یکم اکتوبر 2015
آج اس نے مشہور ملٹی نیشنل کمپنی میں مارکیٹنگ ہیڈ کی حثیت سے جوائننگ دی تھی - سات ہندسوں کو چھوتا ہوا ماہانہ پیکج ، شاندار کار ، بنگلہ اور نجانے کیا کیا - شہر کی سب سے اونچی عمارت کے ٹاپ فائیو فلورز پر اس بلڈنگ کا ہیڈ آفس تھا اور اسے کارنر آفس ملا تھا جس کی کھڑکی سے پورا شہر نظر آتا تھا - سب کہتے تھے کہ اس نے اتنی جلدی اپنے پروفیشنل کیریئر میں اتنا کچھ حاصل کر لیا ہے جس کی دوسرے صرف توقع ہی کر سکتے ہیں - پہلا دن کام اور ٹیم کو سمجھتے ہوئے گزر گیا - شام کو چھٹی سے پہلے وہ واش روم گیا تو واش بیسن کے پاس اس کا پاؤں پھسلتے پھسلتے بچا - سامنے ہی ایک جونیئر بھی کھڑا تھا ، اسے اتنی خفت محسوس ہوئی کہ فوراً جینیٹر کو بلایا اور شدید جھاڑ پلائی - جینیٹر نے کہا بھی کہ سر ابھی دو منٹ پہلے صاف کیا ہے ، کوئی صاحب شاید وضو کر کے گئے جو تھوڑا سا پانی گر گیا - مگر اس نے ایک نہ سنی اور جینیٹر کے لتے لیتا رہا - کہاں اتنا بڑا افسر اور کہاں ایک ادنیٰ خاکروب ، بیچارہ چپ چاپ سنتا رہا -
نو اکتوبر 2015
اسے نئی جاب جوائن کیے ایک ہفتے سے زائد ہو چکا تھا - بہت ہی خوشگوار تبدیلی تھی ، ہر لحاظ سے پرفیکٹ سوئچ - مگر خدا جانے کیوں اسے اپنے فلور کے جینیٹر سے خدا واسطے کا بیر ہو گیا تھا - آتے جاتے جب بھی وہ جینیٹر نظر آتا تو اس کو کوئی سخت بات کہہ دیتا یا اس کے کسی نہ کسی کام میں نقص نکال کر اس کی عزت افزائی کر دیتا - بیچارہ جینیٹر جواب دینے کی پوزیشن میں ہی نہیں تھا ، بس سر جھکا کر سن لیا کرتا -
اکیس اکتوبر 2015
آج تو حد ہی ہو گئی ، وہ تھوڑا تاخیر سے آفس پہنچا - اس کا فلور آتے ہی جیسے ہی لفٹ کا دروازہ کھلا ، وہ تیزی سے لفٹ سے نکل کر بھاگا - جلدی میں سامنے موپ لگاتا جینیٹر نظر ہی نہ آیا اور ٹکر ہو گئی - ایک تو تاخیر ہو جانے کی جھنجھلاہٹ اس پر مستزاد یہ کہ اس کے ناپسندیدہ ترین فرد سے ٹکر ہو گئی - طیش میں آ کر اس نے جینیٹر کو تھپڑ رسید کر دیا - اندھے ہو کیا ، دیکھتے نہیں سامنے ، وہ چلایا ، میں تمہاری شکایت کروں گا ایڈمن افسر سے - اپنی نوکری بس ختم ہی سمجھو -
چھبیس اکتوبر 2015
آج ااسے آفس میں کافی کام تھا ، اور دوپہر میں ایک پرانے دوست کے ساتھ لنچ بھی - اس کی پوری کوشش تھی کہ ایک بجے تک کام ختم کر لے تاکہ لنچ کے لیے تاخیر نہ ہو مگر پھر بھی کام ختم کرتے کرتے دو بج گئے - کام سے فارغ ہو کردو بج کر دو منٹ پر وہ واش روم گیا - سامنے وہی جینیٹر صفائی کر رہا تھا ، اس کے منہ کا زاویہ بگڑ گیا - واش روم سے فراغت کے بعد وہ واش بیسن کے سامنے کھڑا ہاتھ دھو رہا تھا کہ اچانک اسے لگا کہ اسے چکر آ رہے ہیں - اس نے سر کو جھٹکا مگر کچھ بہتری نہ آئی - اچانک پیچھے کھڑا جینیٹر چلایا ، سر زلزلہ - تب اسے محسوس ہوا کہ اس کے پاؤں کے نیچے زمین لرز رہی ہے - اگلا جھٹکا اتنا شدید تھا کہ وہ کھڑا نہ رہ سکا - ایسا لگتا تھا کوئی شرارتی بچہ پلاسٹک سے بنی عمارت کو گرانے پر تلا ہوا ہے - اس نے کلمہ پڑھنے کی کوشش کی مگر اسے محسوس ہوا کہ چھت اس کے سر پر گر رہی ہے اور پھر اسے کوئی ہوش نہ رہا -
خدا جانے کب اسے ہوش آیا تو پورا جسم ٹوٹ رہا تھا ، سینے میں جیسے آگ لگی تھی ، اس کے آس پاس گھپ اندھیرا تھا - اس نے ٹٹول کر اپنے جسم کو محسوس کیا تو پتا چلا کہ ایک سریا اس کے سینے کے آر پار ہو چکا ہے اور وہ خون میں لت پت ہے - کوئی ہے ، وہ چلایا ، میری مدد کرو ، مجھے یہاں سے نکالو - اچانک اسے یاد آیا کہ اس کی جیب میں لائٹر ہے - اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر لائٹر نکالا ، دو بار کوشش کرنے پر لائٹر جل گیا - اس کے سر سے صرف دو فٹ اوپر ایک بہت بڑی سلیب بس اڑی ہوئی تھی - اچانک اسے اپنے پیچھے سے ایک مدھم سی آواز آئی ، وہ سمجھا کہ شاید بیرونی امداد آن پہنچی - اس نے مڑ کر پیچھے دیکھنے کی کوشش کی مگر سینے میں سریا گڑا ہونے کی وجہ سے مڑ نہ سکا - اچانک آواز واضح ہو گئی ، سر یہ آپ ہیں ؟ - اوہ یہ تو وہی جینیٹر تھا - سر ہم ملبے تلے دب چکے ہیں ، پیرونی امداد ہم تک شاید نہ پہنچ پائے اور میں شدید زخمی بھی ہوں - وہ جینیٹر کی آواز سن کر بڑی لجاہت سے بولا ، دعا کرو کہ ہم بچ جایئں - جینیٹر اس تکلیف کے عالم میں بھی ہنس دیا - اس نے اس ہنسی کی وجہ پوچھی تو جینیٹر بولا ، پتا نہیں ہم اس ملبے سے زندہ نکلیں یا مر کر ، مگر اوپر والے کے ایک ہی جھٹکے نے ایک اتنے بڑے افسر اور ایک خاکروب کو ایک برابر ضرور کر دیا ہے - آج مجھے اوپر والے کے انصاف پر یقین آ گیا - اس کا عذاب امیر اورغریب میں کوئی فرق نہیں کرتا -
Very Good
ReplyDeletegood lesson for proud ppl
Every body is same For Allah..
great effort
بہت خوب۔
ReplyDeleteشعیب بھائی بہترین تحریر جناب دل کی گہرائی سے الفاظ کا چناؤ اور سمجھنے لائق باتیں
ReplyDeleteموقع کی مناسبت سے بہترین تحریر .. میں اس کو فی البدیہ افسانہ کہوں گا. یہی ایک آرٹسٹ کا کمال ہوتا ہے کہ حالات و واقعات اسے متاثر کرتے ہیں اور وہ اپنی مخفی سوچ اپنے فن کے ذریعے اگلنے پر مجبور ہو جاتا ہے.
ReplyDeleteبہت سی داد
بہت خوب
ReplyDeleteبےشک اللّٰہ امیری غریبی کے فرق سے بےنیاز ہے
خوبصورت خیال
ReplyDeleteعمدہ تحریر
الفاظ کا چناؤ بہترین
اللہ تعالیٰ مزید وسعتِ خیال عطا فرمائے آمین