Sunday, 17 May 2015

کیری آن ناصر

گرمیوں کے دن تھے - ڈیرہ غازی خان کی تپتی دوپہر ، سورج سوا نیزے پر تھا - کڑی دھوپ سے بےنیاز کالونی کے ایک کونے میں واقع کرکٹ گراؤنڈ پر دو ٹیمیں آپس میں گتھم گتھا تھیں - میزبان ٹیم کا پلہ بھاری نظر آتا تھا کہ پانچ وکٹیں گرنے کے باوجود ان کے جارح مزاج اوپنر ناصر میاں ابھی تک کریز پر موجود تھے - رن چیز ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا کہ سدا کے جلد باز ناصر میاں نے اچانک ہی آگے بڑھ کر شاٹ مارنے کی کوشش کی اور فیلڈر کو کیچ تھما بیٹھے - امپائر نے آؤٹ قرار دیا مگر ناصر میاں کریز چھوڑنے کو تیار نہ تھے - ان کا خیال تھا کہ بال کندھے سے اونچی تھی اور اسے نو بال قرار دیا جانا چاہیے - امپائر ہرچند کہ میزبان ٹیم کا ہی ایک کھلاڑی تھا مگر اتنی کھلی بے ایمانی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا - تھوڑا رولا ڈالنے کے بعد ناصر میاں جھکتے بکتے پویلین کی طرف روانہ ہوئے اور سارا ملبہ اپنی غلط شاٹ کی بجائے امپائر پر ڈال دیا کہ جنہوں نے انھیں نو بال پر آؤٹ قرار دیا - ناصر میاں کے آؤٹ ہونے کے بعد باقی بیٹسمین ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور میزبان ٹیم میچ ہار گئی - میچ کے بعد ناصر میاں نے خوب شور مچایا کہ یہ ہار انکی غلط شاٹ نہیں بلکہ امپائر کے غلط فیصلے کی وجہ سے مقدر بنی تھی ، مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے -

ناصر میاں کی خوبیاں کیا بیان کی جایئں ، بس یہ سمجھ لیں کہ خطاؤں سے مبرا ایک انسان تھے جناب - اپنی غلطی کبھی بھی تسلیم نہ کرنا انکا طرہ امتیاز تھا - اور اپنی کسی بھی ناکامی کا ملبہ دوسروں کے سر ڈالنے میں ید طولی رکھتے تھے - اک عجب سا پیرا نویا تھا ان کو ، ہر بندہ اپنے خلاف سازش کرتا ہوا نظر آتا تھا - جب کسی ٹیم کے ساتھ میچ نہیں ہوتا تھا اور شام کو آپس میں پریکٹس میچ کھیلا جاتا تھا تب بھی ناصر میاں کا عجیب ہی رویہ ہوا کرتا تھا - فلاں لڑکے کو اپنے ساتھ پریکٹس نہیں کرانی ، یہ دوسری ٹیم کا ہے اور ہمیں آؤٹ کرنے کے طریقے سیکھ رہا ہے - فلاں بندہ ہماری باتیں سب کر ہمارا گیم پلان سمجھ رہا ہے وغیرہ وغیرہ - الغرض یہ ذہنیت کھیل کے میدان تک محدود نہ تھی ، پڑھائی میں بھی حالات چنداں مختلف نہ تھے - محنتی ہونے کے باوجود کبھی ٹاپ تھری پوزیشنز پر نہ آ سکے ، وجوہات ہمیشہ مختلف ہوا کرتی تھیں ، کبھی قلم عین کمرہ امتحان میں دغا دے جاتا ، کبھی ایکسٹرا شیٹ ممتحن دیر سے دیتا اور وقت کی کمی کی وجہ سے پیپر پورا نہ کر پاتے - کبھی ٹاپ تھری پر آنے والوں نے نقل کر کے ناصر میاں کا حق مارا ہوتا اور کبھی شدید گرمی میں ہونے والے امتحان میں ان کے عین اوپر موجود پنکھا جواب دے جاتا اور پیپر کا ستیاناس ہو جاتا - الغرض پوری کائنات اس کوشش میں ہوتی کہ ناصر میاں کہیں ٹاپ تھری پوزیشنز میں سے ایک پر پراجمان نہ ہو جایئں - اب پوری کائنات ہی کسی کے خلاف متحرک ہو جائے تو ایک تنہا انسان کہاں تک مقابلہ کرے - بیچارے ناصر میاں کو پانچویں یا چھٹی پوزیشن پر ہی اکتفا کرنا پڑتا -
وقت گزرتا چلا گیا - کرکٹ اور دوسرے کھیل خواب و خیال ہو گئے - ایف ایس سی کے بعد سب دوست بھی یہاں وہاں بکھر گئے - کوئی ڈاکٹر بنا تو کوئی انجنیئر ، کسی نے اپنا بزنس شروع کیا تو کوئی سرکاری ملازمت اختیار کر گیا - کچھ عرصہ پہلے قبل ایک بچپن کے دوست سے ملاقات ہوئی تو ناصر میاں کا بھی ذکر آیا ، پتا چلا کہ جناب کے رویے میں بہت زیادہ مثبت تبدیلی آ گئی ہے - زمانے کے نشیب و فراز نے سمجھا دیا ہے کہ انسان کو ملتا وہی ہے جس کے لیے اپنے زور بازو سے کوشش کی جائے اور تن من دھن کی بازی لگائی جائے - ناصر میاں کو آگہی بی ایس سی کے دوران ملی اور وہیں سے ان کی کایا کلپ ہو گئی - ایم ایس سی پاکستان کی اچھی یونیورسٹی سے کرنے کے بعد جناب ایک سرکاری ادارے میں گریڈ سترہ کے افسر لگے - اب گریڈ اٹھارہ میں پروموٹ ہو چکے ہیں - زندگی آسان ہے اور راوی چین ہی چین لکھتا ہے -
ناصر میاں نے تو اپنا سبق سیکھ لیا اور خود ترسی و خود ترحمی کے احساس سے جان چھڑا لی - مگر آپ کو اپنے آس پاس بہت سے لوگ ایسے نظر آیئں گے جو خود ترحمی کے احساس سے نکلنا ہی نہیں چاہتے - اپنی زندگی میں ہونے والی ہرشکست ہر ناکامی کا ملبہ دوسرں پر ڈالنا اپنا فرض سمجھتے ہیں - کبھی یہ سمجھنا نہیں چاہتے کہ کبھی کبھار آپ کی سو فیصد کاوش بھی جیت کو پانے کے لیے کم پڑ جاتی ہے - ایسا کرنا اس لیے بھی آسان نظر آتا ہے کہ اس کے بعد اپنے آپ میں بہتری لانے کی کوئی کوشش نہیں کرنی پڑتی جو کہ ایک مشکل امر ہے - آپ کو جب بھی اپنے آس پاس کوئی ایسا شخص نظر آئے تو اس کے کندھے پر تھپکی دے کر وہی فقرہ بولیں جو ہم بچپن میں اپنے دوست ناصر کو بولا کرتے تھے ، "کیری آن ناصر" - شاید کسی دن وہ بھی اپنی اصلاح کر لے -

5 comments:

  1. لکھتے رہیے، شعیب میاں۔۔۔ بہت عمدہ ہے۔۔۔

    ReplyDelete
  2. جیسے آج کا آگے بڑھنے کا دعوی کرنے والا پاکستانی آگے دیکھنے کی بجائے ' وہ بہت بہت صدیوں پیچھے بنو امیہ بنو عباس کو دیکھ رہا ' سقوط بغداد و سقوط غرناطہ کو دیکھ رہا ' غوری ' ابدالی ' مغلوں کو دیکھ رہا ' برصغیر متحدہ ہندوستان کی پسماندگی و جہالت و جذباتیت کو دیکھ رہا ' کوس رہا ' صلواتیں سنا رہا ' اپنی (اجتماعی ) ہرشکست ہر ناکامی کا ملبہ دوسرں پر ڈالنا اپنا فرض سمجھ رہا ' مگر بڑھ آگے رہا بقول اس کے :)
    پتا نہیں آگے بڑھنا کس کو کہتے ہیں

    سائنسی ایجاد میں نے کی ہی نہیں
    اتنی عقل مجھ میں تھی ہی نہیں

    مُلّا کو گالی دینے میں پیش پیش
    کچھ کرنے کی سکت تھی ہی نہیں

    آگے بڑھنے کا فقط شور ہمہ وقت
    ماضی چھوڑنے کی طاقت تھی ہی نہیں

    مثبت رہنے کے بے حساب بھاشن
    اپنی زبان کو لگام ڈالی تھی ہی نہیں

    غیر جانبداری کے دعوے بے شُمار
    برابری کبھی دِکھائی تھی ہی نہیں

    کافِر کہنے پر غصہ اِنْتِہا پر پہنچے
    جاہِل کہنے کی عادَت گئی تھی ہی نہیں


    کن کو سنا رہے شعیب میاں
    سنے کون تیرا قصہ درد دل

    جیتے رہو ' خوش رہو

    ReplyDelete
  3. زبردست۔ بہت عمدہ ہے۔
    تحریر میں نکھار آ رہا ہے۔ ماشاءاللہ

    ReplyDelete