آج صبح آفس آتے ہوئے سگنل پر گاڑی روکی تو ایک درخت پر نظر پڑی - امتداد زمانہ نے درخت پر شکست و ریخت کے کے واضح نشانات چھوڑے تھے - درخت ایک ڈھلوان پر ایستادہ تھا، آس پاس کوئی اور درخت نہ تھا - آس پاس کی زمین کٹاؤ کا شکار ہو چکی تھی، کچھ زمین جو کٹاؤ کا شکار ہو کر رائیگاں نہ ہوئی تھی تو اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ درخت نے اس زمین کو اپنی جڑوں کے ساتھ جکڑ کر یکجا رکھا تھا - درخت کو دیکھتے ہی جس خیال کی دماغ پر دستک دی وہ ماں کا خیال تھا - ماں ایک ایسی ہی ہستی ہوتی ہے جو پورے کنبے کو یکجا رکھتی ہے - ماں کے بنا خاندان بھی ایسے ہی بکھر جایا کرتے ہیں جیسے درخت نہ ہونے کی وجہ سے زمین کٹاؤ کا شکار ہوتی ہے اور مٹی بکھر جاتی ہے - ماں آپ کے لیے ایک گھنا سایہ دار درخت ہے ، اس کی زندگی میں ہی اس کی قدر کر لیجئے - بعد میں بس یادیں ہی رہ جاتی ہیں -
سمندر کو کوزے میں بند کر دیا. کمال لکھا. یقین کریں آنکھوں دیکھی داستانیں ھیں
ReplyDeleteزبر دست
ReplyDeleteواقعی ماں ایسی ہی ہستی ہے۔ ماں نہ رہے تو گھر بکھر جاتے ہیں
جیتے رہیے۔۔۔ اور لکھتے رہیے۔۔۔
ReplyDeleteاس مشرقی بیانئے سے تھوڑا اختلاف ہے ، ماں کے وجود اور اہمیت سے کوئی انکار نہیں لیکن خاندان کے جوڑنے کیلئے اسکو ایک عالمی اصول بنانا ایک مغالطہ ہوگا ، اسی طرح خاندان کی مشرقی تعریف کو ایک عالمی بیانیہ بنانا بھی درست نا ہوگا ، میرے خیال میں ہمیں جذباتی اور علاقائی بیانیوں سے باہر نکل کر انسانی جذبات و احساسات کا اظہار کرنا ہوگا
ReplyDeleteایک مختصر اور سمجھنے لائق اچھی تحریر،
ReplyDeleteشعیب بھائی مزید لکھتے رہا کریں مزید نکھار آتا جائے گا۔۔!
ماں بے شک ایک گھنا سایہ داردرخت ھے، جس کا سایہ ھم کو زندگی کی تپش سے محفوظ رکھتا ھے۔ خوبصورت تحریر
ReplyDelete