے ہی میز پر ڈھے گئے - علامات سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ دل کا دورہ پڑا ہے - جلدی سے ہمسائے کو بلایا اور ثاقب صاحب کو گاڑی میں ڈال کر ہسپتال کی طرف روانہ ہوئے -

آبادی سے شہر کی طرف جانے والا واحد چوراہا احتجاج کے باعث ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند تھا - مدثر ٹریفک جام میں پھنسا احتجاجیوں کی منت سماجت کرتا رہا کہ مجھے جانے دو، میرا انٹرویو ہے ، مگر کسی نے اس کی بات نہ سنی - امین کی گاڑی کوشش کے باوجود بھی چوراہا کراس نہ کر سکی ، اس نے لڑ کر دیکھ لیا ، ہاتھ جوڑ کر دیکھ لیا مگر جب جذبات ابل رہے ہوں تو کون کسی کی بات سنتا ہے ، اس کی بیوی گاڑی میں تڑپتی رہی مگر کوئی احتجاجی ٹس سے مس نہ ہوا - علی بھی اسی بھیڑ میں پھنسا ہوا تھا ، اسے اپنا خواب کرچی کرچی ہوتا نظر آ رہا تھا ، مگر وہ اور اسکے والد اپنی گاڑی کے لیے چوراہے سے نکلنے کا راستہ نہ بنا سکے - ثاقب صاحب گاڑی کی پچھلی نشست پر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھے ، مگر چوراہے سے گزرنے کا راستہ انھیں بھی نہ مل سکا - 

اسی اثنا میں ٹی وی چینلز نے احتجاج کی لائیو کوریج شروع کر دی جس سے احتجاج میں اور زیادہ شدت پیدا ہو گئی - دو گھنٹے میں ہی پورے ملک کے الیکٹرانک میڈیا کی نظر میں  سب سے بڑا مسئلہ صرف یہی احتجاج بن گیا - ان حالات کو دیکھتے ہوئے اپوزیشن کیسے پیچھے رہ جاتی ، فوراً اپنے دو لیڈر احتجاج میں شمولیت کے لیے روانہ کر دئیے - اپوزیشن کے سربراہ نے پولیس اور حکمران جماعت کو میڈیا میں آڑے ہاتھوں لیا اور مقتولین کے لواحقین سے یکجہتی کا اظہار کیا - رائے عامہ اپنے خلاف بنتے دیکھ کے سوئی ہوئی حکومت بھی ہوش میں آئی - واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو معطل اور گرفتار کرنے کے احکامات جاری کر دئیے گئے - مقتولین کے لواحقین کی دادرسی کی گئی ، بیس لاکھ روپے کی امداد کا اعلان اور انصاف مہیا کرنے کا وعدہ کیا گیا - ان اقدامات کے بعد شام تک احتجاج نے دم توڑ دیا - مقتولین کی میتیں چوراہے سے اٹھا لی گیئں اور چوراہے کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا -

اگلی صبح چوراہے پر ٹریفک اسی طرح رواں دواں تھا - لگتا ہی نہیں تھا کہ کل یہاں کوئی احتجاج ہوا تھا - مگر کچھ گھرانوں کی زندگی بدل گئی تھی اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوئی تھی - مدثر انٹرویو کے لیے نہ پہنچ سکا تھا اور نوکری دوسرے امیدوار کو مل گئی تھی - ہسپتال نہ پہنچ پانے کے باعث سدرہ کا مس کیرج ہو گیا تھا اور ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ اب وہ کبھی ماں نہیں بن پائے گی - علی پیپر نہ دے سکا تھا ، سپلی میں پیپر کلئیر کر کے شاید ڈاکٹر بن بھی جاتا مگر اپنے پسندیدہ میڈیکل کالج میں کبھی داخلہ نہ لے سکتا تھا کہ وہاں داخلے کی پہلی شرط ہی یہ تھی کہ کسی بھی مضمون میں سپلی نہیں ہونی چاہیے - ثاقب صاحب نے اسی چوراہے میں تڑپ تڑپ کر جان دے دی تھی اور پیچھے ان کے گھر والوں کا کوئی والی وارث نہ تھا -

ہر وقوع پذیر ہونے والے واقعے کے ساتھ کچھ اور واقعات بھی جڑے ہوتے ہیں - مگر کسی کی نظر ان تک پہنچ نہیں پاتی - نہ میڈیا کی ، نہ اپوزیشن کی اور نہ ہی حکومت کی - سوچنے کی بات بس یہ ہے کہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والوں کے لواحقین کو تو شاید انصاف مل جائے ، مگر یہ چار گھرانے کس کے ہاتھ پر اپنے ارمانوں کا لہو تلاش کریں گے - میں اس سوال کا جواب سوچنے کی کوشش کر رہا ہوں ، آپ بھی سوچئے - 

Tuesday, 16 June 2015

تعویز

وہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا ایک عام سا ان پڑھ آدمی تھا - روایات میں جکڑا ہوا ایک مخصوص ڈگر پر زندگی جئے جا رہا تھا - اس کا آگے پیچھے کوئی بھی نہیں تھا ، نہ ماں باپ نہ ہی بہن بھائی - کچھ بے وقوف بھی تھا مگر ایسے ہی بے وقوفوں کی وجہ سے تو آس پاس کے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں -

کرنا خدا کا یہ ہوا کہ ایک بار وہ بیمار پڑ گیا - جیسا کہ عموماً ہوتا ہے کہ بیماری کو شروع میں اہمیت ہی نہیں دی جاتی کہ ایک دو دن میں خود ہی لوٹ پوٹ کر ٹھیک ہو جایئں گے ، اس نے بھی یہی کیا - مگر بیماری نے دو دن تو چھوڑ ایک ہفتے تک جانے کا نام نہ لیا - چاروناچار محلے کے مولوی صاحب کے پاس دم کرانے کے لیے جانا پڑا - دم کرانے کا عمل کوئی دو ہفتے چلا ہو گا ، مگر کوئی افاقہ نہ ہوا - تکلیف تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی - محلے کے مولوی صاحب سے شفا پانے میں ناکامی کے بعد کسی نے ایک شاہ صاحب کا پتا بتایا جن کے تعویذ ہر بیماری اور تکلیف کو رفع کر دینے کی شہرت رکھتے تھے - اس نے یہ در بھی کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا - شاہ صاحب کے آستانے پر حاضری دی ، شاہ صاحب بہت شفقت سے پیش آئے ، اس کی پوری بات سنی ، گلے میں لٹکانے کے لیے ایک خصوصی تعویذ عنایت کیا اور اگلے ہفتے پھر آستانے پر آنے کا کہا - اس نے مارے عقیدت کے وہ تعویذ فوراً گلے میں لٹکا لیا - ایک ہفتے میں بہتری تو کیا آنی تھی الٹا حالت مزید بگڑ گئی - گرتے پڑتے آستانے پر حاضر ہوا ، ایک اور تعویذ گلے میں لٹکایا اور واپس گھر چلا آیا - طبیعت تھی کہ سنبھلنے کا نام ہی نہ لیتی تھی، کچھ ہی ہفتوں میں وہ ہڈیوں کا پنجر بن چکا تھا  - محلے کے ایک پڑھے لکھے بندے نے مشورہ دیا کہ کب تک یہ دم اور تعویذ پر تکیہ کرو گے ، جاؤ جا کر کسی اچھے ڈاکٹر کو دکھاؤ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے - بات کچھ دل کو لگی اور ڈاکٹر کے پاس جانے کا قصد کیا مگر کمزوری اتنی ہو چکی تھی کہ چلا بھی نہ جاتا تھا - بہت مشکل سے ہمت جمع کی اور ڈاکٹر کے پاس چلا ہی گیا - ڈاکٹر نے جب اسکی حالت دیکھی تو سر پکڑ لیا ، اسے خوب ڈانٹ پلائی کہ اس حالت تک پہنچ گئے اور کسی ڈاکٹر کو دکھایا تک نہیں - ڈاکٹر نے کچھ کیپسول لکھ کر دئیے اور کچھ ٹیسٹ بھی - کہا کہ کپسول تو باہر کمپاؤڈر سے مل جایئں گے، ٹیسٹ شہر کی کسی اچھی لیب سے کرا کے رپورٹس اگلے ہفتے میرے پاس لے آنا - ڈاکٹر کے کمرے سے نکل کر اس نے کیپسول خریدے اور گھر کی راہ لی ، جانے کیوں ٹیسٹ کرائے ہی نہیں - ڈاکٹر سے چیک اپ کرانے اور ایلوپتھک دوائی کے استعمال کے باوجود بھی فرق نہ پڑ سکا - ڈاکٹر سے چیک اپ کرانے کے پانچویں دن صبح کے وقت اس کا انتقال ہو گیا - محلے والوں کو خبر ہوئی تو اس کے کفن دفن کا بندوبست شروع کیا کہ اس کے آگے پیچھے تو کوئی تھا نہیں - ایک ہمسائے کو قبرستان کی طرف دوڑایا گیا کہ قبر کے لیے گورکن سے بات کرے ، ایک غسال کو لے آیا کہ اسکے آخری غسل کا سامان ہو سکے -غسال نے جب اسے آخری غسل دینے کے لیے اسکا لباس اتارا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس کے گلے میں دو تعویزوں کے ساتھ ساتھ تین مختلف کیپسول بھی دھاگے کے ساتھ لٹک رہے تھے -

Sunday, 31 May 2015

ایک سفر کی روداد

یہ پچھلے سال کی بات ہے - نومبر شروع ہو چکا تھا ، سردیاں بس آیا ہی چاہتی تھیں مگر ابھی اسلام آباد میں اپنا رنگ جمانا شروع نہیں کیا تھا - گھر سے آفس اور آفس سے گھر کی وہی عام روٹین چل رہی تھی کہ اچانک لاہور آفس سے بلاوا آ گیا - سفر سےہماری جان جاتی ہے مگر حکم حاکم مرگ مفاجات کے مصداق رخت سفر باندھتے ہی بنی - ٹکٹ کٹایا اور بس میں سوار ہو گئے - ہمارے ساتھ والی سیٹ پر ہمارا ہمسفر ایک اکیس بائیس سالہ نوجوان تھا - ہمیشہ سے عادت رہی ہے کہ جان پہچان نہ بھی ہو تو بات چیت میں پہل کرنے میں کبھی جھجھک محسوس نہیں کی آس پاس کے لوگوں کے خیالات کو جاننے کی کوشش ہوتی ہے کہ اسی سے پتا چلتا ہے کہ آپ کے آس پاس موجود لوگ کیا سوچ رہے ہیں اور ان کا مینٹل کیلیبر کیا ہے - کچھ دیر میں بس ٹرمنل سے نکل کر موٹروے پر سبک رفتاری سے رواں دواں ہو گئی تو خود ہی بات چیت کا آغاز کیا ، معلوم ہوا کہ لڑکا انجنیئرنگ سٹوڈنٹ تھا ، کسی انٹرویو کے سلسلے میں راولپنڈی آیا ہوا تھا اور مردان سے تعلق رکھنے والا پختون تھا - اسی اثنا میں بس ہوسٹس نے لنچ باکس ، پانی اور ہیڈ فونز مسافروں میں تقسیم کیے - خیر بات سے بات چل نکلی اور آ جا کر ہر پاکستانی کے  پسندیدہ موضوع یعنی سیاست تک آ پہنچی - محتاط انداز میں پوچھا کہ ووٹ کس جماعت کو دیا تھا - جواب میں ایک پوری تقریر ہماری منتظر تھی کہ لوٹ کے کھا گئے سب سیاستدان ملک کو، ہماری قوم اپنی حالت بدلنا ہی نہیں چاہتی - تبدیلی ناگزیر ہے اسی لیے تحریک انصاف کو ووٹ دیا اور تبدیلی کا ساتھ دیا - اب اس فرسودہ نظام کو بدلنا ہو گا یہاں غریبوں کا حق مارا جاتا ہے ، جہاں بے ایمانی ہے ، جہاں عوام سے جھوٹ بولا جاتا ہے - وہ کہتا رہا اور ہم سنتے رہے ایسی ہی باتیں کرتے کرتے بھیرہ آ گیا اور بس رک گئی - لڑکے نے ہم سے پوچھا کہ آپ بس میں ہی بیٹھیں گے یا باہرجایئں گے - ہمارے پاس لیپ ٹاپ تھا اور کوئی ایسی ضرورت بھی نہ تھی باہر جانے کی ، سو بول دیا کہ ہم سیٹ پر ہی ہیں - لڑکے نے اپنا لیپ ٹاپ ہمارے حوالے کیا اور بولا آپ میرے لیپ ٹاپ کا دھیان رکھیں میں ابھی آتا ہوں -

کچھ دیر بعد وہ واپس آ گیا - بیس منٹ بعد بس  دوبارہ چلی تو لڑکے نے ہوسٹس کو بلایا اور کہا کہ میرا ہیڈ فون کام نہیں کر رہا مجھے دوسرا ہیڈ فون دے دو ، ہوسٹس نے دوسرا ہیڈ فون لا دیا - کچھ دیر وہ گانے سنتا رہا اور میں بھی اخبار پڑھتا رہا - تھوڑی دیر بعد اس نے پھر سے سیاست پر بات شروع کر دی - اس بار پتا چلا کہ جناب تبدیلی رضاکار بھی ہیں ، ایم این اے علی محمد خان کے ووٹر تھے جناب - دوران گفتگو مجھ سے پوچھا کہ آپ نے کس کو ووٹ دیا تھا ، بتایا کہ ہم نے نواز شریف کو ووٹ دیا تھا - اس بات پر اس نے ہمیں ایسے حیرانی سے دیکھا جیسے ہم سے گناہ کبیرہ سرزد ہو گیا ہو- بولا ، بھائی آپ تو پڑھے لکھے لگتے ہیں ، کیسے ان چوروں اور لٹیروں کو ووٹ دے دیا آپ نے - ہم نے مسکرا کر بات ٹال دی - ہم نے مردان کا حال پوچھا کہ کوئی تبدیلی آئی نئی حکومت آنے کے بعد ، کہنے لگا کہ اتنی جلدی تو کچھ نہیں بدلتا مگر حالات اے این پی کے زمانے سے بہت بہتر ہیں اور یہ بات کافی حد تک ٹھیک بھی تھی کہ اتنی جلدی بدلاؤ آتا نہیں اور اے این پی حکومت سے واقعی حالات بہتر ہیں - اس کے بعد بات سیاست سے دوسری طرف چلی گئی - کچھ دیر بعد موٹروے کے اختتام کے سائن بورڈ نظر آنا شروع ہو گئے اور بس ہوسٹس نے ہیڈ فونز واپس جمع کرنے شروع کیے - جناب کے پاس اب دو ہیڈ فونز تھے ، ایک سفر کے شروع میں لیا تھا اور دوسرا بھیرہ سے بس چلتے ہی مانگا تھا - ہوسٹس کو ایک ہی ہیڈ فون واپس کیا اور دوسرا ہیڈ فون نظر بچا کر لیپ ٹاپ بیگ میں رکھ لیا - ہوسٹس نے سب مسافروں سے ہیڈ فوز جمع کرنے کے بعد گنتی کی ، ایک ہیڈ فون کم نکلنے پر اعلان کیا کہ کسی کے پاس ہیڈ فون رہ گیا ہو تو واپس کر دے - جناب منہ کھڑکی کی طرف بیٹھے رہے ، اور مجھ سے نظر ملانے سے گریز کیا - ہوسٹس نے بس کے دو چکر لگائے - ہر مسافر سے پوچھا ، جناب سے بھی پوچھا مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا - میں نے یہ دیکھتے ہوئے سوچ لیا تھا کہ اگر جناب نہ پکڑے گئے تو بس سے اترتے وقت ہوسٹس کو بتا دوں گا کہ ہیڈ فون اس لڑکے کے لیپ ٹاپ بیگ میں ہے - ہوسٹس ہیڈ فون نہ ڈھونڈ سکنے پر پریشان ہو گئی تھی - ڈرائیور سے مشورہ کیا اور پھر اعلان کر دیا کہ لاہور ٹرمنل پر گارڈ ہر مسافر کی تلاشی لے گا اور جس مسافر کے پاس سے ہیڈ فون نکلا اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا - یہ سنتے ہی میرے ہمسفر کی حالت غیر ہو گئی - اس نے میری طرف دیکھا تو میری دھیمی سی مسکراہٹ نے اسے تپا سا دیا - اس نے اپنا رخ دوسری طرف کر کے لیپ ٹاپ بیگ کھولا ، ہیڈ فون نکالا اور مجھے دکھا کر بولا ، اوہ ماڑا یہ تو میری سیٹ پر نیچے گر گیا تھا - ذرا ہوسٹس کو بلا کر واپس تو کر دو - میں نے مسکرا کر کہا کہ خود بلا لو اب تو مسئلہ بڑھ گیا ہے ، اب تو کاروائی ہو گی ٹرمنل پر پہنچ کر - وہ بولا ، بھائی آپ ہوسٹس کو بلا تو دو ، میں نے آواز دی ، ہوسٹس آئی تو جناب نے آنکھیں ملائے بنا ہیڈ فون پکڑا دئیے اور کہا کہ مجھے پتا نہیں چلا تھا ، سیٹ سے نیچے گر گئے تھے - ہوسٹس نے جن نظروں سے اسے دیکھا ، صاف پتا چلتا تھا کہ کہہ رہی ہے کہ جناب آپ الو کے پٹھے ہیں اور میں بے وقوف نہیں - اسی دوران لاہور ٹرمنل آ گیا - جناب سب سے پہلے بس سے اترنے والوں میں سے تھے مبادا کوئی قانونی کاروائی ہو جائے - میں نے بھی اپنا سامان اٹھایا اور ٹرمنل سے باہر منزل کی طرف روانہ ہو گیا -

رکشہ میں بیٹھے گھر کی طرف جاتے بس یہی سوچ آتی رہی کہ ہمارے پڑھے لکھے نوجوان کے اخلاقی زوال کا یہ عالم ہے کہ تین سو روپے کے ہیڈ فون کے پیچھے چوری جیسا قبیح فعل سرانجام دے ڈالا حالانکہ اگر ستر ہزار کا لیپ ٹاپ خریدنے کی سکت رکھ سکتے ہو تو بھائی تین سو روپے کا ہیڈ فون بھی خرید لیتے - ستم بالائے ستم یہ کہ اگر تبدیلی کے قافلے کے ہراول دستے کے میر کارواں تبدیلی رضاکار ہی ایسے ہوں گے تو تبدیلی کے قافلے کا منزل کا نشان کھو بیٹھنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں - تبدیلی کے پروانے  کی اس کاروائی سے ایک بات تو ثابت ہو گئی تبدیلی کا عمل انسان کے اپنے آپ کو بدلنے سے شروع ہوا کرتا  ہے نہ کہ تقریروں اور بھاشن دینے سے - مگر جب میر کاروان تبدیلی کی خود اپنی ہی باتوں اور عمل میں اس قدر تضاد ہو تو پیروکار کو کیا کہیں - 

Sunday, 17 May 2015

کیری آن ناصر

گرمیوں کے دن تھے - ڈیرہ غازی خان کی تپتی دوپہر ، سورج سوا نیزے پر تھا - کڑی دھوپ سے بےنیاز کالونی کے ایک کونے میں واقع کرکٹ گراؤنڈ پر دو ٹیمیں آپس میں گتھم گتھا تھیں - میزبان ٹیم کا پلہ بھاری نظر آتا تھا کہ پانچ وکٹیں گرنے کے باوجود ان کے جارح مزاج اوپنر ناصر میاں ابھی تک کریز پر موجود تھے - رن چیز ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا کہ سدا کے جلد باز ناصر میاں نے اچانک ہی آگے بڑھ کر شاٹ مارنے کی کوشش کی اور فیلڈر کو کیچ تھما بیٹھے - امپائر نے آؤٹ قرار دیا مگر ناصر میاں کریز چھوڑنے کو تیار نہ تھے - ان کا خیال تھا کہ بال کندھے سے اونچی تھی اور اسے نو بال قرار دیا جانا چاہیے - امپائر ہرچند کہ میزبان ٹیم کا ہی ایک کھلاڑی تھا مگر اتنی کھلی بے ایمانی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا - تھوڑا رولا ڈالنے کے بعد ناصر میاں جھکتے بکتے پویلین کی طرف روانہ ہوئے اور سارا ملبہ اپنی غلط شاٹ کی بجائے امپائر پر ڈال دیا کہ جنہوں نے انھیں نو بال پر آؤٹ قرار دیا - ناصر میاں کے آؤٹ ہونے کے بعد باقی بیٹسمین ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور میزبان ٹیم میچ ہار گئی - میچ کے بعد ناصر میاں نے خوب شور مچایا کہ یہ ہار انکی غلط شاٹ نہیں بلکہ امپائر کے غلط فیصلے کی وجہ سے مقدر بنی تھی ، مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے -

ناصر میاں کی خوبیاں کیا بیان کی جایئں ، بس یہ سمجھ لیں کہ خطاؤں سے مبرا ایک انسان تھے جناب - اپنی غلطی کبھی بھی تسلیم نہ کرنا انکا طرہ امتیاز تھا - اور اپنی کسی بھی ناکامی کا ملبہ دوسروں کے سر ڈالنے میں ید طولی رکھتے تھے - اک عجب سا پیرا نویا تھا ان کو ، ہر بندہ اپنے خلاف سازش کرتا ہوا نظر آتا تھا - جب کسی ٹیم کے ساتھ میچ نہیں ہوتا تھا اور شام کو آپس میں پریکٹس میچ کھیلا جاتا تھا تب بھی ناصر میاں کا عجیب ہی رویہ ہوا کرتا تھا - فلاں لڑکے کو اپنے ساتھ پریکٹس نہیں کرانی ، یہ دوسری ٹیم کا ہے اور ہمیں آؤٹ کرنے کے طریقے سیکھ رہا ہے - فلاں بندہ ہماری باتیں سب کر ہمارا گیم پلان سمجھ رہا ہے وغیرہ وغیرہ - الغرض یہ ذہنیت کھیل کے میدان تک محدود نہ تھی ، پڑھائی میں بھی حالات چنداں مختلف نہ تھے - محنتی ہونے کے باوجود کبھی ٹاپ تھری پوزیشنز پر نہ آ سکے ، وجوہات ہمیشہ مختلف ہوا کرتی تھیں ، کبھی قلم عین کمرہ امتحان میں دغا دے جاتا ، کبھی ایکسٹرا شیٹ ممتحن دیر سے دیتا اور وقت کی کمی کی وجہ سے پیپر پورا نہ کر پاتے - کبھی ٹاپ تھری پر آنے والوں نے نقل کر کے ناصر میاں کا حق مارا ہوتا اور کبھی شدید گرمی میں ہونے والے امتحان میں ان کے عین اوپر موجود پنکھا جواب دے جاتا اور پیپر کا ستیاناس ہو جاتا - الغرض پوری کائنات اس کوشش میں ہوتی کہ ناصر میاں کہیں ٹاپ تھری پوزیشنز میں سے ایک پر پراجمان نہ ہو جایئں - اب پوری کائنات ہی کسی کے خلاف متحرک ہو جائے تو ایک تنہا انسان کہاں تک مقابلہ کرے - بیچارے ناصر میاں کو پانچویں یا چھٹی پوزیشن پر ہی اکتفا کرنا پڑتا -
وقت گزرتا چلا گیا - کرکٹ اور دوسرے کھیل خواب و خیال ہو گئے - ایف ایس سی کے بعد سب دوست بھی یہاں وہاں بکھر گئے - کوئی ڈاکٹر بنا تو کوئی انجنیئر ، کسی نے اپنا بزنس شروع کیا تو کوئی سرکاری ملازمت اختیار کر گیا - کچھ عرصہ پہلے قبل ایک بچپن کے دوست سے ملاقات ہوئی تو ناصر میاں کا بھی ذکر آیا ، پتا چلا کہ جناب کے رویے میں بہت زیادہ مثبت تبدیلی آ گئی ہے - زمانے کے نشیب و فراز نے سمجھا دیا ہے کہ انسان کو ملتا وہی ہے جس کے لیے اپنے زور بازو سے کوشش کی جائے اور تن من دھن کی بازی لگائی جائے - ناصر میاں کو آگہی بی ایس سی کے دوران ملی اور وہیں سے ان کی کایا کلپ ہو گئی - ایم ایس سی پاکستان کی اچھی یونیورسٹی سے کرنے کے بعد جناب ایک سرکاری ادارے میں گریڈ سترہ کے افسر لگے - اب گریڈ اٹھارہ میں پروموٹ ہو چکے ہیں - زندگی آسان ہے اور راوی چین ہی چین لکھتا ہے -
ناصر میاں نے تو اپنا سبق سیکھ لیا اور خود ترسی و خود ترحمی کے احساس سے جان چھڑا لی - مگر آپ کو اپنے آس پاس بہت سے لوگ ایسے نظر آیئں گے جو خود ترحمی کے احساس سے نکلنا ہی نہیں چاہتے - اپنی زندگی میں ہونے والی ہرشکست ہر ناکامی کا ملبہ دوسرں پر ڈالنا اپنا فرض سمجھتے ہیں - کبھی یہ سمجھنا نہیں چاہتے کہ کبھی کبھار آپ کی سو فیصد کاوش بھی جیت کو پانے کے لیے کم پڑ جاتی ہے - ایسا کرنا اس لیے بھی آسان نظر آتا ہے کہ اس کے بعد اپنے آپ میں بہتری لانے کی کوئی کوشش نہیں کرنی پڑتی جو کہ ایک مشکل امر ہے - آپ کو جب بھی اپنے آس پاس کوئی ایسا شخص نظر آئے تو اس کے کندھے پر تھپکی دے کر وہی فقرہ بولیں جو ہم بچپن میں اپنے دوست ناصر کو بولا کرتے تھے ، "کیری آن ناصر" - شاید کسی دن وہ بھی اپنی اصلاح کر لے -

Monday, 11 May 2015

قصہ ایک پردیسی کا

یہ قصہ ایک عزیز نے سنایا - شاید بہت سے لوگوں کو محسوس ہو کہ یہ کہانی ان کی اپنی ہے - ہمارے معاشرے کا عام چلن یہی ہے جو اس قصے میں بیان کیا گیا -  ایک بیان کردہ قصہ دوستوں کی نظر کر رہا ہوں ۔۔۔ 

وہ ایک کھلنڈرا سا لڑکا تھا - متوسط گھرانے سے تعلق تھا - ایسا نہیں تھا کہ دولت کے انبار ہوں مگر زندگی سکون سے گزر رہی تھی ، بنیادی سہولیات سب مہیا تھیں - پڑھائی میں بس گزارے لائق ہی تھا - گرتے پڑتے گریجویٹ کیا - پاکستان میں نوکری سڑک پر پڑی تو ملتی نہیں ، انجنیئر اور ایم بی اے کی قدر نہیں ، ایک گریجویٹ کی دال کہاں گلتی - ایک دو جگہ چھوٹی موٹی نوکری کی مگر بات نہ بن سکی - تنگ آ کردیار غیر میں قسمت آزمائی کی ٹھانی - والدین کو ہمنوا بنایا اور برطانیہ کے لیے رخت سفر باندھ لیا - 

برطانیہ پہنچا تو پتا چلا کہ پیسے یہاں بھی درختوں پر نہیں لگتے ، جان مارنی پڑتی ہے پھر کہیں جا کر چار پیسے ہاتھ آتے ہیں - ہاں یہ ضرور ہے کہ کرنسی ریٹ میں تفاوت کی وجہ سے یہاں کا ایک پاؤنڈ پاکستان پہنچتے پہنچتے ایک سو چون روپوں میں تبدیل ہو جایا کرتا ہے - وائٹ کالر جاب ملنا آسان نہیں نہ ہی یہاں  پاکستانی ڈگری کی کوئی وقعت ہے - کچھ دھکے کھانے کے بعد ایک ڈیپارٹمنٹل اسٹور کے کیش کاؤنٹر پر نوکری مل ہی گئی - چھ ماہ یونہی گزرے - بیرون ملک جا کر نوٹ چھاپنے کے سہانے سپنے ایک ایک کر کے دم توڑ رہے تھے - برطانیہ میں رہن سہن کے اخراجات بھی کافی زیادہ تھے - یہاں کے اخراجات سے پیسے بچا کر پاکستان بھیجنا ایک مشکل مگر ضروری امر تھا - گھر بار ، بہن بھائیوں ، دوستو یاروں سے دور پردیس میں رہنا ایک جان لیوا تجربہ ثابت ہو رہا تھا - وہ ماں کے ہاتھ کے بنے کھانے ، وہ بہنوں کا ناز نخرے اٹھانا ، وہ دوستوں کی محفلیں سب خواب و خیال ہو چکی تھیں - زندگی میں کبھی ہل کر پانی نہ پیا تھا مگر یہاں تو کھانا بھی خود ہی بنانا پڑتا تھا کہ روز روز باہر کھانا کهانے کی عیاشی نہیں کی جا سکتی تھی - زندگی بس ایک دائرے میں گھوم رہی تھی، وہی لگے بندھے معمولات ، صبح کام پر جانا اور شام کو گھر آنا، پھر وہی ایک کمرہ جو ایک بنگالی ایک انڈین اور ایک پاکستانی کے ساتھ مل کر کرائے پر لیا گیا تھا - گوروں کا حقیقی دیس انگلش فلموں میں دکھائے گئے گوروں کے دیس سے بہت مختلف تھا - پیسہ مینہ کی طرح برس رہا ہوتا تو شاید یہ سب گوارا بھی ہو جاتا مگر یہاں تو پیسے پاکستان بھیجنے کے بعد مہینہ عزت سے گزر جائے یہی بہت تھا -

ٹھیک چھ ماہ بعد پاکستان سے فون آیا ، بہن کی شادی سر پر تھی اور بہن کے سسرال والے باتوں باتوں میں جتا چکے تھے کہ لڑکی کا بھائی تو برطانیہ میں ہوتا ہے ، مطلب فلاں فلاں اور فلاں چیز تو لڑکی ساتھ ہی لائے گی - باپ پریشان تھا اور بیٹے کو کہہ بیٹھا کہ لوگ باہر جاتے ہیں تو بریف کیس بھر بھر کر نوٹ بھیجتے ہیں ،تم بس یہی پچیس ہزار بھیج دیتے ہو ہر ماہ - آخر دل لگا کر وہاں کام کیوں نہیں کرتے تاکہ ہمیں بھی پاکستان میں سکھ کا سانس آئے - اور یہ بھی کہ نالائق بندہ نالائق ہی رہتا ہے چاہے پاکستان میں ہو یا برطانیہ میں - باپ نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا مگر بیٹا اس رات سو نہ پایا - پچھلے چھ ماہ کی ریاضت اور فون پر کہی باپ کی باتیں ذہن میں گڈ مڈ ہوتی رہیں -

اگلی صبح بھی سورج مشرق سے ہی نکلا تھا مگر اس کا جہان بدل چکا تھا - اب اسے بس پیسا کمانا تھا ، حلال حرام میں فرق کیے بنا - اس تفصیل میں جانا بیکار کہ پردیس میں  کیا کیا کام کیے اور کیا نہ کیے - مگر یہ ضرور تھا کہ بہن کی شادی دھوم دھام سے ہو گئی - اتنا جہیز دیا کہ سسرال والوں کے منہ بند ہو گئے - اس کے بعد تو چل سو چل ، جیسے شیر کے منہ کو انسانی خون لگ جائے تو پھر وہ آدم خور ہو جاتا ہے ، اسی طرح جب حرام کھانے کی عادت پڑ جائے تو حلال کی طرف دل مائل ہونا تقریباً ناممکن ہو جایا کرتا ہے - پہلے بھائی کی فرمائش آ گئی ون ٹو فائیو بائیک کی ، اس سے فراغت ہوئی تو چھوٹی بہن کو آئی فون سکس بھا گیا کہ کالج کی ایک دوست کے پاس بھی وہی فون تھا - یہ دو فرمائشیں نبیڑکر سانس لیا ہی تھا کہ کچھ ہی عرصے بعد ابا کو یاد آیا کہ کب تک خیبر گاڑی چلایئں گے ، اب اپ گریڈ کرنا چاہیے - قرعہ ٹویوٹا کے نام نکلا کہ شریکوں کے پاس بھی وہی گاڑی تھی - فرمائش مہنگی تھی سو ہاتھ بھی لمبا مارنا پڑا اور وقت بھی زیادہ لگا ، مگر جیسے تیسے کر کے یہ خواہش بھی پوری کر ہی دی - بس پہلی بار ہی ضمیر کو سلانا مشکل ہوا کرتا ہے ، اس کے بعد آسانی ہی آسانی ہے ، کبھی تنہائی میں ضمیر کچوکے لگائے بھی تو سب الزام گھر والوں پر ڈال کر خود بری الزمہ ہو جانا ایک آسان امر ہے -

برطانیہ آئے تین سال بیت چکے تھے ، گھر بار ، والدین  بہن بھائیوں اور دوستوں کی یاد ستا رہی تھی - سوچا کہ پاکستان کا چکر لگایا جائے - سرپرائز کے چکر میں پاکستان میں کسی کو خبر نہ کی کہ پاکستان آنے کا پلان ہے - جو اچانک گھر کے دروازے پر نمودار ہوا تو گھر والوں کے لیے خوش گوار سرپرائز سے زیادہ ایک ڈراؤنا خواب بن گیا کہ کہیں ڈی پورٹ ہو کر تو نہیں آ گیا واپس - سب سے پہلے ابّا نے پوچھا ، خیر سے آیا ہے نہ پتر - جب پتا چلا کہ چھٹی آیا ہے تو سب کی جان میں جان آئی - پہلا سوال جو ماں نے پوچھا وہ نہ حال احوال کا تھا نہ ہی وہاں گزارے شب و روز کے بارے میں - وہ سوال تھا کہ کتنی چھٹی آیا ہے پتر - الله خیر سے واپس لے کر جائے ابھی تو بہت خرچے سر پر ہیں - اس کو اک عجب سا احساس ہوا - وہ ولولہ وہ جوش و خروش جو دل میں لے کر برطانیہ سے چلا تھا کچھ ماند سا پڑ گیا - کچھ دیر غائب دماغی کی حالت میں گھر والوں کے ساتھ بیٹھا رہا پھر تھکن کا بہانہ بنا کر اپنے کمرے میں چلا آیا - لیٹے لیٹے ہی آنکھ لگ گئی - اٹھا تو شام ہو چکی تھی - باہر آیا تو چھوٹے بہن بھائی سامنے ہی بیٹھے تھے - ان کا سارا جوش و جذبہ صرف اس بات پر تھا کہ بڑا بھائی ان کے لیے کیا لایا ہے - سب خاندان والوں کے لیے لائے تحفے  انکے حوالے کیے مگر اپنے اندر کی گھٹن کچھ اور بڑھ گئی - وہ پرانے رشتے تو جیسے کہیں کھو ہی گئے تھے - بس ایک ہی رشتہ باقی رہ گیا تھا - پیسے کا رشتہ - اسے ایسا لگنے لگا انسانی رشتے غرض پر ٹکے ہوتے ہیں ۔ اسکا  کوئی ٹھکانہ نہ رہا ۔ نہ دنیا میں نہ ہی  آخرت میں - ایک کسک دل میں لیے وہ واپس چلا گیا - 

شاید اپنے اور خاندان کے بہتر مستقبل کی خاطر پردیسی ہو جانے والوں کا پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ بس ایک ہی رشتہ رہ جاتا ہے ، ضرورت کا رشتہ ، غرض کا رشتہ -  

Wednesday, 29 April 2015

کہانی دو گدھوں کی

کسی دور دراز ملک کے دور افتادہ علاقے کے ایک کونے میں دو بڑے بڑے باڑے ساتھ ساتھ تھے - ایک باڑا بہت شاندارہرا بھرا ، پانی بھی وافر موجود ، دوسرا باڑا بس اڑتی ہوئی خاک کہیں کوئی ٹاواں ٹاواں گھاس کے چھوٹے چھوٹے قطعات اور پانی بھی بس پورا پورا ہی - شاندار باڑے میں زیبروں کا غول رہائش پذیر جبکہ مفلوک الحال باڑے میں گدھوں کا غول رہائش پذیر - اپنی اپنی قسمت پر قانع دونوں غول اپنی زندگی جے جا رہے تھے - نجانے کیسے زیبروں کے غول میں دو چھوٹے چھوٹے گدھے کے بچے بھی تھے، نہیں معلوم کیسے وہ گدھوں کے غول سے زیبروں کے غول میں دوسرے باڑے میں چلے گئے - پر جب سے ہوش سنبھالا اپنے آپ کو زیبروں کے ساتھ ہی پایا - اچھی خوراک ، وافر پانی صحت پر اچھا اثر چھوڑتے نظر آتے تھے تبھی وہ گدھے کے بچے دیکھنے میں کوئی اتنے گدھے نظر نہ آتے تھے - زیبرے ان کے بارے میں کیا سوچ رکھتے تھے، کچھ کہنا مشکل تھا - پر یہ ضرور تھا ان گدھے کے بچوں پر کوئی روک ٹوک نہ تھی - کچھ بچہ زیبروں نے اپنے سے اس مختلف مخلوق سے الجھنے کی کوشش کی بھی تو نہایت نرمی سے انھیں منع کردیا گیا کہ ایسی حرکتیں مناسب نہیں ، جب ساتھ رہنا ہے تو ہنسی خوشی رہنا ہی بہتر - البتہ یہ ضرور تھا کہ ان گدھے کے بچوں کے بارے کچھ زیبروں میں کانا پھوسی چلتی رہتی تھی، مگر کبھی ان گدھے کے بچوں کے منہ پر کسی نے کوئی بات نہ کی -
وقت گزرتا گیا ، گدھے کے بچے بڑے ہو کر پورے کے پورے گدھے ہو گئے - خوراک اور پانی کی فراوانی نے آنکھوں پر ایسی پٹی باندھی کہ اپنی اصل ہی بھول گئے - ساتھ والے باڑے کے گدھوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا اور ان پر دیگر زیبروں کے ساتھ مل کر آوازے کسنا معمول بن گیا  - گدھے بیچارے مجبورولاچار نہ اچھی خوراک نہ ہی پانی میسر بس انکے آوازے سنتے اور اوپر آسمان کی طرف دیکھ کر نجانے کیا فریاد کرتے رہتے تھے - اوروں کا تو کوئی گلہ نہ تھا پر جو تکلیف اپنے دیتے تھے اس کا تو کوئی مداوا ہی نہ تھا - باڑوں کی حفاظتی باڑ  اتنی مضبوط تھیں کہ کہ ٹوٹنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا - وقت کا دھارا بہتا رہا-  ایک رات  خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ کہ شدید طوفان آیا - ایسا کہ کبھی کسی نے دیکھا نہ سنا - بڑے بڑے درخت جڑوں سے اکھڑ گئے ، کیا گدھے کیا زیبرے سب دبک کربیٹھے رہے اور انتظار کرتے رہے کہ یہ گھڑی بخیروعافیت گزر جائے - پھر جیسا کہ وقت اچھا ہو یا برا، گزر ہی جاتا ہے یہ طوفان بھی گزر گیا - صبح جب زیبروں اور گدھوں نے باہر نکل کر دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ دونوں باڑوں کے بیچ کی حفاظتی باڑ میں ایک بڑا شگاف پڑ چکا ہے - بظاہر اب گدھوں کے زیبروں کے باڑے میں جانے میں کوئی رکاوٹ نہ رہی تھی - گدھے بیچارے ساری زندگی سر جھکا کر مرعوب ہو کر گزاتے رہے تھے ، اپنے اندر اتنی ہمت کہاں سے پیدا کرتے کہ اس شگاف کو عبور کر کے دوسری طرف جا سکیں - بس ٹکر ٹکر اس شگاف اور ہری بھری گھاس کو دیکھا کرتے -
کچھ دن ایسے ہی گزر گئے - دوسری طرف زیبروں کے غول میں کھلبلی مچ چکی تھی - ایک خفیہ اجلاس بلایا گیا جس سے ان دو گدھوں کو لاعلم رکھا گیا - اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس سے پہلے کہ گدھے ہمت پکڑیں اور اس شگاف کو عبور کرنے کی کوشش کریں - ایک ہی بار زیبروں کو خود شگاف عبور کر کے گدھوں پر حملہ کرنا چاہیے تاکہ ان کے دل میں اگر کسی قسم کا خیال ہے بھی شگاف عبور کرنے کا تو وہ اسکی جرات ہی نہ کر سکیں - حملے کے لیے اگلی صبح کا وقت رکھا گیا - صبح ہوئی تو زیبروں نے صف بندی کی ، اپنے ساتھ رہنے والے دونوں گدھوں کو عین اسی وقت بتایا گیا کہ منصوبہ کیا ہے - دونوں گدھے جو پچھلے  کچھ دنوں میں کافی دفعہ شگاف عبور کر کے دوسرے باڑے جا چکے تھے اور اب اپنی نسل سے تھوڑی بہت ہمدردی محسوس کر رہے تھے ، حملے کا منصوبہ سن کر ششدر رہ گئے - فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا تھا، دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا - اور خدا جانے دل ہی دل میں کیا فیصلہ کیا اور زیبروں کی صف بندی میں شامل ہوگئے- یکایک زیبروں کے سردار نے آواز لگائی اور پورے غول نے تیزی کے ساتھ شگاف کی طرف بھاگنا شروع کیا - دوسری جانب گدھوں کے غول نے شگاف کے اس جانب دھول اٹھتے دیکھی تو کچھ  سمجھ نا سکے کہ ماجرا کیا ہے ، اتنے سیانے ہوتے تو گدھے کاہے کو کہلاتے غریب -ابھی سنبھلنے بھی نا پائے تھے کہ زیبرے ہینگتے ہوئے شگاف میں سے انکے باڑے میں داخل ہو گئے - اتنا زوردار ہلا بولا کہ گدھوں کا غول تتر بتر ہو گیا ، جس کا جدھر کو منہ تھا اسی طرف بھاگ نکلا - چند ایک گدھوں نے مقابلے کی کوشش کی پر زخم اٹھاتے ہوئے پسپا ہونا ہی مقدر ٹھہرا کہ قدرت  اپنے اصول صرف کسی کی مظلومیت پر ترس کھا کر بدلا نہیں کرتی - کم و بیش ایک گھنٹے تک یلغار جاری رہی - گدھوں کے غول کی رہی سہی ہمت بھی توڑ دی گئی - فاتح زیبرے فتح کے جھنڈے لہراتے اپنے باڑے کی طرف داخل ہوئے تو یکایک کسی کو ان دو گدھوں کا خیال آیا- ڈھنڈیا  پڑی تو دونوں کہیں نظر ہی نہ آئے ، نہ ہی زیبروں کے باڑے میں اور نہ ہی گدھوں کے باڑے میں - خدا جانے انکو زمیں نگل گئی یا آسمان - خیر وہ کونسے کسی کے چہیتے تھے کہ انکے لیے پریشان ہوا جاتا - نہ زیبروں کے جگر کے ٹکڑے نہ ہی گدھوں کے دل کا چین - سو بھلا دئیے گئے -

کسی کہنے والے نے کہا کہ غالباً گدھوں اور زیبروں میں سے کسی ایک کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرنے میں قاصر رہنے کے بعد لڑائی شروع ہوتے ہی دونوں گدھے باڑے کے ایک کونے میں موجود تنگ سے سوراخ سے نکل کر دونوں باڑوں سے دور کسی نامعلوم منزل کی طرف روانہ ہو گئے تھے - اس کے علاوہ چارہ بھی کیا تھا ، وہ جو اپنی اصل بھول جایئں ایسے ہی بے نام و نشان اور بے منزل ہو جایا کرتے ہیں-