آج صبح آفس آتے ہوئے سگنل پر گاڑی روکی تو ایک درخت پر نظر پڑی - امتداد زمانہ نے درخت پر شکست و ریخت کے کے واضح نشانات چھوڑے تھے - درخت ایک ڈھلوان پر ایستادہ تھا، آس پاس کوئی اور درخت نہ تھا - آس پاس کی زمین کٹاؤ کا شکار ہو چکی تھی، کچھ زمین جو کٹاؤ کا شکار ہو کر رائیگاں نہ ہوئی تھی تو اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ درخت نے اس زمین کو اپنی جڑوں کے ساتھ جکڑ کر یکجا رکھا تھا - درخت کو دیکھتے ہی جس خیال کی دماغ پر دستک دی وہ ماں کا خیال تھا - ماں ایک ایسی ہی ہستی ہوتی ہے جو پورے کنبے کو یکجا رکھتی ہے - ماں کے بنا خاندان بھی ایسے ہی بکھر جایا کرتے ہیں جیسے درخت نہ ہونے کی وجہ سے زمین کٹاؤ کا شکار ہوتی ہے اور مٹی بکھر جاتی ہے - ماں آپ کے لیے ایک گھنا سایہ دار درخت ہے ، اس کی زندگی میں ہی اس کی قدر کر لیجئے - بعد میں بس یادیں ہی رہ جاتی ہیں -