یہ پچھلے سال کی بات ہے - نومبر شروع ہو چکا تھا ، سردیاں بس آیا ہی چاہتی تھیں مگر ابھی اسلام آباد میں اپنا رنگ جمانا شروع نہیں کیا تھا - گھر سے آفس اور آفس سے گھر کی وہی عام روٹین چل رہی تھی کہ اچانک لاہور آفس سے بلاوا آ گیا - سفر سےہماری جان جاتی ہے مگر حکم حاکم مرگ مفاجات کے مصداق رخت سفر باندھتے ہی بنی - ٹکٹ کٹایا اور بس میں سوار ہو گئے - ہمارے ساتھ والی سیٹ پر ہمارا ہمسفر ایک اکیس بائیس سالہ نوجوان تھا - ہمیشہ سے عادت رہی ہے کہ جان پہچان نہ بھی ہو تو بات چیت میں پہل کرنے میں کبھی جھجھک محسوس نہیں کی - آس پاس کے لوگوں کے خیالات کو جاننے کی کوشش ہوتی ہے کہ اسی سے پتا چلتا ہے کہ آپ کے آس پاس موجود لوگ کیا سوچ رہے ہیں اور ان کا مینٹل کیلیبر کیا ہے - کچھ دیر میں بس ٹرمنل سے نکل کر موٹروے پر سبک رفتاری سے رواں دواں ہو گئی تو خود ہی بات چیت کا آغاز کیا ، معلوم ہوا کہ لڑکا انجنیئرنگ سٹوڈنٹ تھا ، کسی انٹرویو کے سلسلے میں راولپنڈی آیا ہوا تھا اور مردان سے تعلق رکھنے والا پختون تھا - اسی اثنا میں بس ہوسٹس نے لنچ باکس ، پانی اور ہیڈ فونز مسافروں میں تقسیم کیے - خیر بات سے بات چل نکلی اور آ جا کر ہر پاکستانی کے پسندیدہ موضوع یعنی سیاست تک آ پہنچی - محتاط انداز میں پوچھا کہ ووٹ کس جماعت کو دیا تھا - جواب میں ایک پوری تقریر ہماری منتظر تھی کہ لوٹ کے کھا گئے سب سیاستدان ملک کو، ہماری قوم اپنی حالت بدلنا ہی نہیں چاہتی - تبدیلی ناگزیر ہے اسی لیے تحریک انصاف کو ووٹ دیا اور تبدیلی کا ساتھ دیا - اب اس فرسودہ نظام کو بدلنا ہو گا یہاں غریبوں کا حق مارا جاتا ہے ، جہاں بے ایمانی ہے ، جہاں عوام سے جھوٹ بولا جاتا ہے - وہ کہتا رہا اور ہم سنتے رہے - ایسی ہی باتیں کرتے کرتے بھیرہ آ گیا اور بس رک گئی - لڑکے نے ہم سے پوچھا کہ آپ بس میں ہی بیٹھیں گے یا باہرجایئں گے - ہمارے پاس لیپ ٹاپ تھا اور کوئی ایسی ضرورت بھی نہ تھی باہر جانے کی ، سو بول دیا کہ ہم سیٹ پر ہی ہیں - لڑکے نے اپنا لیپ ٹاپ ہمارے حوالے کیا اور بولا آپ میرے لیپ ٹاپ کا دھیان رکھیں میں ابھی آتا ہوں -
کچھ دیر بعد وہ واپس آ گیا - بیس منٹ بعد بس دوبارہ چلی تو لڑکے نے ہوسٹس کو بلایا اور کہا کہ میرا ہیڈ فون کام نہیں کر رہا مجھے دوسرا ہیڈ فون دے دو ، ہوسٹس نے دوسرا ہیڈ فون لا دیا - کچھ دیر وہ گانے سنتا رہا اور میں بھی اخبار پڑھتا رہا - تھوڑی دیر بعد اس نے پھر سے سیاست پر بات شروع کر دی - اس بار پتا چلا کہ جناب تبدیلی رضاکار بھی ہیں ، ایم این اے علی محمد خان کے ووٹر تھے جناب - دوران گفتگو مجھ سے پوچھا کہ آپ نے کس کو ووٹ دیا تھا ، بتایا کہ ہم نے نواز شریف کو ووٹ دیا تھا - اس بات پر اس نے ہمیں ایسے حیرانی سے دیکھا جیسے ہم سے گناہ کبیرہ سرزد ہو گیا ہو- بولا ، بھائی آپ تو پڑھے لکھے لگتے ہیں ، کیسے ان چوروں اور لٹیروں کو ووٹ دے دیا آپ نے - ہم نے مسکرا کر بات ٹال دی - ہم نے مردان کا حال پوچھا کہ کوئی تبدیلی آئی نئی حکومت آنے کے بعد ، کہنے لگا کہ اتنی جلدی تو کچھ نہیں بدلتا مگر حالات اے این پی کے زمانے سے بہت بہتر ہیں اور یہ بات کافی حد تک ٹھیک بھی تھی کہ اتنی جلدی بدلاؤ آتا نہیں اور اے این پی حکومت سے واقعی حالات بہتر ہیں - اس کے بعد بات سیاست سے دوسری طرف چلی گئی - کچھ دیر بعد موٹروے کے اختتام کے سائن بورڈ نظر آنا شروع ہو گئے اور بس ہوسٹس نے ہیڈ فونز واپس جمع کرنے شروع کیے - جناب کے پاس اب دو ہیڈ فونز تھے ، ایک سفر کے شروع میں لیا تھا اور دوسرا بھیرہ سے بس چلتے ہی مانگا تھا - ہوسٹس کو ایک ہی ہیڈ فون واپس کیا اور دوسرا ہیڈ فون نظر بچا کر لیپ ٹاپ بیگ میں رکھ لیا - ہوسٹس نے سب مسافروں سے ہیڈ فوز جمع کرنے کے بعد گنتی کی ، ایک ہیڈ فون کم نکلنے پر اعلان کیا کہ کسی کے پاس ہیڈ فون رہ گیا ہو تو واپس کر دے - جناب منہ کھڑکی کی طرف بیٹھے رہے ، اور مجھ سے نظر ملانے سے گریز کیا - ہوسٹس نے بس کے دو چکر لگائے - ہر مسافر سے پوچھا ، جناب سے بھی پوچھا مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا - میں نے یہ دیکھتے ہوئے سوچ لیا تھا کہ اگر جناب نہ پکڑے گئے تو بس سے اترتے وقت ہوسٹس کو بتا دوں گا کہ ہیڈ فون اس لڑکے کے لیپ ٹاپ بیگ میں ہے - ہوسٹس ہیڈ فون نہ ڈھونڈ سکنے پر پریشان ہو گئی تھی - ڈرائیور سے مشورہ کیا اور پھر اعلان کر دیا کہ لاہور ٹرمنل پر گارڈ ہر مسافر کی تلاشی لے گا اور جس مسافر کے پاس سے ہیڈ فون نکلا اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا - یہ سنتے ہی میرے ہمسفر کی حالت غیر ہو گئی - اس نے میری طرف دیکھا تو میری دھیمی سی مسکراہٹ نے اسے تپا سا دیا - اس نے اپنا رخ دوسری طرف کر کے لیپ ٹاپ بیگ کھولا ، ہیڈ فون نکالا اور مجھے دکھا کر بولا ، اوہ ماڑا یہ تو میری سیٹ پر نیچے گر گیا تھا - ذرا ہوسٹس کو بلا کر واپس تو کر دو - میں نے مسکرا کر کہا کہ خود بلا لو اب تو مسئلہ بڑھ گیا ہے ، اب تو کاروائی ہو گی ٹرمنل پر پہنچ کر - وہ بولا ، بھائی آپ ہوسٹس کو بلا تو دو ، میں نے آواز دی ، ہوسٹس آئی تو جناب نے آنکھیں ملائے بنا ہیڈ فون پکڑا دئیے اور کہا کہ مجھے پتا نہیں چلا تھا ، سیٹ سے نیچے گر گئے تھے - ہوسٹس نے جن نظروں سے اسے دیکھا ، صاف پتا چلتا تھا کہ کہہ رہی ہے کہ جناب آپ الو کے پٹھے ہیں اور میں بے وقوف نہیں - اسی دوران لاہور ٹرمنل آ گیا - جناب سب سے پہلے بس سے اترنے والوں میں سے تھے مبادا کوئی قانونی کاروائی ہو جائے - میں نے بھی اپنا سامان اٹھایا اور ٹرمنل سے باہر منزل کی طرف روانہ ہو گیا -
رکشہ میں بیٹھے گھر کی طرف جاتے بس یہی سوچ آتی رہی کہ ہمارے پڑھے لکھے نوجوان کے اخلاقی زوال کا یہ عالم ہے کہ تین سو روپے کے ہیڈ فون کے پیچھے چوری جیسا قبیح فعل سرانجام دے ڈالا حالانکہ اگر ستر ہزار کا لیپ ٹاپ خریدنے کی سکت رکھ سکتے ہو تو بھائی تین سو روپے کا ہیڈ فون بھی خرید لیتے - ستم بالائے ستم یہ کہ اگر تبدیلی کے قافلے کے ہراول دستے کے میر کارواں تبدیلی رضاکار ہی ایسے ہوں گے تو تبدیلی کے قافلے کا منزل کا نشان کھو بیٹھنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں - تبدیلی کے پروانے کی اس کاروائی سے ایک بات تو ثابت ہو گئی تبدیلی کا عمل انسان کے اپنے آپ کو بدلنے سے شروع ہوا کرتا ہے نہ کہ تقریروں اور بھاشن دینے سے - مگر جب میر کاروان تبدیلی کی خود اپنی ہی باتوں اور عمل میں اس قدر تضاد ہو تو پیروکار کو کیا کہیں -
کچھ دیر بعد وہ واپس آ گیا - بیس منٹ بعد بس دوبارہ چلی تو لڑکے نے ہوسٹس کو بلایا اور کہا کہ میرا ہیڈ فون کام نہیں کر رہا مجھے دوسرا ہیڈ فون دے دو ، ہوسٹس نے دوسرا ہیڈ فون لا دیا - کچھ دیر وہ گانے سنتا رہا اور میں بھی اخبار پڑھتا رہا - تھوڑی دیر بعد اس نے پھر سے سیاست پر بات شروع کر دی - اس بار پتا چلا کہ جناب تبدیلی رضاکار بھی ہیں ، ایم این اے علی محمد خان کے ووٹر تھے جناب - دوران گفتگو مجھ سے پوچھا کہ آپ نے کس کو ووٹ دیا تھا ، بتایا کہ ہم نے نواز شریف کو ووٹ دیا تھا - اس بات پر اس نے ہمیں ایسے حیرانی سے دیکھا جیسے ہم سے گناہ کبیرہ سرزد ہو گیا ہو- بولا ، بھائی آپ تو پڑھے لکھے لگتے ہیں ، کیسے ان چوروں اور لٹیروں کو ووٹ دے دیا آپ نے - ہم نے مسکرا کر بات ٹال دی - ہم نے مردان کا حال پوچھا کہ کوئی تبدیلی آئی نئی حکومت آنے کے بعد ، کہنے لگا کہ اتنی جلدی تو کچھ نہیں بدلتا مگر حالات اے این پی کے زمانے سے بہت بہتر ہیں اور یہ بات کافی حد تک ٹھیک بھی تھی کہ اتنی جلدی بدلاؤ آتا نہیں اور اے این پی حکومت سے واقعی حالات بہتر ہیں - اس کے بعد بات سیاست سے دوسری طرف چلی گئی - کچھ دیر بعد موٹروے کے اختتام کے سائن بورڈ نظر آنا شروع ہو گئے اور بس ہوسٹس نے ہیڈ فونز واپس جمع کرنے شروع کیے - جناب کے پاس اب دو ہیڈ فونز تھے ، ایک سفر کے شروع میں لیا تھا اور دوسرا بھیرہ سے بس چلتے ہی مانگا تھا - ہوسٹس کو ایک ہی ہیڈ فون واپس کیا اور دوسرا ہیڈ فون نظر بچا کر لیپ ٹاپ بیگ میں رکھ لیا - ہوسٹس نے سب مسافروں سے ہیڈ فوز جمع کرنے کے بعد گنتی کی ، ایک ہیڈ فون کم نکلنے پر اعلان کیا کہ کسی کے پاس ہیڈ فون رہ گیا ہو تو واپس کر دے - جناب منہ کھڑکی کی طرف بیٹھے رہے ، اور مجھ سے نظر ملانے سے گریز کیا - ہوسٹس نے بس کے دو چکر لگائے - ہر مسافر سے پوچھا ، جناب سے بھی پوچھا مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا - میں نے یہ دیکھتے ہوئے سوچ لیا تھا کہ اگر جناب نہ پکڑے گئے تو بس سے اترتے وقت ہوسٹس کو بتا دوں گا کہ ہیڈ فون اس لڑکے کے لیپ ٹاپ بیگ میں ہے - ہوسٹس ہیڈ فون نہ ڈھونڈ سکنے پر پریشان ہو گئی تھی - ڈرائیور سے مشورہ کیا اور پھر اعلان کر دیا کہ لاہور ٹرمنل پر گارڈ ہر مسافر کی تلاشی لے گا اور جس مسافر کے پاس سے ہیڈ فون نکلا اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا - یہ سنتے ہی میرے ہمسفر کی حالت غیر ہو گئی - اس نے میری طرف دیکھا تو میری دھیمی سی مسکراہٹ نے اسے تپا سا دیا - اس نے اپنا رخ دوسری طرف کر کے لیپ ٹاپ بیگ کھولا ، ہیڈ فون نکالا اور مجھے دکھا کر بولا ، اوہ ماڑا یہ تو میری سیٹ پر نیچے گر گیا تھا - ذرا ہوسٹس کو بلا کر واپس تو کر دو - میں نے مسکرا کر کہا کہ خود بلا لو اب تو مسئلہ بڑھ گیا ہے ، اب تو کاروائی ہو گی ٹرمنل پر پہنچ کر - وہ بولا ، بھائی آپ ہوسٹس کو بلا تو دو ، میں نے آواز دی ، ہوسٹس آئی تو جناب نے آنکھیں ملائے بنا ہیڈ فون پکڑا دئیے اور کہا کہ مجھے پتا نہیں چلا تھا ، سیٹ سے نیچے گر گئے تھے - ہوسٹس نے جن نظروں سے اسے دیکھا ، صاف پتا چلتا تھا کہ کہہ رہی ہے کہ جناب آپ الو کے پٹھے ہیں اور میں بے وقوف نہیں - اسی دوران لاہور ٹرمنل آ گیا - جناب سب سے پہلے بس سے اترنے والوں میں سے تھے مبادا کوئی قانونی کاروائی ہو جائے - میں نے بھی اپنا سامان اٹھایا اور ٹرمنل سے باہر منزل کی طرف روانہ ہو گیا -
رکشہ میں بیٹھے گھر کی طرف جاتے بس یہی سوچ آتی رہی کہ ہمارے پڑھے لکھے نوجوان کے اخلاقی زوال کا یہ عالم ہے کہ تین سو روپے کے ہیڈ فون کے پیچھے چوری جیسا قبیح فعل سرانجام دے ڈالا حالانکہ اگر ستر ہزار کا لیپ ٹاپ خریدنے کی سکت رکھ سکتے ہو تو بھائی تین سو روپے کا ہیڈ فون بھی خرید لیتے - ستم بالائے ستم یہ کہ اگر تبدیلی کے قافلے کے ہراول دستے کے میر کارواں تبدیلی رضاکار ہی ایسے ہوں گے تو تبدیلی کے قافلے کا منزل کا نشان کھو بیٹھنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں - تبدیلی کے پروانے کی اس کاروائی سے ایک بات تو ثابت ہو گئی تبدیلی کا عمل انسان کے اپنے آپ کو بدلنے سے شروع ہوا کرتا ہے نہ کہ تقریروں اور بھاشن دینے سے - مگر جب میر کاروان تبدیلی کی خود اپنی ہی باتوں اور عمل میں اس قدر تضاد ہو تو پیروکار کو کیا کہیں -
اعلیٰ جناب، حقیقت کچھ ایسی ہی ہے، میرے آفس میں بھی ایک صاحب ایسی تقاریر کیا کرتے تھے ایک دفعہ معلوم پڑا کے صاحب غیر قانونی طور پر گھر پہ گیس والا جنریٹر استعمال کرتے ہیں، میں نے سوال داغ دیا کے جب آپ خود چوری کے مرتکب ہیں تو کس حیثیت سے سیاستدانوں کو چور کہہ کر بلاتے ہیں
ReplyDeleteدوبارہ کبھی آواز نہیں سنی انکی، کیونکہ مجھے دیکھتے ہی کترا کر نکل جاتے ہیں
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
ReplyDeleteسیاسی پہلو پر نہیں معاشرتی پہلو دیکھا جائے تو ہم سب ہی سوچ میں فرشتہ صفت انسان ہیں لیکن عمل میں ہمارا حال وہی ہے جو اس نوجوان کا ہے سبق آموز تحریر ہے تبدیلی کا عمل انسان کی اپنی ذات سے شروع ہو تو بہتری کی امید کی جاسکتی ہے اللہ قلم میں مزید برکت دے لکھتے رہیں
تحریر کی روانی قابل داد ہے۔
ReplyDeleteخود راستگی اسی رستے پر لے جایا کرتی ہے۔ اپنے ہر گناہ کا جواز اور دوسروں کی ہر نیکی میں نکالے جانے والے کیڑے۔۔۔
بہت اعلیٰ کمال کر دیا جناب
ReplyDeleteشاگردی کرنی پڑے گے مٹھائی کا ڈبہ بتا دیں کونسی بیکری کا ہو
بہت خوبصورت تحریر شعیب - لکھتے رہا کرو
ReplyDeleteSir ma na first time ap ka blog read kiya ha. Boht acha likha ha. But ap ki last baat sa 100% agree kerta hu ka tabdeeli hamy apny ap ko theak kerny sa ani ha na ka taqareer or jalsy attend kerny sa.
ReplyDeleteواہ شعیب واہ
ReplyDeleteزندگی میں پہلی مرتبہ شائد ڈائیوو میں سفر کیا آپ نے اپنی گاڑی کی بجائے اور اس سفر میں سے بھی سیاسی تعصب نکال لیا
کے پی کے کا بندہ ' پی ٹی آئی کا سپورٹر ' اور کیا چاہئے تھا آپ کو اک بلاگ بنانے کے لئے
ہیڈنگ تو جنرل تھی ' سفر کی روداد (اسلام آباد میں بھی جو چوریاں ہوتی ہیں قتل ہوتے ہیں سارے کے پی کے کے لوگ اور پی ٹی آئی کے فولوور ہی کرتے ہوں گے )
خیر برائی پچاس سال پہلے بھی چاروں صوبوں میں پائی جاتی تھی ' گالی پہلے بھی لوگ دیتے تھے ' سیاسی مذہبی سماجی تعصب پہلے بھی موجود تھا ' اخلاقی گراوٹ پہلے بھی تھی ' جبکہ پڑھے لکھے یار لوگ اس سب کا اکیسویں صدی کے چودھویں ' پندرھویں سال میں موجود مخالف سیاسی جماعت کو موجد سمجھتے ہیں -
جہاں تک بات بھاشن کی ہے تو آپ کی اپنی پسندیدہ شخصیتیں کسی بھی لیڈر کی پیروی کے بغیر ہی چوبیس گھنٹے تعصب کی آگ میں جلتے رہتے ہیں ' ذاتی ترقی کا دعوی کرتے ہوئے ہاہاہاہاہاہا
ہم سے تو کسی سیاسی خدا کی پرستش نہیں ہوتی !
آپ کا ذاتی تعصب اور زیبِ داستان صاف نظر آ رہی اس داستان میں جو حقیقت نہیں محض فسانہ ہے اور پٹواری ذہنیت کا شاخسانہ ہے۔ ڈائیوو میں سفر کرکے شاید آپ ہواؤں میں اڑ رہے ہیں جب بس ہوسٹس ہیڈ فون دیتی ہے تو پرانا واپپس بھی لیتی ہے شاید آپ کو علم نہ ہو
ReplyDelete