وہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا ایک عام سا ان پڑھ آدمی تھا - روایات میں جکڑا ہوا ایک مخصوص ڈگر پر زندگی جئے جا رہا تھا - اس کا آگے پیچھے کوئی بھی نہیں تھا ، نہ ماں باپ نہ ہی بہن بھائی - کچھ بے وقوف بھی تھا مگر ایسے ہی بے وقوفوں کی وجہ سے تو آس پاس کے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں -
کرنا خدا کا یہ ہوا کہ ایک بار وہ بیمار پڑ گیا - جیسا کہ عموماً ہوتا ہے کہ بیماری کو شروع میں اہمیت ہی نہیں دی جاتی کہ ایک دو دن میں خود ہی لوٹ پوٹ کر ٹھیک ہو جایئں گے ، اس نے بھی یہی کیا - مگر بیماری نے دو دن تو چھوڑ ایک ہفتے تک جانے کا نام نہ لیا - چاروناچار محلے کے مولوی صاحب کے پاس دم کرانے کے لیے جانا پڑا - دم کرانے کا عمل کوئی دو ہفتے چلا ہو گا ، مگر کوئی افاقہ نہ ہوا - تکلیف تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی - محلے کے مولوی صاحب سے شفا پانے میں ناکامی کے بعد کسی نے ایک شاہ صاحب کا پتا بتایا جن کے تعویذ ہر بیماری اور تکلیف کو رفع کر دینے کی شہرت رکھتے تھے - اس نے یہ در بھی کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا - شاہ صاحب کے آستانے پر حاضری دی ، شاہ صاحب بہت شفقت سے پیش آئے ، اس کی پوری بات سنی ، گلے میں لٹکانے کے لیے ایک خصوصی تعویذ عنایت کیا اور اگلے ہفتے پھر آستانے پر آنے کا کہا - اس نے مارے عقیدت کے وہ تعویذ فوراً گلے میں لٹکا لیا - ایک ہفتے میں بہتری تو کیا آنی تھی الٹا حالت مزید بگڑ گئی - گرتے پڑتے آستانے پر حاضر ہوا ، ایک اور تعویذ گلے میں لٹکایا اور واپس گھر چلا آیا - طبیعت تھی کہ سنبھلنے کا نام ہی نہ لیتی تھی، کچھ ہی ہفتوں میں وہ ہڈیوں کا پنجر بن چکا تھا - محلے کے ایک پڑھے لکھے بندے نے مشورہ دیا کہ کب تک یہ دم اور تعویذ پر تکیہ کرو گے ، جاؤ جا کر کسی اچھے ڈاکٹر کو دکھاؤ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے - بات کچھ دل کو لگی اور ڈاکٹر کے پاس جانے کا قصد کیا مگر کمزوری اتنی ہو چکی تھی کہ چلا بھی نہ جاتا تھا - بہت مشکل سے ہمت جمع کی اور ڈاکٹر کے پاس چلا ہی گیا - ڈاکٹر نے جب اسکی حالت دیکھی تو سر پکڑ لیا ، اسے خوب ڈانٹ پلائی کہ اس حالت تک پہنچ گئے اور کسی ڈاکٹر کو دکھایا تک نہیں - ڈاکٹر نے کچھ کیپسول لکھ کر دئیے اور کچھ ٹیسٹ بھی - کہا کہ کپسول تو باہر کمپاؤڈر سے مل جایئں گے، ٹیسٹ شہر کی کسی اچھی لیب سے کرا کے رپورٹس اگلے ہفتے میرے پاس لے آنا - ڈاکٹر کے کمرے سے نکل کر اس نے کیپسول خریدے اور گھر کی راہ لی ، جانے کیوں ٹیسٹ کرائے ہی نہیں - ڈاکٹر سے چیک اپ کرانے اور ایلوپتھک دوائی کے استعمال کے باوجود بھی فرق نہ پڑ سکا - ڈاکٹر سے چیک اپ کرانے کے پانچویں دن صبح کے وقت اس کا انتقال ہو گیا - محلے والوں کو خبر ہوئی تو اس کے کفن دفن کا بندوبست شروع کیا کہ اس کے آگے پیچھے تو کوئی تھا نہیں - ایک ہمسائے کو قبرستان کی طرف دوڑایا گیا کہ قبر کے لیے گورکن سے بات کرے ، ایک غسال کو لے آیا کہ اسکے آخری غسل کا سامان ہو سکے -غسال نے جب اسے آخری غسل دینے کے لیے اسکا لباس اتارا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس کے گلے میں دو تعویزوں کے ساتھ ساتھ تین مختلف کیپسول بھی دھاگے کے ساتھ لٹک رہے تھے -
Brilliant AFSANA !!
ReplyDeleteBeautifully written!
ReplyDeleteعمدہ خیال۔
ReplyDeleteاعلی لکھا ہے ... خیال اور اسلوب دونوں زبردست ہیں .
ReplyDeleteبہت اچھا لکھا ہے - ماشاءالله آپکا تخیل بھی بہت اچھا ہے اور اسلوب سادہ فہم ہے - بنت وقت کے ساتھ نکھر رہی ہے - لکھتے رہئیے
ReplyDeleteہمیشہ کی طرح بہت خوب شعیب بھائی
ReplyDeleteبھئی بہت خوب۔ آپ تو دن با دن حیران کرتے جا رہے ہیں۔ یقین کریں اتنی عمدہ تحریر پڑھ کر واقعی بہت اچھا لگا۔
ReplyDeleteاللہ آپ کے قلم کو مزید طاقت دے۔ آمین۔
بہت خوب جناب. اور ابتدا میں جو لکھا یقین کریں یمارے پسماندہ علاقوں کی حقیقت بھی ھے.
ReplyDeleteعمدہ خیال ھے
بہت اعلیٰ شعیب بهائی
ReplyDeleteبہت اعلیٰ شعیب بهائی
ReplyDeleteواللہ بہت بہت اعلیٰ
ReplyDeleteیہ پڑھ کہ تو روح کانپ گَئی - بہت زبردست تحریر
ReplyDelete