Monday, 26 October 2015

زلزلہ

یکم اکتوبر 2015 

آج اس نے مشہور ملٹی نیشنل کمپنی میں مارکیٹنگ ہیڈ کی حثیت سے جوائننگ دی تھی - سات ہندسوں کو چھوتا ہوا ماہانہ پیکج ، شاندار کار ، بنگلہ اور نجانے کیا کیا -  شہر کی سب سے اونچی عمارت کے  ٹاپ فائیو فلورز پر اس بلڈنگ کا ہیڈ آفس تھا اور اسے کارنر آفس ملا تھا جس کی کھڑکی سے پورا شہر نظر آتا تھا - سب کہتے تھے کہ اس نے اتنی جلدی اپنے پروفیشنل کیریئر میں اتنا کچھ حاصل کر لیا ہے جس کی دوسرے صرف توقع ہی کر سکتے ہیں - پہلا دن کام اور ٹیم کو سمجھتے ہوئے گزر گیا - شام کو چھٹی سے پہلے وہ واش روم گیا تو واش بیسن کے پاس اس کا پاؤں پھسلتے پھسلتے بچا - سامنے ہی ایک جونیئر بھی کھڑا تھا ، اسے اتنی خفت محسوس ہوئی کہ فوراً جینیٹر کو بلایا اور شدید جھاڑ پلائی - جینیٹر نے کہا بھی کہ سر ابھی دو منٹ پہلے صاف کیا ہے ، کوئی صاحب شاید وضو کر کے گئے جو تھوڑا سا پانی گر گیا - مگر اس نے ایک نہ سنی اور جینیٹر کے لتے لیتا رہا - کہاں اتنا بڑا افسر اور کہاں ایک ادنیٰ خاکروب ، بیچارہ چپ چاپ سنتا رہا -


نو اکتوبر 2015 

اسے نئی جاب جوائن کیے ایک ہفتے سے زائد ہو چکا تھا - بہت ہی خوشگوار تبدیلی تھی ، ہر لحاظ سے پرفیکٹ سوئچ - مگر خدا جانے کیوں اسے اپنے فلور کے جینیٹر سے خدا واسطے کا بیر ہو گیا تھا - آتے جاتے جب بھی وہ جینیٹر نظر آتا تو اس کو کوئی سخت بات کہہ دیتا یا اس کے کسی نہ کسی کام میں نقص نکال کر اس کی عزت افزائی کر دیتا - بیچارہ جینیٹر جواب دینے کی پوزیشن میں ہی نہیں تھا ، بس سر جھکا کر سن لیا کرتا -


اکیس اکتوبر 2015 

آج تو حد ہی ہو گئی ، وہ تھوڑا تاخیر سے آفس پہنچا - اس کا  فلور آتے ہی جیسے ہی لفٹ کا دروازہ کھلا ، وہ تیزی سے لفٹ سے نکل کر بھاگا - جلدی میں سامنے موپ لگاتا جینیٹر نظر ہی نہ آیا اور ٹکر ہو گئی - ایک تو تاخیر ہو جانے کی جھنجھلاہٹ اس پر مستزاد یہ کہ اس کے ناپسندیدہ ترین فرد سے ٹکر ہو گئی - طیش میں آ کر اس نے جینیٹر کو تھپڑ رسید کر دیا - اندھے ہو کیا ، دیکھتے نہیں سامنے ، وہ چلایا ، میں تمہاری شکایت کروں گا ایڈمن افسر سے - اپنی نوکری بس ختم ہی سمجھو -


چھبیس اکتوبر 2015 

آج ااسے آفس میں کافی کام تھا ، اور دوپہر میں ایک پرانے دوست کے ساتھ  لنچ بھی - اس کی  پوری کوشش تھی کہ ایک بجے تک کام ختم کر لے تاکہ لنچ کے لیے تاخیر نہ ہو مگر پھر بھی کام ختم کرتے کرتے دو بج گئے - کام سے فارغ ہو کردو بج کر دو منٹ پر  وہ واش روم گیا - سامنے وہی جینیٹر صفائی کر رہا تھا ، اس کے منہ کا زاویہ بگڑ گیا - واش روم سے فراغت کے بعد وہ واش بیسن کے سامنے کھڑا ہاتھ دھو رہا تھا کہ اچانک اسے لگا کہ اسے چکر آ رہے ہیں - اس نے سر کو جھٹکا  مگر کچھ بہتری نہ آئی -  اچانک پیچھے کھڑا جینیٹر چلایا ، سر زلزلہ - تب اسے محسوس ہوا کہ اس کے پاؤں کے نیچے زمین لرز رہی ہے - اگلا جھٹکا اتنا شدید تھا کہ وہ کھڑا نہ رہ سکا - ایسا لگتا تھا کوئی شرارتی بچہ پلاسٹک سے بنی عمارت کو گرانے پر تلا ہوا ہے - اس نے کلمہ پڑھنے کی کوشش کی مگر اسے محسوس ہوا کہ چھت اس کے سر پر گر رہی ہے اور پھر اسے کوئی ہوش نہ رہا -

خدا جانے کب اسے ہوش آیا تو پورا جسم ٹوٹ رہا تھا ، سینے میں جیسے آگ لگی تھی ، اس کے آس پاس گھپ اندھیرا تھا - اس نے ٹٹول کر اپنے جسم کو محسوس کیا تو پتا چلا کہ ایک سریا اس کے سینے کے آر پار ہو چکا ہے اور وہ خون میں لت پت ہے - کوئی ہے ، وہ چلایا ، میری مدد کرو ، مجھے یہاں سے نکالو - اچانک اسے یاد آیا کہ اس کی جیب میں لائٹر ہے - اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر لائٹر نکالا ، دو بار کوشش کرنے پر لائٹر جل گیا - اس کے سر سے صرف دو فٹ اوپر ایک بہت بڑی سلیب بس اڑی ہوئی تھی - اچانک اسے اپنے پیچھے سے ایک مدھم سی آواز آئی ، وہ سمجھا کہ شاید بیرونی امداد آن پہنچی - اس نے مڑ کر پیچھے دیکھنے کی کوشش کی مگر سینے میں سریا گڑا ہونے کی وجہ سے مڑ نہ سکا - اچانک آواز واضح ہو گئی ، سر یہ آپ ہیں ؟ - اوہ  یہ تو وہی جینیٹر تھا - سر ہم ملبے تلے دب چکے ہیں ، پیرونی امداد ہم تک شاید نہ پہنچ پائے اور میں شدید زخمی بھی ہوں  - وہ جینیٹر کی آواز سن کر بڑی لجاہت سے بولا ، دعا کرو کہ ہم بچ جایئں - جینیٹر اس تکلیف کے عالم میں بھی ہنس دیا - اس نے اس ہنسی کی وجہ پوچھی تو جینیٹر بولا ، پتا نہیں ہم اس ملبے سے زندہ نکلیں یا مر کر ، مگر اوپر والے کے ایک ہی جھٹکے نے ایک اتنے بڑے افسر اور ایک خاکروب کو ایک برابر ضرور کر دیا ہے - آج مجھے اوپر والے کے انصاف پر یقین آ گیا - اس کا عذاب امیر اورغریب میں کوئی فرق نہیں کرتا -

Wednesday, 14 October 2015

لاش

آج اس کی رات کے گشت کی ڈیوٹی تھی ، اسے رات کی ڈیوٹی اچھی لگتی تھی کہ ایک دو مرغے بھی پھنس جاتے تو کھپ ڈالے بنا اچھا مال پانی بن جاتا تھا - اس نے یونیفارم پہنی ، آئینے میں اپنے آپ کو ایک نظر دیکھا اور گھر سے نکل کر تھانے کی طرف روانہ ہو گیا - تھانے آ کر حاضری لگوائی ، اسی اثنا میں  رات کی گشتی پارٹی کے باقی ساتھی بھی آ چکے تھے - رائفلز لیں اور پولیس موبائل میں بیٹھ کر علاقے کا راؤنڈ لینا شروع کیا -
پہلے ایک گھنٹے میں ایک بھی مرغا نہ پھنسا ، اسی لیے مزاج کچھ برہم ہو رہا تھا - تھانے کی حدود کے اختتام کے بالکل پاس اسے عین سڑک کے درمیان ایک گٹھری سی پڑی نظر آئی ، خدا جانے کون گرا گیا تھا - اس نے سپاہی کو گاڑی روکنے کا کہا تاکہ پاس جا کر دیکھ سکے کہ سڑک پر کیا پڑا ہوا ہے - گاڑی رکی ، وہ اترا اور گٹھری کے پاس چلا گیا - دھت تیرے کی ، وہ تو کوئی انسان پڑا تھا - اسے ایک نظر میں ہی اندازہ ہو گیا کہ یہ بندہ زندگی کی بازی ہار چکا ہے - خدا جانے کون مار کر پھینک گیا تھا - اس کا ذہن تیزی سے سوچنے لگا ، ابھی کل ہی تو ایس پی صاحب نے علاقے میں بڑھتے ہوئے جرائم پر تھانہ انچارج کی کلاس لی تھی - اب ایسے میں اگر ایک قتل اور رپورٹ ہو گیا خدا جانے ایس پی صاحب کتنا بے عزت کریں - سڑک کے اس پار دوسرے تھانے کی حدود شروع ہوتی تھیں - اس کے دماغ میں فوراً یہ خیال آیا کہ اگر یہ لاش گھسیٹ کر دوسرے تھانے کی حدود میں ڈال دی جائے تو اس تھانے کا عملہ اور ایس ایچ او جانے ، ہماری تو جان بخشی ہو جائے گی - ویسے بھی بندہ تو اب مر ہی چکا ہے ، واپس زندہ تو ہونے سے رہا - فٹافٹ اس نے موبائل میں موجود دوسرے سپاہیوں کو آواز دی کہ آ کر لاش کو سڑک کے پار منتقل کرنے میں مدد کریں - کھینچ کھانچ کر لاش کو سڑک کی دوسری طرف منتقل کر دیا گیا -
اس کارنامے کے بعد مطمئن ہو کر پھر سے گشت شروع کیا - اگلے دو گھنٹوں اوپر تلے ہی دو مرغے بھی پھنس گئے ، مال پانی ملنے کے بعد اسکا موڈ خوشگوار ہو چکا تھا - رات کے اس پہر آہستہ آہستہ چلتی پولیس موبائل کی کھلی کھڑکی سے آتی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے لوری کا سا اثر کر رہے تھے - اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں - اسی اثنا میں موبائل کا گزر پھر تھانے کی اختتامی حدود سے ہوا ، اسے محسوس ہوا  کہ وہ خواب میں پھر اس لاش کو اپنے تھانے کی حدود والی اسی سڑک پر پڑا دیکھ رہا ہے جہاں سے اٹھا کر اس نے دوسرے تھانے کی حدود میں منتقل کی تھی - اس نے زور زور سے آنکھیں ملیں مگر سامنے کا منظر نہ بدلا - موبائل رکوائی کہ پھر سے لاش کو دوسرے تھانے کی حدود میں ڈالا جائے - ابھی لاش دوسرے تھانے کی حدود میں ڈال کر فارغ ہی ہوئے تھے کہ دوسرے تھانے کی موبائل بھی موقع پر آ گئی - وہ سمجھ گیا کہ اب رنگے ہاتھوں پکڑا جا چکا ہے مگر وہ پولیس والا ہی کیا جو شرمندہ ہو جائے - دوسرے علاقے اے ایس آئی  کے سامنے بھی ڈھٹائی کے ساتھ یہی کہتا رہا کہ لاش تو آپ کے علاقے میں ہی تھی - آپ کے کسی سپاہی نے ہمارے علاقے میں ڈال دی تھی - کافی دیر تک بحث و تکرار چلتی رہی اور پھر فیصلہ یہی ہوا کہ دونوں تھانوں کی حدود کے درمیان جو "نو مینز لینڈ" ہے ، لاش کو وہاں چھوڑ دیا جائے - بعد میں دونوں تھانوں کے ایس ایچ او حضرات خود ہی معاملے سے نمٹ لیں گے - معاہدہ طے پانے کے بعد لاش کو دونوں تھانوں کی اختتامی حدود کے درمیان پھینک دیا گیا اور دونوں پولیس موبائلز اپنے اپنے راستے چلی گئیں -
صبح جب سڑک پر ٹریفک کی آمد و رفت شروع ہوئی تو لاش کو دیکھ پر لوگوں نے تھانے میں رپورٹ کی تو جواب ملا کہ یہ علاقہ ہمارے تھانے کی حدود میں نہیں ہے - دوسرے تھانے میں رپورٹ کی گئی تو بھی یہی جواب ملا کہ یہ علاقہ ہمارے تھانے کی حدود میں نہیں ہے - پورا دن لاش بے گوروکفن سڑک کنارے پڑی رہی مگر تھانے کی حدود بارے فیصلہ نہ ہو سکنے کی وجہ سے پولیس نے کسی قسم کی قانونی  کاروائی کا آغاز نہ کیا  - سورج ڈھل رہا تھا جب ایدھی والوں نے اس لاش کو اٹھایا ، غسل دیا اور کفن پہنا کر امانتاً دفن کر دیا - ایک دو دن علاقے کے لوگوں کو وہ لاش یاد رہی پھر سب بھول بھال کر اپنی زندگیوں میں مصروف ہو گئے کہ ایک گمنام لاش کو کون یاد رکھتا ہے -
کراچی شہر بھی ایک ایسی ہی خون میں لت پت مظلوم لاش ہے جس کی دادرسی کی ذمے داری نہ صوبائی حکومت لیتی ہے نہ ہی وفاقی حکومت - کہیں قوانین آڑے آتے  ہیں تو کہیں مصلحتیں، کہیں حدود و قیود کا خیال رکھنا پڑتا ہے تو کہیں سیاسی و مذہبی جذبات کا - اور تو اور کراچی کے شہری بھی شاید عادی ہو چکے ہیں اس سب کے - خدا جانے کبھی کراچی شہر کی زندگی میں کوئی ایدھی آئے گا بھی  جو اس کو تھوڑی سی راحت پہنچا سکے یا پھر کراچی بھی سدا نو مینز لینڈ ہی رہے گا -