Monday, 11 May 2015

قصہ ایک پردیسی کا

یہ قصہ ایک عزیز نے سنایا - شاید بہت سے لوگوں کو محسوس ہو کہ یہ کہانی ان کی اپنی ہے - ہمارے معاشرے کا عام چلن یہی ہے جو اس قصے میں بیان کیا گیا -  ایک بیان کردہ قصہ دوستوں کی نظر کر رہا ہوں ۔۔۔ 

وہ ایک کھلنڈرا سا لڑکا تھا - متوسط گھرانے سے تعلق تھا - ایسا نہیں تھا کہ دولت کے انبار ہوں مگر زندگی سکون سے گزر رہی تھی ، بنیادی سہولیات سب مہیا تھیں - پڑھائی میں بس گزارے لائق ہی تھا - گرتے پڑتے گریجویٹ کیا - پاکستان میں نوکری سڑک پر پڑی تو ملتی نہیں ، انجنیئر اور ایم بی اے کی قدر نہیں ، ایک گریجویٹ کی دال کہاں گلتی - ایک دو جگہ چھوٹی موٹی نوکری کی مگر بات نہ بن سکی - تنگ آ کردیار غیر میں قسمت آزمائی کی ٹھانی - والدین کو ہمنوا بنایا اور برطانیہ کے لیے رخت سفر باندھ لیا - 

برطانیہ پہنچا تو پتا چلا کہ پیسے یہاں بھی درختوں پر نہیں لگتے ، جان مارنی پڑتی ہے پھر کہیں جا کر چار پیسے ہاتھ آتے ہیں - ہاں یہ ضرور ہے کہ کرنسی ریٹ میں تفاوت کی وجہ سے یہاں کا ایک پاؤنڈ پاکستان پہنچتے پہنچتے ایک سو چون روپوں میں تبدیل ہو جایا کرتا ہے - وائٹ کالر جاب ملنا آسان نہیں نہ ہی یہاں  پاکستانی ڈگری کی کوئی وقعت ہے - کچھ دھکے کھانے کے بعد ایک ڈیپارٹمنٹل اسٹور کے کیش کاؤنٹر پر نوکری مل ہی گئی - چھ ماہ یونہی گزرے - بیرون ملک جا کر نوٹ چھاپنے کے سہانے سپنے ایک ایک کر کے دم توڑ رہے تھے - برطانیہ میں رہن سہن کے اخراجات بھی کافی زیادہ تھے - یہاں کے اخراجات سے پیسے بچا کر پاکستان بھیجنا ایک مشکل مگر ضروری امر تھا - گھر بار ، بہن بھائیوں ، دوستو یاروں سے دور پردیس میں رہنا ایک جان لیوا تجربہ ثابت ہو رہا تھا - وہ ماں کے ہاتھ کے بنے کھانے ، وہ بہنوں کا ناز نخرے اٹھانا ، وہ دوستوں کی محفلیں سب خواب و خیال ہو چکی تھیں - زندگی میں کبھی ہل کر پانی نہ پیا تھا مگر یہاں تو کھانا بھی خود ہی بنانا پڑتا تھا کہ روز روز باہر کھانا کهانے کی عیاشی نہیں کی جا سکتی تھی - زندگی بس ایک دائرے میں گھوم رہی تھی، وہی لگے بندھے معمولات ، صبح کام پر جانا اور شام کو گھر آنا، پھر وہی ایک کمرہ جو ایک بنگالی ایک انڈین اور ایک پاکستانی کے ساتھ مل کر کرائے پر لیا گیا تھا - گوروں کا حقیقی دیس انگلش فلموں میں دکھائے گئے گوروں کے دیس سے بہت مختلف تھا - پیسہ مینہ کی طرح برس رہا ہوتا تو شاید یہ سب گوارا بھی ہو جاتا مگر یہاں تو پیسے پاکستان بھیجنے کے بعد مہینہ عزت سے گزر جائے یہی بہت تھا -

ٹھیک چھ ماہ بعد پاکستان سے فون آیا ، بہن کی شادی سر پر تھی اور بہن کے سسرال والے باتوں باتوں میں جتا چکے تھے کہ لڑکی کا بھائی تو برطانیہ میں ہوتا ہے ، مطلب فلاں فلاں اور فلاں چیز تو لڑکی ساتھ ہی لائے گی - باپ پریشان تھا اور بیٹے کو کہہ بیٹھا کہ لوگ باہر جاتے ہیں تو بریف کیس بھر بھر کر نوٹ بھیجتے ہیں ،تم بس یہی پچیس ہزار بھیج دیتے ہو ہر ماہ - آخر دل لگا کر وہاں کام کیوں نہیں کرتے تاکہ ہمیں بھی پاکستان میں سکھ کا سانس آئے - اور یہ بھی کہ نالائق بندہ نالائق ہی رہتا ہے چاہے پاکستان میں ہو یا برطانیہ میں - باپ نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا مگر بیٹا اس رات سو نہ پایا - پچھلے چھ ماہ کی ریاضت اور فون پر کہی باپ کی باتیں ذہن میں گڈ مڈ ہوتی رہیں -

اگلی صبح بھی سورج مشرق سے ہی نکلا تھا مگر اس کا جہان بدل چکا تھا - اب اسے بس پیسا کمانا تھا ، حلال حرام میں فرق کیے بنا - اس تفصیل میں جانا بیکار کہ پردیس میں  کیا کیا کام کیے اور کیا نہ کیے - مگر یہ ضرور تھا کہ بہن کی شادی دھوم دھام سے ہو گئی - اتنا جہیز دیا کہ سسرال والوں کے منہ بند ہو گئے - اس کے بعد تو چل سو چل ، جیسے شیر کے منہ کو انسانی خون لگ جائے تو پھر وہ آدم خور ہو جاتا ہے ، اسی طرح جب حرام کھانے کی عادت پڑ جائے تو حلال کی طرف دل مائل ہونا تقریباً ناممکن ہو جایا کرتا ہے - پہلے بھائی کی فرمائش آ گئی ون ٹو فائیو بائیک کی ، اس سے فراغت ہوئی تو چھوٹی بہن کو آئی فون سکس بھا گیا کہ کالج کی ایک دوست کے پاس بھی وہی فون تھا - یہ دو فرمائشیں نبیڑکر سانس لیا ہی تھا کہ کچھ ہی عرصے بعد ابا کو یاد آیا کہ کب تک خیبر گاڑی چلایئں گے ، اب اپ گریڈ کرنا چاہیے - قرعہ ٹویوٹا کے نام نکلا کہ شریکوں کے پاس بھی وہی گاڑی تھی - فرمائش مہنگی تھی سو ہاتھ بھی لمبا مارنا پڑا اور وقت بھی زیادہ لگا ، مگر جیسے تیسے کر کے یہ خواہش بھی پوری کر ہی دی - بس پہلی بار ہی ضمیر کو سلانا مشکل ہوا کرتا ہے ، اس کے بعد آسانی ہی آسانی ہے ، کبھی تنہائی میں ضمیر کچوکے لگائے بھی تو سب الزام گھر والوں پر ڈال کر خود بری الزمہ ہو جانا ایک آسان امر ہے -

برطانیہ آئے تین سال بیت چکے تھے ، گھر بار ، والدین  بہن بھائیوں اور دوستوں کی یاد ستا رہی تھی - سوچا کہ پاکستان کا چکر لگایا جائے - سرپرائز کے چکر میں پاکستان میں کسی کو خبر نہ کی کہ پاکستان آنے کا پلان ہے - جو اچانک گھر کے دروازے پر نمودار ہوا تو گھر والوں کے لیے خوش گوار سرپرائز سے زیادہ ایک ڈراؤنا خواب بن گیا کہ کہیں ڈی پورٹ ہو کر تو نہیں آ گیا واپس - سب سے پہلے ابّا نے پوچھا ، خیر سے آیا ہے نہ پتر - جب پتا چلا کہ چھٹی آیا ہے تو سب کی جان میں جان آئی - پہلا سوال جو ماں نے پوچھا وہ نہ حال احوال کا تھا نہ ہی وہاں گزارے شب و روز کے بارے میں - وہ سوال تھا کہ کتنی چھٹی آیا ہے پتر - الله خیر سے واپس لے کر جائے ابھی تو بہت خرچے سر پر ہیں - اس کو اک عجب سا احساس ہوا - وہ ولولہ وہ جوش و خروش جو دل میں لے کر برطانیہ سے چلا تھا کچھ ماند سا پڑ گیا - کچھ دیر غائب دماغی کی حالت میں گھر والوں کے ساتھ بیٹھا رہا پھر تھکن کا بہانہ بنا کر اپنے کمرے میں چلا آیا - لیٹے لیٹے ہی آنکھ لگ گئی - اٹھا تو شام ہو چکی تھی - باہر آیا تو چھوٹے بہن بھائی سامنے ہی بیٹھے تھے - ان کا سارا جوش و جذبہ صرف اس بات پر تھا کہ بڑا بھائی ان کے لیے کیا لایا ہے - سب خاندان والوں کے لیے لائے تحفے  انکے حوالے کیے مگر اپنے اندر کی گھٹن کچھ اور بڑھ گئی - وہ پرانے رشتے تو جیسے کہیں کھو ہی گئے تھے - بس ایک ہی رشتہ باقی رہ گیا تھا - پیسے کا رشتہ - اسے ایسا لگنے لگا انسانی رشتے غرض پر ٹکے ہوتے ہیں ۔ اسکا  کوئی ٹھکانہ نہ رہا ۔ نہ دنیا میں نہ ہی  آخرت میں - ایک کسک دل میں لیے وہ واپس چلا گیا - 

شاید اپنے اور خاندان کے بہتر مستقبل کی خاطر پردیسی ہو جانے والوں کا پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ بس ایک ہی رشتہ رہ جاتا ہے ، ضرورت کا رشتہ ، غرض کا رشتہ -  

7 comments:

  1. کمال واقعی کمال

    👏🏻👏🏻👏🏻👏🏻👏🏻

    ReplyDelete
  2. Shuaib bhai rulao gye kya... :-(

    ReplyDelete
    Replies
    1. ارے یار جواد - تم کیوں اداس ہوتے ہو - خوش رہو آباد رہو :)

      Delete
  3. کمال ہے۔۔۔ عجیب کیفیت طاری ہوگئی پڑھ کے۔

    ReplyDelete
  4. حرام کا پیسہ یونہی خون کے رشتوں کو پانی کرتا ہے

    ReplyDelete
  5. پیسہ ہی دین ایمان ٹهہرا

    ReplyDelete
  6. بہت عمدہ جناب۔ کمال کر گے۔ ایسی بہت سی کہانیاں میں بذات خود جانتا ہوں جو لڑکے پاکستانیوں کی بےرُخی کی وجہ سے ذہنی مریض تک بن گے۔ اللہ زور قلم اور زیادہ کرے۔ اچھا لگا پڑھ کر۔

    ReplyDelete