Sunday, 8 November 2015

ڈاکٹر پتر

وہ پنجاب کے ایک دورافتادہ گاؤں کا رہنے والا تھا - پڑھائی کی طرف رجحان تھا سو گاؤں کے چھوٹے سے ٹاٹ اسکول بہت شوق سے تعلیم حاصل کرنے جایا کرتا تھا - باپ خود تو کسان تھا مگر بیٹے کا پڑھنے لکھنے کا شوق اسے بھی بھاتا تھا - شاید میری اگلی نسل پچھلی نسل سے آگے بڑھ جائے پڑھ لکھ کر ، دل ہی دل میں سوچتا اور بیٹے کی حوصلہ افزائی کرتا - وہ دس سال کا تھا جب اس کے چاچا کا گاؤں کے ایک معمولی جھگڑے میں سر پھٹ گیا - علاقے کا اکلوتا ہیلتھ یونٹ کسی بھی ڈاکٹر سے محروم تھا سو چاچا کو سر پر ٹانکے لگوانے تیس کلومیٹر دور بڑے قصبے کی ڈسپنسری لے جانا پڑا - اس واقعے نے اس کے دل پر گہرا اثر کیا اور اس نے دل ہی دل میں عہد کیا کہ وہ بڑا ہو کر ڈاکٹر بنے گا اور اپنے گاؤں کے ہیلتھ یونٹ میں ہی کام کرے گا -

وقت گزرتا گیا ، گاؤں کے اسکول سے پرائمری تک پڑھا، پھر اپنے گاؤں سے کچھ دور موجود بڑے گاؤں کے اسکول سے میٹرک کا امتحان بہت ہی اچھےنمبروں  سے پاس کیا- ایف ایس سی میں داخلے کے لیے موجود قریب ترین کالج بھی گاؤں سے تیس  کلو میٹر دور تھا اور اس کالج کا کوئی ہوسٹل بھی نہیں تھا - یہاں اس کے باپ نے اسکی مدد کی اور پیسے جوڑ کر اسے سائیکل دلا دی تاکہ روز کالج آ جا سکے - ایف ایس سی میں اس نے پری میڈیکل مضامین کا انتخاب کیا کہ اسے خود سے کیا گیا عہد خوب یاد تھا - دو سال روزانہ صبح اٹھ کر تیس کلو میٹر سائیکل چلا کر کالج جانا اور سہ پہر کو واپس آنا اتنا آسان نہ تھا اوراس پر مستزاد یہ کہ  میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے میرٹ بنانا بھی جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا - مگر اس کی لگن نے اسے تھکنے نہ دیا - دو سال بعد پہلے ایف ایس سی کا نتیجہ شاندار اور پھر انٹری ٹیسٹ بھی کلئیرکرتا ہوا وہ میڈیکل کالج میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو ہی گیا -

لاہور، اپنے آپ میں ایک الگ ہی دنیا ہے یہ شہر بھی - سچ کہتے ہیں کہ چھوٹے شہروں ، قصبوں اور دیہاتوں سے آنے والے اس شہر کی چکا چوند میں گم ہو کر واپسی کا راستہ بھول جاتے ہیں - سروسز انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز لاہور میں اس کا ایڈمشن ہوئے یہ دوسرا ہفتہ تھا - وہ ابھی اس نئے ماحول میں ایڈجسٹ نہ ہو پایا تھا - اتنے بڑے شہر میں وہ اپنے آپ کو اور اپنے گاؤں کو بہت ہی چھوٹا محسوس کرتا تھا - شروع کے کچھ ہفتے تو وہ ہوسٹل سے کالج اور کالج سے ہوسٹل کے علاوہ کہیں نہ جاتا کہ اسے اس شہر کی بھیڑ سے خوف آتا تھا - پھر آہستہ آہستہ وہ اس شہر اور اس کے ماحول کا عادی ہونے لگا - اس نے اپنے ارد گرد کا باریک بینی سے جائزہ لینا شروع کیا ، دوست یار بنانے شروع کیے ، باہر گھومنا پھرنا شروع کیا - کچھ ہی عرصے میں اس میں کافی تبدیلی آ گئی ، اس کا خود پر اعتماد بڑھ گیا اور وہ اپنی کلاس کے طالب علموں میں بھی نمایاں ہونے لگا - ایک دن وہ علی الصبح کالج کے ساتھ  ہی موجود ریس کورس پارک  میں صبح کی سیر کے لیے گیا ، واپسی پر دوسری طرف کے گیٹ سے نکلا تو عجب منظر دیکھا - قطار میں شاندار بنگلے تھے ، تقریباً ہر بنگلے کے باہر ڈرائیو وے پر کاریں کھڑی تھیں اور باوردی ڈرائیور حضرات تندہی سے کاریں دھونے میں مصروف تھے - یہ منظر اس کی نظر میں کھب سا گیا - کالج جا کر ایک دوست سے اس بارے پوچھا تو پتا چلا کہ وہ جی او آر ون ہے ، اعلیٰ سرکاری افسران کی کالونی ، پھر ٹیچر کلاس میں آ گیا اور بات ختم ہو گئی مگر اس کے دل میں کھدبد لگی رہی - میڈیکل کی پڑھائی اتنی آسان نہ تھی ، یہ بات اسے پہلے چھ ماہ میں ہی اچھے طریقے سے سمجھ آ چکی تھی - وہ بدل رہا تھا، اسکی سوچ بدل رہی تھی مگر شاید خود اسے بھی ابھی اس بات کا ادراک نہ تھا -

چار سال بیت گئے تھے - ایک اور سال کی پڑھائی ، ہاؤس جاب اور پھر وہ ڈاکٹر بن جاتا - مگر ان چار سالوں نے اسے بدل دیا تھا - شاید شہر میں رہ کر وہ بھی مادیت پسند ہو گیا تھا - اپنے سینئرز کا حال وہ دیکھ چکا تھا ، ہاؤس جاب کے بعد کیسے دھکے کھا رہے تھے ان میں سے اکثر - جن کے ماں باپ کے پاس پیسا تھا وہ باہر اسپیشلائیزیشن کے لیے جا رہے تھے ، کچھ مختلف سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں نوکریاں کر رہے تھے - جتنی محنت اور وقت ڈاکٹری پڑھتے ہوئے لگتا ہے ، اس کا عشر عشیر بھی نہیں ملتا نوکری کرتے وقت - یہ سب دیکھ کر وہ مخمصے میں پڑ چکا تھا - گاؤں کے ہیلتھ یونٹ کو آباد کرنے کا سوچتا تو دماغ تاویلیں دیتا کہ اس ہیلتھ یونٹ میں تو کوئی سرکاری ڈاکٹر ہی آ کر بیٹھے گا ، خدا جانے مجھے سرکاری نوکری ملے نہ ملے - اب بنا اپا ئینٹمنٹ کے خود سے جا کر تو ہیلتھ یونٹ میں نہیں بیٹھ سکتا نا ، یہ نامناسب بات ہو گی اور خلاف قانون بھی - وہ اپنے آپ کو مطمئن کر چکا تھا کہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد اس کا واپس گاؤں نہ جانا ایک درست اوربہتر فیصلہ ہے -

اب اگر میڈیکل پریکٹس نہیں کرنی ہاؤس جاب کے بعد تو پھر کیا کرنا ہے ، اس بارے میں وہ جب بھی سوچتا تو اس کے ذہن میں جی او آر ون کے بنگلے ، ڈرائیو وے میں کھڑی کاریں اور ان کاروں کو دھوتے باوردی ڈرائیور آ جاتے اور وہ مقابلے کے امتحان میں بیٹھنے کے بارے میں سوچنے لگتا جسے پاس کر کے وہ یہ سب حاصل کر سکتا تھا - اسے محسوس ہوتا کہ اس طرح اسے وہ لائف سٹائل مل سکتا ہے جوپچھلے تین سال سے اس کے ذہن میں ایسا کھبا ہے کہ اس کے علاوہ کچھ سجھائی ہی نہیں دیتا - بنگلہ ، نوکر ، ڈرائیور ، گاڑی اور افسری ، یہ موجیں اسے میڈیکل پروفیشن میں اگلے پندرہ سال بھی نہ ملنے والی تھیں -

ہاؤس جاب تمام ہو چکی تھی - وہ اپنے گھر والوں کو بھی اپنا ارادہ بتا چکا تھا کہ وہ مقابلے کے امتحان میں بیٹھنے جا رہا ہے - اس کے باپ نے اس سے کہا بھی کہ پتر گاؤں واپس آ جا ، ہم گاؤں والوں کو آج بھی علاج کرانے تیس کلومیٹر دور جانا پڑتا ہے ، مگر اس نے دلائل دے کر باپ کو خاموش کرا دیا - یہ پہاڑ سر کرنے کے بعد اس نے جان لگا کر مقابلے کے امتحان کی تیاری شروع کی - محنتی تو شروع سے ہی تھا ، کامیاب کیسے نہ ہوتا - پہلی ہی کوشش میں تحریری امتحان اور انٹرویو دونوں میں کامران ٹھہرا - میرٹ لسٹ کے مطابق اس کا نام انکم ٹیکس گروپ میں آیا تھا ، یہ فیلڈ اس کی سابقہ تعلیم سے متعلق نہ تھی مگر اسے یقین تھا کہ ایک سال کی ٹریننگ میں وہ نئے پروفیشن کے اسرار و رموز سے بخوبی واقف ہو جائے گا -

آج اس نے اسلام آباد میں اپنا آفس جوائن کرنا تھا - مارے خوشی کے اس کے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے - وہ اپنے خوابوں کی تکمیل کے پہلے زینے پر قدم رکھ چکا تھا - اپنے خیالوں میں گم آفس کے لیے نکلتے ہوئے وہ اپنا موبائل فون فلیٹ میں ہی بھول آیا - آفس میں پہلا دن لوگوں سے ملتے اور کام کو سمجھتے گزر گیا - شام پانچ پجے وہ فلیٹ واپس آیا اور موبائل فون اٹھایا تو دیکھا کہ گاؤں سے اس کے باپ کی دس سے زیادہ مسڈ کالز آ چکی ہیں - اس نے سوچا کہ باپ بھی آفس کے پہلے دن کا حال احوال پوچھنے کے لیے بیتاب ہو گا - فوراً باپ کو فون ملایا - کال ملتے ہی کہا کہ ابا بہت اچھا دن گزرا ، میں بہت خوش ہوں ، سوچتا ہوں بالکل صحیح فیصلہ کیا میڈیکل پروفیشن چھوڑ کر سی ایس ایس کرنے کا - باپ نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا ، پتر خوش بعد میں ہو لینا ، فوراً چھٹی لے کر گاؤں آ جا - اس نے حیرانی سے پوچھا وہ کیوں ابّا ؟ سب خیریت ہے نا - باپ نے کہا ، بس اتنا ہوا ہے کہ صبح تیرا چھوٹا بھائی ٹریکٹر کے نیچے آ کر شدید زخمی ہو گیا تھا ، گاؤں میں تو کوئی ڈاکٹر تھا نہیں جو ابتدائی طبی امداد بھی دے سکتا ، بڑے ہسپتال تک لے جاتے جاتے زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے راستے میں ہی مر گیا تیرا چھوٹا بھائی ، کل دوپہر میں جنازہ ہے ، تو بھی اپنے بھائی کے جنازے کو کندھا دینے آ جانا ڈاکٹر پتر -

17 comments:

  1. شعیب بھائی
    آج تو کمال ہی کر دیا آپ نے
    پڑهنا شروع کیا تو آنکهیں جهپکنا بهول گیا
    بہت عمدہ
    اللہ مزید قلبی اور دماغی وسعتیں عطا کرے آمین

    ReplyDelete
  2. A very good read and a food for
    thought.

    ReplyDelete
  3. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  4. کہانی بننے کا فن نکھرتا جائے تو اسے رب کی مہر سمجھیے۔۔۔
    ماشاءاللہ۔۔۔ بہت عمدہ

    ReplyDelete
  5. بہت خوب ہر تحریر پہلی سے زایادہ جاندار

    ReplyDelete
  6. بہت عمدہ لکھا ہے

    ReplyDelete
  7. بہت عمدہ شعیب بھائی کمال لکھا ہے آباد رہیں

    ReplyDelete
  8. میرے پاس الفاظ نہیں یقین کریں پڑھ کر آنکھیں بھیگ گئی...

    ReplyDelete
  9. ماشاءاللہ شعیب بھائی۔ تعریف کیلئے الفاظ نہیں امپیکٹ کریئڈڈ تحریر ہے۔

    ReplyDelete
  10. ماشاءاللہ شعیب بھائی۔ تعریف کیلئے الفاظ نہیں امپیکٹ کریئڈڈ تحریر ہے۔

    ReplyDelete
  11. بہت خوب شعیب بھائی. مادیت پرستی ہی سب کچھ نہیں ہوتی.اچھاسبق دینت کہ کوشش کی آپ نے.اللہ.پاک جزائے خیر دے.لکھتے رہیں.

    ReplyDelete
  12. I am a Medical Student..
    I am greatly impressed by your Article..
    Well done..
    And Keep Writing..

    ReplyDelete
  13. تحریر الفاظ کی حد تک خوبصورت ہے۔ لیکن افسوس کہ اس کے بیانیئے سے مجھے اتفاق نہیں۔ خواب بُننا اور خوابوں کی تکمیل کیلئے راستے چننا ہر انسانی کا بنیادی حق ہے۔ ہم ریاستی ذمہ داریوں کو شخصی رویوں سے نہیں پرکھ سکتے۔ احساس حساسیت کا لازمی جز ہے لیکن حساسیت کی ٹھوکر آپ کو سفاک بنا دیتی ہے۔

    ReplyDelete
  14. بہت اچھی تحریر ماشاء الہ

    ReplyDelete
  15. بہت خوبصورت اور بامقصد تحریر, حقیقتا پیسہ کمانا اور زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا اس وقت ہمارے معاشرے کے ہر فرد کی زندگی کا نصب العین بن چکا ہے

    ReplyDelete
  16. کہانی اور کہانی میں پیغام دینے کی کوشش ایک واضح عمل ہونا چاہئے ، میں بھی یہاں ، عاقب کی بات سے اتفاق کروں گا

    آپ بہت گن والے اور ذہین بندے ہیں ، آپ سے امید رکھی ہوئی (صحیح یا غلط ، پتہ نہیں کیوں ) ہے کہ آپ پرانے گھسے پٹے بیانیوں کی بجائے ، نئے بیانئے دیں گے

    "یہ جذباتی بیانئے پہلے ہی بہت موجود ہیں ، اسکے علاوہ دولت یا آسائشوں کے حصول کو "مادیت پسندی کے خانے میں رکھ دینا اور موجود بیانئے کو تقویت دینا کہ روحانیت اور مادیت کی جنگ ہو رہی ہے ، سے مجھے سخت اختلاف ہے
    کیا ایک سی ایس پی افسر بن کر یا کسی اور شعبے ، حتی کہ سیاست میں آ کر لوگوں کے طبی مسائل کا حل ممکن نہیں ہے. کیا گھر میں ایک ڈاکٹر کے موجود ہونے سے لوگوں کے طبی مسائل حل ہو جاتے ہیں ، ہرگز نہیں

    میرا مطلب آپ کو حرف تنقید بنانا ہرگز نہیں ہے ، مقصد آپ سے بہتر کی امید ہے جس کی آپ میں کما حقہ صلاحیت موجود ہے ،
    گھسے پٹے بیانئے کو کہانی کا ایک نیا رنگ دے کر واہ واہ تو ہوسکتی ہے لیکن آپکی اپنی صلاحیت کے ساتھ زیادتی ہے

    شاہ برہمن

    ReplyDelete
  17. ہمیشہ کی طرح زبردست اور میں نے جو اخذ کیا کہ ہم.لوگ مادیت کا شکار ہو کر آخری حد تک چلے جاتے ہیں. دوسرا ذاتی.تجربہ بھی ہے گاؤں سے جو ماں کا زیور اور باپ کی زمین بیچ کر شہر آتے ہیں کہ پڑھ لکھ کر گاؤں کی خدمت کریں گے. ایسا نہیں کرتے

    ReplyDelete