Wednesday, 14 October 2015

لاش

آج اس کی رات کے گشت کی ڈیوٹی تھی ، اسے رات کی ڈیوٹی اچھی لگتی تھی کہ ایک دو مرغے بھی پھنس جاتے تو کھپ ڈالے بنا اچھا مال پانی بن جاتا تھا - اس نے یونیفارم پہنی ، آئینے میں اپنے آپ کو ایک نظر دیکھا اور گھر سے نکل کر تھانے کی طرف روانہ ہو گیا - تھانے آ کر حاضری لگوائی ، اسی اثنا میں  رات کی گشتی پارٹی کے باقی ساتھی بھی آ چکے تھے - رائفلز لیں اور پولیس موبائل میں بیٹھ کر علاقے کا راؤنڈ لینا شروع کیا -
پہلے ایک گھنٹے میں ایک بھی مرغا نہ پھنسا ، اسی لیے مزاج کچھ برہم ہو رہا تھا - تھانے کی حدود کے اختتام کے بالکل پاس اسے عین سڑک کے درمیان ایک گٹھری سی پڑی نظر آئی ، خدا جانے کون گرا گیا تھا - اس نے سپاہی کو گاڑی روکنے کا کہا تاکہ پاس جا کر دیکھ سکے کہ سڑک پر کیا پڑا ہوا ہے - گاڑی رکی ، وہ اترا اور گٹھری کے پاس چلا گیا - دھت تیرے کی ، وہ تو کوئی انسان پڑا تھا - اسے ایک نظر میں ہی اندازہ ہو گیا کہ یہ بندہ زندگی کی بازی ہار چکا ہے - خدا جانے کون مار کر پھینک گیا تھا - اس کا ذہن تیزی سے سوچنے لگا ، ابھی کل ہی تو ایس پی صاحب نے علاقے میں بڑھتے ہوئے جرائم پر تھانہ انچارج کی کلاس لی تھی - اب ایسے میں اگر ایک قتل اور رپورٹ ہو گیا خدا جانے ایس پی صاحب کتنا بے عزت کریں - سڑک کے اس پار دوسرے تھانے کی حدود شروع ہوتی تھیں - اس کے دماغ میں فوراً یہ خیال آیا کہ اگر یہ لاش گھسیٹ کر دوسرے تھانے کی حدود میں ڈال دی جائے تو اس تھانے کا عملہ اور ایس ایچ او جانے ، ہماری تو جان بخشی ہو جائے گی - ویسے بھی بندہ تو اب مر ہی چکا ہے ، واپس زندہ تو ہونے سے رہا - فٹافٹ اس نے موبائل میں موجود دوسرے سپاہیوں کو آواز دی کہ آ کر لاش کو سڑک کے پار منتقل کرنے میں مدد کریں - کھینچ کھانچ کر لاش کو سڑک کی دوسری طرف منتقل کر دیا گیا -
اس کارنامے کے بعد مطمئن ہو کر پھر سے گشت شروع کیا - اگلے دو گھنٹوں اوپر تلے ہی دو مرغے بھی پھنس گئے ، مال پانی ملنے کے بعد اسکا موڈ خوشگوار ہو چکا تھا - رات کے اس پہر آہستہ آہستہ چلتی پولیس موبائل کی کھلی کھڑکی سے آتی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے لوری کا سا اثر کر رہے تھے - اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں - اسی اثنا میں موبائل کا گزر پھر تھانے کی اختتامی حدود سے ہوا ، اسے محسوس ہوا  کہ وہ خواب میں پھر اس لاش کو اپنے تھانے کی حدود والی اسی سڑک پر پڑا دیکھ رہا ہے جہاں سے اٹھا کر اس نے دوسرے تھانے کی حدود میں منتقل کی تھی - اس نے زور زور سے آنکھیں ملیں مگر سامنے کا منظر نہ بدلا - موبائل رکوائی کہ پھر سے لاش کو دوسرے تھانے کی حدود میں ڈالا جائے - ابھی لاش دوسرے تھانے کی حدود میں ڈال کر فارغ ہی ہوئے تھے کہ دوسرے تھانے کی موبائل بھی موقع پر آ گئی - وہ سمجھ گیا کہ اب رنگے ہاتھوں پکڑا جا چکا ہے مگر وہ پولیس والا ہی کیا جو شرمندہ ہو جائے - دوسرے علاقے اے ایس آئی  کے سامنے بھی ڈھٹائی کے ساتھ یہی کہتا رہا کہ لاش تو آپ کے علاقے میں ہی تھی - آپ کے کسی سپاہی نے ہمارے علاقے میں ڈال دی تھی - کافی دیر تک بحث و تکرار چلتی رہی اور پھر فیصلہ یہی ہوا کہ دونوں تھانوں کی حدود کے درمیان جو "نو مینز لینڈ" ہے ، لاش کو وہاں چھوڑ دیا جائے - بعد میں دونوں تھانوں کے ایس ایچ او حضرات خود ہی معاملے سے نمٹ لیں گے - معاہدہ طے پانے کے بعد لاش کو دونوں تھانوں کی اختتامی حدود کے درمیان پھینک دیا گیا اور دونوں پولیس موبائلز اپنے اپنے راستے چلی گئیں -
صبح جب سڑک پر ٹریفک کی آمد و رفت شروع ہوئی تو لاش کو دیکھ پر لوگوں نے تھانے میں رپورٹ کی تو جواب ملا کہ یہ علاقہ ہمارے تھانے کی حدود میں نہیں ہے - دوسرے تھانے میں رپورٹ کی گئی تو بھی یہی جواب ملا کہ یہ علاقہ ہمارے تھانے کی حدود میں نہیں ہے - پورا دن لاش بے گوروکفن سڑک کنارے پڑی رہی مگر تھانے کی حدود بارے فیصلہ نہ ہو سکنے کی وجہ سے پولیس نے کسی قسم کی قانونی  کاروائی کا آغاز نہ کیا  - سورج ڈھل رہا تھا جب ایدھی والوں نے اس لاش کو اٹھایا ، غسل دیا اور کفن پہنا کر امانتاً دفن کر دیا - ایک دو دن علاقے کے لوگوں کو وہ لاش یاد رہی پھر سب بھول بھال کر اپنی زندگیوں میں مصروف ہو گئے کہ ایک گمنام لاش کو کون یاد رکھتا ہے -
کراچی شہر بھی ایک ایسی ہی خون میں لت پت مظلوم لاش ہے جس کی دادرسی کی ذمے داری نہ صوبائی حکومت لیتی ہے نہ ہی وفاقی حکومت - کہیں قوانین آڑے آتے  ہیں تو کہیں مصلحتیں، کہیں حدود و قیود کا خیال رکھنا پڑتا ہے تو کہیں سیاسی و مذہبی جذبات کا - اور تو اور کراچی کے شہری بھی شاید عادی ہو چکے ہیں اس سب کے - خدا جانے کبھی کراچی شہر کی زندگی میں کوئی ایدھی آئے گا بھی  جو اس کو تھوڑی سی راحت پہنچا سکے یا پھر کراچی بھی سدا نو مینز لینڈ ہی رہے گا -

4 comments:

  1. بہت خوب شعیب بهائی
    عمدہ تحریر جو آپ کے حساس دل و دماغ کی عکاسی کر رہی ہے
    لکهتے رہیے اور فیضیاب کرتے رہیے

    ReplyDelete
  2. خوب ۔۔۔۔۔۔ بہت خوب شعیب۔۔۔لکھتے رہو چھوٹے بھائی

    ReplyDelete
  3. عمدہ کاوش،اک انسانی المیے کی نشاندہی سے شاید سوئے ہوئے جاگ جائیں

    ReplyDelete
  4. ماشااللہ بہت اچھا خیال اور بہت عمدہ لکھا ہے

    ReplyDelete