Wednesday, 29 April 2015

کہانی دو گدھوں کی

کسی دور دراز ملک کے دور افتادہ علاقے کے ایک کونے میں دو بڑے بڑے باڑے ساتھ ساتھ تھے - ایک باڑا بہت شاندارہرا بھرا ، پانی بھی وافر موجود ، دوسرا باڑا بس اڑتی ہوئی خاک کہیں کوئی ٹاواں ٹاواں گھاس کے چھوٹے چھوٹے قطعات اور پانی بھی بس پورا پورا ہی - شاندار باڑے میں زیبروں کا غول رہائش پذیر جبکہ مفلوک الحال باڑے میں گدھوں کا غول رہائش پذیر - اپنی اپنی قسمت پر قانع دونوں غول اپنی زندگی جے جا رہے تھے - نجانے کیسے زیبروں کے غول میں دو چھوٹے چھوٹے گدھے کے بچے بھی تھے، نہیں معلوم کیسے وہ گدھوں کے غول سے زیبروں کے غول میں دوسرے باڑے میں چلے گئے - پر جب سے ہوش سنبھالا اپنے آپ کو زیبروں کے ساتھ ہی پایا - اچھی خوراک ، وافر پانی صحت پر اچھا اثر چھوڑتے نظر آتے تھے تبھی وہ گدھے کے بچے دیکھنے میں کوئی اتنے گدھے نظر نہ آتے تھے - زیبرے ان کے بارے میں کیا سوچ رکھتے تھے، کچھ کہنا مشکل تھا - پر یہ ضرور تھا ان گدھے کے بچوں پر کوئی روک ٹوک نہ تھی - کچھ بچہ زیبروں نے اپنے سے اس مختلف مخلوق سے الجھنے کی کوشش کی بھی تو نہایت نرمی سے انھیں منع کردیا گیا کہ ایسی حرکتیں مناسب نہیں ، جب ساتھ رہنا ہے تو ہنسی خوشی رہنا ہی بہتر - البتہ یہ ضرور تھا کہ ان گدھے کے بچوں کے بارے کچھ زیبروں میں کانا پھوسی چلتی رہتی تھی، مگر کبھی ان گدھے کے بچوں کے منہ پر کسی نے کوئی بات نہ کی -
وقت گزرتا گیا ، گدھے کے بچے بڑے ہو کر پورے کے پورے گدھے ہو گئے - خوراک اور پانی کی فراوانی نے آنکھوں پر ایسی پٹی باندھی کہ اپنی اصل ہی بھول گئے - ساتھ والے باڑے کے گدھوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا اور ان پر دیگر زیبروں کے ساتھ مل کر آوازے کسنا معمول بن گیا  - گدھے بیچارے مجبورولاچار نہ اچھی خوراک نہ ہی پانی میسر بس انکے آوازے سنتے اور اوپر آسمان کی طرف دیکھ کر نجانے کیا فریاد کرتے رہتے تھے - اوروں کا تو کوئی گلہ نہ تھا پر جو تکلیف اپنے دیتے تھے اس کا تو کوئی مداوا ہی نہ تھا - باڑوں کی حفاظتی باڑ  اتنی مضبوط تھیں کہ کہ ٹوٹنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا - وقت کا دھارا بہتا رہا-  ایک رات  خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ کہ شدید طوفان آیا - ایسا کہ کبھی کسی نے دیکھا نہ سنا - بڑے بڑے درخت جڑوں سے اکھڑ گئے ، کیا گدھے کیا زیبرے سب دبک کربیٹھے رہے اور انتظار کرتے رہے کہ یہ گھڑی بخیروعافیت گزر جائے - پھر جیسا کہ وقت اچھا ہو یا برا، گزر ہی جاتا ہے یہ طوفان بھی گزر گیا - صبح جب زیبروں اور گدھوں نے باہر نکل کر دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ دونوں باڑوں کے بیچ کی حفاظتی باڑ میں ایک بڑا شگاف پڑ چکا ہے - بظاہر اب گدھوں کے زیبروں کے باڑے میں جانے میں کوئی رکاوٹ نہ رہی تھی - گدھے بیچارے ساری زندگی سر جھکا کر مرعوب ہو کر گزاتے رہے تھے ، اپنے اندر اتنی ہمت کہاں سے پیدا کرتے کہ اس شگاف کو عبور کر کے دوسری طرف جا سکیں - بس ٹکر ٹکر اس شگاف اور ہری بھری گھاس کو دیکھا کرتے -
کچھ دن ایسے ہی گزر گئے - دوسری طرف زیبروں کے غول میں کھلبلی مچ چکی تھی - ایک خفیہ اجلاس بلایا گیا جس سے ان دو گدھوں کو لاعلم رکھا گیا - اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس سے پہلے کہ گدھے ہمت پکڑیں اور اس شگاف کو عبور کرنے کی کوشش کریں - ایک ہی بار زیبروں کو خود شگاف عبور کر کے گدھوں پر حملہ کرنا چاہیے تاکہ ان کے دل میں اگر کسی قسم کا خیال ہے بھی شگاف عبور کرنے کا تو وہ اسکی جرات ہی نہ کر سکیں - حملے کے لیے اگلی صبح کا وقت رکھا گیا - صبح ہوئی تو زیبروں نے صف بندی کی ، اپنے ساتھ رہنے والے دونوں گدھوں کو عین اسی وقت بتایا گیا کہ منصوبہ کیا ہے - دونوں گدھے جو پچھلے  کچھ دنوں میں کافی دفعہ شگاف عبور کر کے دوسرے باڑے جا چکے تھے اور اب اپنی نسل سے تھوڑی بہت ہمدردی محسوس کر رہے تھے ، حملے کا منصوبہ سن کر ششدر رہ گئے - فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا تھا، دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا - اور خدا جانے دل ہی دل میں کیا فیصلہ کیا اور زیبروں کی صف بندی میں شامل ہوگئے- یکایک زیبروں کے سردار نے آواز لگائی اور پورے غول نے تیزی کے ساتھ شگاف کی طرف بھاگنا شروع کیا - دوسری جانب گدھوں کے غول نے شگاف کے اس جانب دھول اٹھتے دیکھی تو کچھ  سمجھ نا سکے کہ ماجرا کیا ہے ، اتنے سیانے ہوتے تو گدھے کاہے کو کہلاتے غریب -ابھی سنبھلنے بھی نا پائے تھے کہ زیبرے ہینگتے ہوئے شگاف میں سے انکے باڑے میں داخل ہو گئے - اتنا زوردار ہلا بولا کہ گدھوں کا غول تتر بتر ہو گیا ، جس کا جدھر کو منہ تھا اسی طرف بھاگ نکلا - چند ایک گدھوں نے مقابلے کی کوشش کی پر زخم اٹھاتے ہوئے پسپا ہونا ہی مقدر ٹھہرا کہ قدرت  اپنے اصول صرف کسی کی مظلومیت پر ترس کھا کر بدلا نہیں کرتی - کم و بیش ایک گھنٹے تک یلغار جاری رہی - گدھوں کے غول کی رہی سہی ہمت بھی توڑ دی گئی - فاتح زیبرے فتح کے جھنڈے لہراتے اپنے باڑے کی طرف داخل ہوئے تو یکایک کسی کو ان دو گدھوں کا خیال آیا- ڈھنڈیا  پڑی تو دونوں کہیں نظر ہی نہ آئے ، نہ ہی زیبروں کے باڑے میں اور نہ ہی گدھوں کے باڑے میں - خدا جانے انکو زمیں نگل گئی یا آسمان - خیر وہ کونسے کسی کے چہیتے تھے کہ انکے لیے پریشان ہوا جاتا - نہ زیبروں کے جگر کے ٹکڑے نہ ہی گدھوں کے دل کا چین - سو بھلا دئیے گئے -

کسی کہنے والے نے کہا کہ غالباً گدھوں اور زیبروں میں سے کسی ایک کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرنے میں قاصر رہنے کے بعد لڑائی شروع ہوتے ہی دونوں گدھے باڑے کے ایک کونے میں موجود تنگ سے سوراخ سے نکل کر دونوں باڑوں سے دور کسی نامعلوم منزل کی طرف روانہ ہو گئے تھے - اس کے علاوہ چارہ بھی کیا تھا ، وہ جو اپنی اصل بھول جایئں ایسے ہی بے نام و نشان اور بے منزل ہو جایا کرتے ہیں- 

13 comments:

  1. ماشاللہ . بڑی خوشی ہوئی برادر کو پڑھ کر - ویسے وہ دو گدھے سیانے نہیں نکلے . اگر اپنے قبیلے کا ساتھ دیتے تو وہ بھی کچلے جا چکے ہوتے - جان تو بچ گئی نہ بیچاروں کی -

    ReplyDelete
  2. بہت خوب واقعی اپنی پہچان بھلانے والے اسی طرح بےنام و نشان رہ جاتے ہیں

    ReplyDelete
  3. شعیب بھائی اچھی کوشش ہے.آخر میں بات کا رخ نہیں موڑا یہ واقعی قابل تعریف امر ہے.بلاگرز کی صفوں میں خوش آمدید.لکھتے رہیں

    ReplyDelete
    Replies
    1. آج کل ماحول کچھ ایسا بن گیا ہے کہ لوگ ہر چیز کو سیاست سے جوڑ دیتے ہیں - اس بلاگ کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں تھا - بس ایک نوحہ تھا اس نسل کے بارے جو ہنس کی چال چلتے چلتے اپنی بھی بھول گئی

      Delete
  4. خوبصورت تحریر .. پڑھ کر مزہ آیا

    ReplyDelete
  5. ماشاءاللہ اعلٰی کوشش.
    بےشک جو اصل بھول گیا وہ منزل بھول گیا

    ReplyDelete
  6. آپ بھی اچھا لکھتے ہیں

    ReplyDelete
  7. واہ شعیب بھائی بہت عمدہ پڑھنے کا مزہ بھی آیا......بہت اچھا لکھا ہے لکھتے رہیے

    ReplyDelete
  8. بہت خُوب.انسان کو جیسے بھی ہو زندگی اپنے اور اپنوں جیسوں میں گُزارنی چاہیے.

    ReplyDelete
  9. ہمممممممممم

    پہلے ' لوگ ' ہر بات کو مذہب سے جوڑا کرتے تھے ' مذہبی لوگوں کا رسپانس ہوتا تھا
    بینگنگ ہیڈ آن دا ڈیسک
    آج ہر بات کو ' لوگ ' سیاست سے جوڑ دیتے ہیں ' سیاسی نسبت والے
    بینگنگ ہیڈ آن دا ڈیسک

    اٹس سائکلک اینڈ ریپیٹیٹوپراسس ' ہر ذی روح کو سامنا کرنا پڑتا ہے :)

    ویل اٹس گریٹ ٹو سی ' پہچان پر بات کی ' اصلیت ' اقدار ' بنیاد پر بات کی ' بہت اہم ناگزیر نکتہ (مگر اوپن اینڈڈ ' بتایا نہیں پہچان ہے کیا ' مذہب ؟ سیاست ؟ علاقہ ؟ روایات ؟ نظریات ؟ معاشرت ؟ تعلیم ؟ ذات ؟ )

    آپ کے گروہ والے جب املا کی اغلاط دیکھیں گے تو :پ
    چلو سلو سلو ٹھیک ہو ہی جائیں گی

    کیپ اٹ اپ !

    ReplyDelete
  10. جب تک بلاگ ختم نہ ہوا مجھے یہی لگا کہ اب سیاست کی طرف موڑا اور اب موڑا
    لیکن آپ نے سیاست سے پاک رکھا یہ خوش آئندہ بات ہے

    ReplyDelete
    Replies
    1. یہ خیال مکمل طور پر غیر سیاسی تھا - زبردستی سیاست کی طرف موڑتا تو اپنے خیال سے زیادتی ہوتی

      Delete
  11. ماشاءاللہ آغاز بہت اچھا کیا ہے۔
    ایسے ہلکےپھلکے انداز میں کہی بات اثر بھی خوب رکھتی ہے۔

    ReplyDelete